بیروت: شام مخالف رکن ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مشرقی مضافات میں ہونے والے ایک طاقتور بم دھماکے میں شام مخالف رکن پارلیمان اور صحافی جبران توینی سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جبران توینی کی عمر اڑتالیس سال تھی اور انہیں لبنان پر شام کے قبضے کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ گزشتہ جون میں انہیں پارلیمان کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔ سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے وہ کئی مہینوں تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رہ رہے تھے اور اتوار کو ہی لبنان واپس آئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کار بم سے اس وقت کیا گیا جب جبران توینی کا کارواں مسیحی آبادی والے ایک علاقے سے گزر رہا تھا۔ جائے وقوع کے قریب کئی عمارتوں میں بھی آتشزدگی کی اطلاع ہے۔ جبران توینی النہار نامی اصلاح پسند اخبار کے مینیجنگ ایڈیٹر تھے۔ آج کا حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم اپنی رپورٹ سکیورٹی کونسل کو پیش کرنے والی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ بیروت میں رفیق حریری کی ہلاکت کے بارے میں اس رپورٹ میں شام کے مبینہ کردار کے بارے میں کچھ تفصیلات سامنے آئیں گی۔ گزشتہ فروری میں حریری کی ہلاکت کے بعد سے شام مخالف اور مسیحی آبادی والے علاقوں میں کم سے کم چودہ دھماکے ہوئے ہیں۔ لبنان کے معروف سیاست دان ولید جنبلاط نے آج کے دھماکے کے لیے شام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ’میں یہی سمجھتا ہوں۔ توینی کو نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہ آزادی کے علمبردار تھے۔‘ شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں شام کی حکومت نے کہا ہے کہ آج کا دھماکہ ایک ایسے وقت کیا گیا تاکہ اس کے لیے براہ راست شام پر الزام لگایا جاسکے۔ | اسی بارے میں حریری کا قتل، شام پر شک21 October, 2005 | آس پاس ’تفتیشی رپورٹ پر کارروائی کی جائے‘22 October, 2005 | آس پاس شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں31 October, 2005 | آس پاس شام:عدم تعاون کا الزام پھرمسترد01 November, 2005 | آس پاس شام شرائط ختم کرے: امریکہ11 November, 2005 | آس پاس حریری قتل رپورٹ: شام پر پھر الزام 12 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||