BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 December, 2005, 19:13 GMT 00:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروت: شام کے خلاف نعرے بازی
جبران توینی کا تابوت
اس ہلاکت سے لبنان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے
شام مخالف صحافی اور رکن پارلیمنٹ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے آنے والے ہجوم نے شام کے خلاف نعرے بازی کی۔

لبنان کے دارالحکومت میں سوگوار لوگ گریک آرتھوڈوکس چرچ تک گئے۔ اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

ہجوم میں بعض لوگوں نے رکن پارلیمنٹ جبران توینی کے قتل کا الزام شام پر عائد کیا۔ شام کی حکومت نے اس واقعہ سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

یہ ہلاکت سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد لبنان میں شام مخالف لابی کے ایک بہت بڑے رہنما کی موت ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کار دیتلیو مہلیس نے منگل کے روز سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ ان کی اب تک کی تفتیش سے ان باتوں کو تقویت ملی ہے کہ شام اور لبنان کی خفیہ ایجنسیاں اس قتل میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب شام نے رفیق حریری کی ہلاکت میں کسی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس ہلاکت کے بعد لبنان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور بالآخر شام کو اپنی فوجیں تین دہائیوں کے عرصہ کے بعد واپس بلانا پڑی تھیں۔

جبران توینی کی بیٹی نائلہ، باپ کے تابوت کے ساتھ
مرنے والے رہنما کی بیٹی تابوت کے ساتھ

جبران توینی کی آخری رسومات کے موقع پر ان کے والد نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اس موقع پر درخواست کرتا ہوں کہ بدلے اور نفرت کو دفن کر دیں اور سب لبنانی مسلمان اور عیسائی لبنان اور عرب کے مقاصد کی خدمت کے لیے متحد ہو جائیں‘۔

اس موقع پر لوگ ہزاروں کی تعداد میں تابوت کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ہجوم نے صدر لاہود کے خلاف بھی نعرہ بازی کی اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ہجوم نعرے لگا رہا تھا کہ ’ہمارا صدر شام کے جوتوں میں ہے‘۔

لوگ اپنے رہنما اور ان کے ساتھ مرنے والوں کے تابوتوں کو ہاتھ لگانے کے لیے بے چین تھے۔ مرنے والے رہنما کے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ سب لوگ کہہ رہے تھے کہ اس قتل و غارت کو اب رک جانا چاہیے۔

اسی دوران پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس میں مرنے والے صحافی کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

حزب اللہ تنظیم کے رہنما محمد رعد نے کہا کہ ’جبران ایک بہادر اور نہ جھکنے والے شخص تھے‘۔

بیروت اور دیگر کئی شہروں میں شام مخالف تنظیموں نے ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔

مرنے والے اڑتالیس سالہ رہنما حملے کے خدشے کے پیش نظر اگست میں فرانس چلے گئے تھے جہاں سے وہ صرف ایک روز قبل ہی واپس آئے تھے۔

پیر کے روز ہونے والا یہ دھماکہ صدر رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد تیرہواں بم دھماکہ ہے۔

66ہولوکاسٹ، ’افسانہ‘
ایرانی صدر احمدی نژاد کا ایک اور متنازعہ بیان
66بنگلہ دیش میں چھاپہ
پچاس کلو بارود، ستائیس گرنیڈ، بم بنانے کا سامان
66لبنان انتخابات میں تناؤ
لبنان انتخابات: اکثریت کس کی؟
اسی بارے میں
بیروت: شام مخالف رکن ہلاک
12 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد