لبنان سے شامی فوج کا مکمل انخلاء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں انتیس برس تک تعینات رہنے کے بعد شامی فوجوں نے علاقہ پوری طرح خالی کر دیا ہے۔ منگل کی صبح تقریباً دو سو شامی فوجی آخری پریڈ کے لیے بیکا ویلی میں جمع ہوئے۔ لبنانی ملٹری بینڈ کی گونج میں فوجیوں نے شامی صدر بشر الاسد کی حمایت میں نعرے بلند کیے اور میڈل وصول کیے۔ شامی فوجوں کو انیس سو چھہتر میں خانہ جنگی کے دوران لبنان بھیجا گیا تھا۔ لیکن لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد شامی فوج پر علاقہ چھوڑ دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔ رفیق حریری بیروت میں کا بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دمشق نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ تاہم اس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن کے دوران شامی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار کِم غطاز کا کہنا ہے کہ شامی فوج لبنان میں خانہ جنگی کے بعد بھی طویل عرصے تک یہاں تعینات رہی اور دمشق اپنے چھوٹے سے ہمسایہ ملک کا مؤثر طور پر آقا بن گیا۔ شامی فوج کو تیس اپریل تک لبنان سے مکمل طور پر نکل جانا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کی ٹیم انخلاء کا جائزہ لے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||