’تفتیشی رپورٹ پر کارروائی کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اقوامِ متحدہ سے کہا ہے کہ وہ لبنان کے سابق وزیرِ اعظم کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ پر جلد از جلد کارروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام ِمتحدہ فوراً اجلاس بلا کر اس رپورٹ پر بحث کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’ آج ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جسے دنیا کی توجہ کی ضرورت ہے اور جس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے‘۔ یہ رپورٹ اقوام ِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی خواہش پر تیار کی گئی ہے اور سکیورٹی کونسل اس رپورٹ پر غور کرنے کے بعد شام پر پابندیاں بھی لگا سکتی ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے تفتیش کار نے اپنی حتمی رپورٹ سے شام کے صدر بشر الاسد کے بھائی مہر الاسد اور برادرِ نسبتی آصف شوکت کے نام حذف کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے یہ نام ان افراد کو ’بے گناہ تصور کرتے ہوئے‘ اس وقت حذف کیے جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کی خفیہ رپورٹ عام ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے حذف شدہ حصے میں ایک گواہ نے شام کے صدر کے رشتہ داروں پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پانچ اہم شامیوں میں شامل ہیں جنہوں نے سنہ 2004 میں رفیق حریری کے قتل کی سازش تیار کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام کی حکومت نے رپورٹ کی تیاری میں مکمل تعاون نہیں کیا۔ تاہم شام اور لبنان نے اس قتل کے معاملے میں کسی بھی قسم کے سرکاری ہاتھ کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ شام کے وزیرِ اطلاعات مہدی دخلالہ نے اس رپورٹ کو ایک’متعصب سیاسی رپورٹ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ’حقیقت سے کوسوں دور ہے‘ جبکہ لبنانی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش میں شامل ایک اہم شخصیت کے بھائی نے اس دھماکے سے چند لمحے قبل لبنانی صدر کو فون کیا تھا جس میں رفیق حریری مارے گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||