BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 August, 2006, 23:01 GMT 04:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان میں بھگوان

لبنان میں مندر
لبنان میں جنگ سے پہلے تیس ہزار انڈین شہری آباد تھے۔
بیروت کی کنتری اسٹریٹ میں شمرائی بلڈنگ کی گیارہویں منزل پر جب میں پچھلے سنیچر کو چڑھا اور بھارتی سفارتخانے کے دروازے پر بیل دی تو اندر سے ایک آدمی جانگیے اور بنیان میں نکلا۔

’ہاں جی آج کس سے ملنا ہے آج تو چھٹی ہے۔‘

میں نے پوچھا کیا بیروت میں کوئی مندر یا گوردوارہ ہے۔کہنے لگا کیوں کیا کوئی پوجا سیوا کرنی ہے۔میں نے اپنا تعارف کروایا تو اس نے کہا کہ سنا ہے یہاں سے کوئی بیس کیلومیٹر اتر میں جونئیہ میں کوئی مندر ہے۔گوردوارے کا تو پتہ نہیں۔آپ سوموار کو آنا۔یہ کہتے ہی دھڑ سے دروازہ بند ہوگیا۔

نیچے چار بھارتی بھی میری طرح اس بات سے لاعلم سیڑھیوں پر بیٹھے تھے کہ سنیچر کو چھٹی ہوتی ہے۔ان میں سے ایک نمبوڑہ راجھستان کا وشنو پانڈے نکلا۔کہنے لگا ہم لوگوں کے لئے تو ہر دن شنیوار بنا دیا ہے ان لوگوں نے۔آج آنا، کل آنا۔بس آنا آنا لگا رکھی ہے۔نہ یہ بتاتے ہیں کہ جہاز کب لگے گا۔نہ ٹکٹ کی بات کرتے ہیں۔وشنو کی بات سن کر باقی تین نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔سنا ہے دودن بعد ایک بھارتی شپ آئے گا اور ہم لوگوں کو لے جائے گا۔سب کہن کی باتیں ہیں۔ہریانہ کے سجاگ سنگھ نے لقمہ دیا۔

مندر میں تمام معروف دیوی دیوتا موجود ہیں اور انہی کے درمیان عیسٰی، مریم اورسینٹ پال کی بھی مورتیاں ہیں۔

میں نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہو۔کہنے لگے نباتیہ سے۔پتھر توڑنے اور ٹائیل بنانے کا کام کرتے ہیں۔سیٹھ سب چھوڑ چھاڑ کر معافی معافی مشکل کرتا بھاگ گیا۔اب ہم اپنے دیش جانا چاہتے ہیں۔بیس سال بہت ہوتے ہیں۔یہ سالا کرپال تو پچیس سال سے یہاں ہے۔اپنی زبان تک بھول گیا۔میں نے پوچھا آج کل کہاں رہتے ہو۔سب ایک ساتھ بولے نہرِ ابراہیم میں۔ایک رفیق نے ایک کمرہ دے دیا ہے۔روزانہ بیروت آتے ہیں اور یہاں سیڑھیوں پر بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔میں نے پوچھا یہاں سے نہر ابراہیم کتنی دور ہے۔کہنے لگے پینتیس چالیس کیلومیٹر۔تو کیا وھاں کوئی مندر بھی ہے۔مندر کا تو معلوم نہیں ہاں ایک گوردوارہ بنا ہوا ہے۔

لبنان میں جنگ سے پہلے تیس ہزار کے لگ بھگ بھارتی اور دو ڈھائی ہزار پاکستانی محنت مزدوری کرتے تھے۔انکے بعد سری لنکا کے لوگ تھے۔ زیادہ تر راج، مزدور، مکینک، چوکیدار، ویٹرز، باورچی یا گھریلو ملازمت اور عمارتوں کی چوکیداری پر مامور تھے۔نصف سے زائد عارضی یا مستقل طور پر چلے گئے۔بہت سے شام کے راستے غیر قانونی طور پر لبنان آئے تھے۔

