لبنان انتخابات: تناؤ کی صورتحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے قریبی شمالی لبنان میں اتوار کو ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ ان انتخابات میں اس امر کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کہ کیا شام مخالف اپوزیشن پارٹی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر سکے گی؟ شام کی فوجوں کے انخلا کے بعد لبنان میں پہلی دفعہ انتخابات ہو رہے ہیں۔ شام مخالف سعد حریری گروپ کا شام نواز جنرل مشعل آؤن کے گروپ سے سخت مقابلہ ہے۔ آؤن کے گروپ نے خلافِ توقع ووٹنگ کے پہلے دور میں کامیابییاں حاصل کی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کے حریری گروپ سُنی مسلم علاقوں میں زیادہ ووٹ لے گا جبکہ آؤن کا گروپ کرسچین ووٹ حاصل کرے گا۔ سعد حریری کے والد وزیرِ اعظم رفیق حریری فروری میں ایک بم دھماکے میں قتل کر دیے گے تھے۔ حریری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کو شام کی ایما پر قتل کیا گیا تھا۔ حریری کے قتل کے بعد شام کے خلاف لوگوں کے مظاہروں اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت دمشق کو لبنان میں تیس سال سے تعینات فوجوں کو واپس بلانا پڑا۔ اگر چہ آؤن کی فوجوں نے لبنان کی اندرونی خانہ جنگی میں شام نواز فوجوں کے خلاف جنگ لڑی تھی مگر اب انتخابات میں انکے اتحادیوں میں سابقہ وزیرِ داخلہ سلیمان فرانجہ جیسے شام نواز سیاستدان شامل ہیں۔ ووٹنگ سے قبل انتخابات کی مہم میں دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے خلاف ڈرانے دھمکانے اور شام نوازی کے الزامات لگائے ہیں۔ آؤن کے گروپ نے کرپشن اور فرقہ واریت کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے گروپ نے انتخابات کے تیسرے راؤنڈ میں خاصی مقدار میں ووٹ لیے ہیں۔ حریری گروپ نے اب تک سو میں سے چوالیس نششتیں لی ہیں۔ حریری گروپ کو اتوار کو ہونے والی ووٹنگ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اٹھائیس میں سے اکیس نششتیں لینا ہوں گی۔ آؤن گروپ کو حریری کے مقابلے میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اٹھائیس میں سے سات نششتیں لینے کی ضرورت ہے۔ آؤن نے کیا ہے کہ انکا خیال ہے کہ انتخابات ہیں کوئی گروپ واضع کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا اس لیے سمجھوتے کی امید ہے۔ شام نواز پارٹیوں آمل اور حزب اللہ نے اب تک پینتیس نششتیں حاصل کی ہیں۔ بی بی سی کے بیروت میں نمائندہ کِم گھاٹاس کا کہنا ہے کہ چونکہ اتوار والے انتخابات شام کے قریبی علاقے شمالی لبنان میں ہو رہے ہیں اس لیے وہ سیاسی اور جذباتی طور پر خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||