شام کے لبنان میں تیس سال، ایک نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کی حکومتیں لبنان کو ’وسیع تر شام‘ کا حصہ تصور کرتی آئی ہیں۔ شام کا موقف رہا ہے فرانس نے ملک کے اوٹومن نامی صوبے کو لبنان میں تبدیل کیا تھا۔ فرانس کو پہلی جنگِ عظیم کے بعد لبنان اور شام میں نوآبادیاتی طاقت کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس اعتبار سے لبنان میں شام کا رسوخ اور موجودگی قدرتی امر دکھائی دیتا ہے۔ شامی فوجوں نے انیس سو چھہتر میں لبنان میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پہلی بار عملی طور پر مداخلت کی تھی۔ خانہ جنگی کے عروج کے زمانے میں لبنان میں موجود شامی فوج کی تعداد تیس ہزار تھی۔ لبان میں تیس برس تک جاری رہنے والی خانہ جنگی باآخر انیس سو نوے میں ئتم ہو گئی لیکن شامی فوجیں واپس نہ لوٹیں۔ لبنان میں اس وقت موجود شامی فوج کی تعداد چودہ ہزار ہے۔ شام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی عسکری مداخلت لبنان میں عیسائی محاذ کی حمایت کے لیے تھی۔ تاہم بعد میں یہ فوج عرب لیگ کے ایما پر لبنان میں موجود رہی۔
شام کا ایک مقصد اسرائیلی اور اس کی حمایت یافتہ کرسچیئن ملشیا کے رسوخ کو کم کرنا تھا کیونکہ اسرائیل انیس سو اٹھہتر اور پھر انیس سو بیاسی میں لبنان پر قبضہ کر چکا تھا۔ بعد ازاں شامی فوجیں انیس سو ستاسی میں بیروت جا پہنچیں تاکہ وہاں سنی اور شیعہ مسلم دھڑوں میں جاری لڑائی بند کروا سکیں۔ شامی فوج نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ انیس سو نوے کے عشرے کے اواخر میں شام کی فوج اس لڑائی میں بھی شامل رہی جو عیسائی فوجی سربراہ جنرل مائیکل اون کی شکست کا باعث بنی۔ جنرل مائیکل اون نے لبنانی جنگ ختم کرنے والے انیس سو نواسی کے طائف مہاہدے کی شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت شامی فوج کو انیس سو بانوے تک بیروت سے وادیِ بیکا اور وسطی لبنان کی پہاڑوں تک پیچھے ہٹ جانا تھا۔ یہ اقدام شامی فوج کے مکمل انخلا کا پہلا قدم ہوتا۔
تاہم سنہ دو ہزار ایک میں لبنان میں شامی فوج کی موجودگی اور رسوخ سے متعلق بڑھتی ہوئی تلخی کے سبب بیروت سے شامی فوج کا کچھ حصہ واپس بلا لیا گیا۔ اس کے بعد ستمبر دو ہزار چار میں بھی مزید شامی فوج واپس بلائی گئی۔ بہت سے لبنانی ملک میں شام کے رسوخ کو کئی برس تک لبنان کے استحکام کی ضمانت تصور کرتے رہے۔ شام اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور شامی فوج کو اسرائیلی خدشے کا متوازی توڑ گردانا جاتا رہا۔ اسرائیل سنہ دو ہزار تک جنوبی لبنان میں موجود رہا۔ اس کے بعد سے اب تک شامی فوج کے انخلا کے مطالبے میں اضافہ ہوتا رہا ہے کیونکہ اس کی ایک وجہ لبنانی سیاست پر دمشق کے رسوخ سے متعلق غم و غصہ اور دوسری وجہ شامی رسوخ کے باعث لبنان میں بڑھنے والی بدعنوانی تھی۔ ستمبر سنہ دو ہزار چار میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے لبنان سے دمشق اور حزب اللہ سمیت تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا، جسے امریکہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ امریکہ نے شام پر بعض پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔ شام کا لبنان میں اثر و رسوخ، اسرائیل مخالف شامی تنازعے میں اس کے لیے طرب کے پتے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دمشق نے لبنان میں قائم حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کی شمالی سرحد پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔ دمشق اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت اپنی کارروائیں بند کرے گا اور لبنان سے باہر نکلے گا اگر شام اور اسرائیل میں امن معاہدہ طے پا جانے کے علاوہ اسرائیل گولان ہائٹس پر بھی اپنا قبضہ ختم کر دے اور لوٹ جائے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر شام اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے ہوئے بغیر دمشق کو لبنان سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو اسے نہ تو کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور شام کے ہاتھ سے لبنان کا ’طرب کا پتا‘ بھی نکل جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||