لبنانی انتخابات: شام مخالفوں کوشکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کل ووٹنگ مکمل ہوگئی اور حزب اختلاف کے ایک سینئر رہنما ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق شام مخالف امیدواروں کو شکست کا سامنا ہے۔ گزشتہ تیس سال میں یہ پہلے انتخابات ہیں جو شامی افواج کی موجودگی کے بغیر ہوئے ہیں۔ تیسرے یعنی اس مرحلے کے انتخابات کی تکمیل کے بعد تقریباً نصف نشستوں کے انتخابات مکمل ہوجائیں گے۔ ایک امیدوار سابق جنرل عون کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات اب شام کے خلاف نہیں ہیں بلکہ لبنان کے مستقبل کے لیے ہیں۔ادھر ولید جنبلاط کے اتحاد کے ایک رہنما مروان حمادیہ نے کہا۔ ’خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کا اتحاد ایک طرف ہے اور اس کا مخالف اتحاد بھی عیسائیوں اور مسلمانوں پر ہی مشتمل ہے جو میرے خیال میں لبنان کے لیے ایک بڑی صحت مند بات ہے۔ اس کے لیے ہمیں لبنان سے شامی افواج کی واپسی کا شکرگزار ہونا چاہیے‘۔ ولید جنبلاط نے جو اہم شام مخالف رہنماتصورکیے جاتے ہیں، تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں اور ان کے اتحادیوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا ہے۔ سرکاری نتائج پیر کی دوپہر تک آنے کی توقع ہے لیکن سابق جنرل مائیکل عون کے حامیوں نے اپنی کامیابی کا جشن منانا شروع کردیا ہے۔ اس مرحلے میں اٹھاون نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں اور اس میں ووٹ بھی دوسرے دومرحلوں کے مقابلے میں زیادہ ڈالے گئے۔
ادھر با البیک کے علاقے میں حزب اللہ اور اس کی اتحادی تنظیموں نے ساری نشستیں جیت لی ہیں۔ جنرل عون اگر چہ شام کے بڑے مخالف رہے ہیں لیکن ان انتخابات میں انہوں نے اپنا اتحاد شام نواز امیدواروں کے ساتھ بنایا تھا۔ انتخابات کا چوتھا مرحلہ آئندہ اتوار کو ہوگا جس میں شمالی لبنان کی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||