لبنان میں سیاسی بحران سنگین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں کئی شام نواز وزیروں نے وزیراعظم کے خلاف احتجاجاً حکومتی کاموں میں شمولیت ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے اور لبنان میں سیاسی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لبنانی وزیراعظم فواد السنیورہ نے بیروت کے مشرقی مضافات میں بم دھماکے میں شام مخالف رکن پارلیمان اور صحافی جبران توینی سمیت چار افراد کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ لبنان میں شام مخالفوں کی ہلاکت کی تحقیقات وہ کرے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے مقتول لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے معاملے کی تفیش کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکار نے کہا تھا کہ نئے شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کہ ہلاکت میں شامی انٹیلیجنس اہلکار اور ان کے لبنانی ہم منصب ملوث تھے۔ جبران توینی کی عمر اڑتالیس سال تھی اور انہیں لبنان میں شامی موجودگی کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ انہیں گزشتہ جون میں پارلیمان کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔ اپنے تحفظ کے بارے میں خدشات کی وجہ سے وہ کئی ماہ سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رہ رہے تھے اور اتوار کو ہی لبنان واپس آئے تھے۔ وہ النہار نامی اصلاح پسند اخبار کے مینیجنگ ایڈیٹر تھے۔ شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے ذریعے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں شام کی حکومت نے کہا ہے کہ لبنان میں دھماکہ ایسے وقت کیا گیا کہ شام پر براہ راست الزام لگایا جاسکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی تفتیشی رپورٹ اور لبنان میں نئی ہلاکتوں کے بعد دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ | اسی بارے میں دھماکہ: شام مخالف رکن پارلیمان ہلاک 12 December, 2005 | آس پاس حریری قتل رپورٹ: شام پر پھر الزام 12 December, 2005 | آس پاس شام شرائط ختم کرے: امریکہ11 November, 2005 | آس پاس شام:عدم تعاون کا الزام پھرمسترد01 November, 2005 | آس پاس حریری کا قتل، شام پر شک21 October, 2005 | آس پاس ’تفتیشی رپورٹ پر کارروائی کی جائے‘22 October, 2005 | آس پاس شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں31 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||