لبنان میں انتخابات کے لیے آج پولنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان سے شامی فوجوں کی انخلاء کے بعد پہلی مرتبہ آج پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ یہ انتخابات چار مراحل میں ہونگے۔ پچھلے تیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ لبنان کے انتخابات کے دوران ملک کے بیشتر حصے میں شام کی فوجیں نہیں ہیں۔ پچھلے مہینے شام کی فوجوں پر لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق ہریری کے قتل کا الزام لگنے کے بعد لبنانی عوام اور امریکہ کے دباؤ کے تحت شام کی فوجیں لبنان سے واپس بلا لی گئی تھیں۔ ان انتخابات میں رفیق ہریری کے بیٹے بھی کھڑے ہو رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ کامیاب بھی ہونگے۔ انتخابات کا پہلا راؤنڈ صرف بیروت میں ہوگا۔ چونکہ انتخابی نتائج کے بارے میں لوگوں کو تقریبًا یقین ہے اس لیے فی الحال اس پر غور کیا جا رہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کتنے لوگ آئیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ بیروت کی انیس یعنی تمام سیٹیں مرحوم رفیق ہریری کے سیاسی حلیف اور ان کے بیٹے جیتیں گے۔ کم از کم نو سیٹوں پر تو ان کے امیدوار بلا مقابلہ کھڑے ہیں۔ اگلے اتوار کو ووٹنگ جنوبی لبنان میں ہوگی اور وہاں دو اہم شیعہ جماعتوں عمل اور حزب اللہ کا کنٹرول ہے اور چونکہ وہ مل کر انتخاب لڑ رہے ہیں اس لیے زیادہ سیٹیں انہی کے پاس جائیں گی۔ اگرچہ یہ جماعتیں شام کی حامی سمجھی جاتی ہیں لیکن ملک گیر نتائج شام کے خلاف گروپوں کے حق میں جانے کی توقع ہے۔ اہم مقابلہ میرونائٹ عیسائیوں کے درمیان ہے ۔جس میں سابق جنرل مائیکل عیون دیگر گروپوں کے خلاف کھڑے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ انتخابات مسائل اور معاملات کی بنیاد پر کم اور سیاسی گروہ بندی کی بنیاد پر زیادہ لڑے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||