شامی فوج کے جانے پر لبنانی کیا کہتے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتیس سال لبنان میں رہنے کے بعد شام کی فوجیں وہاں سے نکل گئی ہیں۔اس تاریخی موقعہ پرلبنانی شہریوں نے اپنےخیالات سے بی بی سی نیوز کو آگاہ کیا۔ ذیل میں ہم ان کے تاثرات اور تجربات نقل کر رہے ہیں۔ ندیم طالب علم، عمر سولہ سال ’میں سمجھتا ہوں کہ لبنان سے شامی فوجوں کا انخلاء ہمارے ملک میں جمہوریت کے لیے ایک چھوٹا، مگرضروری اقدام تھا۔ جہاں تک انتخابات کا سوال ہے تو شام نواز طاقتیں جتنا چاہیں لوگوں کو دھمکا لیں یا انتخابات میں دھاندلی کرلیں، حزب مخالف کو زبردست کامیابی ہوگی۔ اس طرح اپوزیشن کو پارلیمان میں برتری حاصل ہو جائے گی اور پھر اگلے قدم میں صدر ایمائیل لہود اور ان کے حواریوں کی چُھٹی ہو جائے گی۔ ملک میں خانہ جنگی کا خوف صرف شام نواز لوگوں کا پھیلایا ہوا تھا تا کہ حزب مخالف کی مہم کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ بالکل لا یعنی حرکت تھی کیونکہ حقیقت میں خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ نئی حکومت کو لوگوں کا اعتماد حاصل ہے۔ تمام وزارتیں، مثلاً وزارت انصاف اور وزارت داخلہ اپوزیشن کے ہاتھ میں ہیں، سوائے ایک وزارت دفاع کے جو کہ اب بھی صدر لہود کے داماد کے پاس ہے۔ میرا خیال ہے کہ شام کی فوجوں کے اعزاز میں جو تقریب منعقد کی گئی تھی اس کا مقصدشام کو موقع دینا تھا کہ وہ ہم لبنانیوں کو بتائے کہ وہ یہاں سے نہیں نکلیں گے لیکن اب چونکہ شامی فوجیں نکل گئی ہیں تو ان کی حامی حکومت بھی نہیں بچ پائے گی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ حکومت گرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔‘ جومانہ سیکلے ماہر اشتہارات، عمر انتیس سال ’ ایک سطح پر ہم لوگ خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ طویل ترین سفر بھی شروع تو پہلے قدم سے ہی ہوتا ہے۔ لیکن صورت حال اب بھی نازک ہے۔ لوگ تھک چکے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ جہاں بھی بیٹھیں بات سیاست کی ہی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے لوگ زیادہ تر پرامید ہیں کیونکہ حکومت کی بدعنوانیاں اب سامنے آ رہی ہیں۔ اگر خانہ جنگی شروع ہو بھی جاتی ہے تب بھی ہمیں امید کرنی چاہیے کہ بات ہاتھ سے نہ نکلے۔ بلکہ میں کہوں گا کہ اسے خانہ جنگی کی بجائے بحت ومباحثہ تک ہی محدود رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ زیادہ تر لوگ اب اس کی سکت ہی نہیں رکھتے، نہ تو مالی طور پر اور نہ ہی نفسیاتی طور پر۔ ہم ڈرے ہوئے لوگ ہیں اور ابھی تک اپنے پرانے زخموں کو ہی چاٹ رہے ہیں۔
سیاسی طور پرابھی تک لوگوں میں خاصی ناسمجھی پائی جاتی ہے۔ جو نعرے انہوں نے بچپن میں شاید اپنے گھروں میں سنے تھے اب سڑکوں پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ ابھی تک لوگوں نے اپنی سیاسی ترجیحات کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔اب سب سے اہم کام لوگوں میں سیاسی شعور پیدا کرنا اور ملک میں ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ بنانا ہے کہ جس میں لوگ برادری اور اپنے عقائد سے ہٹ کر سوچیں۔ جب تک پرانی ذہنیت کے لیڈر ملکی سیاست پر چھائے رہیں گے میں کسی بڑی تبدیلی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہوں۔ہمیں جو چیز چاہیے، وہ ہے ماضی سے کٹ کر ایک نئے تازہ دور کا آغاز کرنا۔ جہاں تک رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کا تعلق ہے ، ہم سب سچ جاننا چاہتے ہیں۔ اور جب سچ سامنے آجائے تو ہمیں اسے قبول کر کے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس تفتیش سے ان بے شمار دوسرے لوگوں کی موت کی تفتیش کا دروازہ بھی کھلےگا جوگزشتہ سالوں میں قتل کیے گئے۔ مجھے امید ہے لوگ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ یہ بھی صحیح سمت میں مزید ایک قدم ہوگا۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی ہے کہ لوگوں میں سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے انتخابات میں کون جانے کیا ہو۔‘ رشہ فرحت انجینئیر، عمر چونتیس سال ’ ہم انخلاء پر خوش ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم شام کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رکھنا چاہتے ہیں۔شام، مشرق وسطٰی کا ایک بڑا ملک اور ہمارا ہمسایہ ہے، اس لیے ہمیں تو اکھٹے کام کرنا ہے۔ یہ اپنی جگہ، لیکن کئی موقعوں پر شام نے اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نےحکومت میں شاید ایسا نہیں کیا لیکن میراخیال ہے فوج اور اینٹیلیجنس میں تو کیا ہے۔ کاروباری شعبے میں تو وہ غلط فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ میں اینجینرنگ کے شعبہ سے منسلک ہوں اس لیے مجھے پتا ہے کہ کئی دفعہ ’غلط لوگوں‘ کو پیسہ دیا گیا ہے۔ آپ میرا مطلب سمجھ رہے ناں۔ کوئی بھی شخص جو یہ چاہتا ہے کہ شامی یہاں رہیں، وہ لبنان کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ آپ کی سرزمین پر غیرملکی فوجوں کا کیا کام۔
اگرچہ میں ذاتی طور پرخوش ہوں کہ شامی چلے گئے، لیکن میرا مستقبل تو باقی لوگوں کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل ہی کام کرنا ہے۔ حریری کی موت پر لوگ برھم تھے، لیکن ہمیں گزری باتوں کو بھول جانا چاہیے۔ہر وقت جذباتی ہونا اچھا نہیں، کبھی عملی بھی ہونا چاہیے۔ لیکن جلدبازی کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔شاید انتخابات کومؤخر کرنا بہتر ہو گا۔ ہمارے گاؤں میں اسرائیلیوں نے بیس لوگوں کو مار دیا۔ حزب اللہ نے ہمیں اس وقت بچایا جب حکومت ہمیں بھُلا چکی تھی، اس لیے میں تو حزب اللہ کی ہی حمایت کروں گا۔ میں بہت پر امید ہوں تاہم مجھے ان سے نفرت ہے جو لبنانیوں کومذہب یا قبائلی بنیادوں پرتقسیم کرتے ہیں۔ اگر اس طرح کی سوچ حکومت بنانے میں بھی سامنے آئی تومیں لبنان چھوڑ جاؤں گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||