میں نے اپنے مترجم ڈرائیور سے کہا شمال کی طرف چلتے ہیں۔کوئی بیس پچیس کیلومیٹر کے بعد جونئیہ آیا اور ایک پارکنگ لاٹ پر نظر پڑی۔کونے میں ایک کنٹینر نما چیز پڑی تھی جس پر بھارتی ترنگا، لبنانی پرچم اور ایک گیروا جھنڈا لہرا رھا تھا۔پارکنگ لاٹ میں گئے تو ایک جنوبی ایشیائی وضع قطع کے صاحب ہر آنے والی گاڑی کو پرچی تھما رہے تھے۔جانے والی گاڑی کے لئے زنجیر کھول رہے تھے اور زرا زرا سی دیر بعد کنٹینر میں جاتے اور باہر آجاتے۔کنٹینر کے اندر سے ڈرلنگ مشین کی آواز آرہی تھی۔

اس مندر میں اقوامِ متحدہ کے امن دستے یونیفل میں شامل بھارتی فوجی، سفیر اور دیگر سفارت کار اور جونیہ میں آباد بھارتی آتے رہتے ہیں۔

گوگ راج اب سے پچیس برس پہلے ہوشیار پور سے شام پہنچا اور وھاں سے لبنان ایسا آیا کہ پلٹ کر نہ دیکھا۔پچھلے پانچ برس سے گوگ راج اور اسکی بیوی اس کنٹینر کے اندر ایک کمرے میں رہتے ہیں اور برابر والے کمرے میں بالک ناتھ شیو کیسری مندر قائم ہے۔گوک راج صرف تین گھنٹے سوتا ہے۔صبح پانچ بجے ایک فارم پر جاتا ہے۔وھاں سے تازہ کھیرے، بینگن اور ٹماٹر لے کر سبزی منڈی پہنچتا ہے۔فروخت کرتا ہے اور پھر دس بجے پارکنگ لاٹ میں پہنچ کر رات ڈیڑھ بجے تک ہر آنے جانے والی گاڑی کو پرچی دے کر پیسے لیتا ہے۔اس کام میں اسکی بیوی جو آج کل بھارت گئی ہوئی ہے مدد کرتی ہے۔کھیت مزدوری اور پارکنگ لاٹ کا کام مالک سے آدھوں آدھ کے فارمولے پر طے ہے۔روز مرہ اخراجات سے جو پیسہ بچ جاتا ہے وہ گوک راج مندر پر لگا دیتا ہے۔اب تک گوک راج اس مندر پر چار پانچ ہزار ڈالر اپنی جیب سے لگا چکا ہے۔

مندر میں تمام معروف دیوی دیوتا موجود ہیں اور انہی کے درمیان عیسی ، مریم اور سینٹ پال کی بھی مورتیاں ہیں۔ گوک راج کا کہنا ہے کہ اس مندر کے لئے زمین پارکنگ لاٹ کے عیسائی مالک نے دی ہے۔جونئیہ میں اکثریت عیسائیوں کی ہے۔ بھگوان توسب کا ایک ہی ہے اس لئے مندر میں عیسائیوں کے دیوی دیوتا کیوں نہیں رھ سکتے۔

اس مندر میں اقوامِ متحدہ کے امن دستے یونیفل میں شامل بھارتی فوجی، سفیر اور دیگر سفارت کار اور جونیہ میں آباد بھارتی آتے رہتے ہیں۔ گوک راج کا کہنا ہے کہ جنم اشٹمی کے موقع پر یہاں دو سو تک لوگ آجاتے ہیں۔آج کل کنٹینر میں گیروے رنگ کا نیا فرش ڈل رھا ہے اور دو شیشے کے دروازے بھی لگائے جارہے ہیں۔راج کا کہنا ہے کہ یہ کام دو ہفتے میں مکمل ہوجائے گا ۔میں نے پوچھا کہ یہاں ہندؤوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔وہ آخر مندر کے لئے پیسہ کیوں نہیں دیتے۔راج نے ہنستے ہوئے کہا ہندؤوں میں اتنی ہمت کہاں۔یہ تو بھگوان کی کرپا ہے جو مجھ سے یہ سب کروا رہی ہے۔

میں راج کے ساتھ کوئی تیس منٹ رھا۔اس دوران وہ مجھ سے بات بھی کرتا رھا اور بھاگ بھاگ کر پارکنگ لاٹ میں آنے والی گاڑیوں کو پرچی بھی دیتا رھا۔مجھے اور ڈرائیور کو آم کا شربت بھی پلایا اور گیروے رنگ کی پگڑی باندھ کر اور پرنٹڈ اشلوگ والی چادر اوڑھ کر آلتی پالتی مار کر بھی بیٹھا۔کہنے لگا تم گھنٹی بجاؤ میں تمہارے لئے دیا جلاتا ہوں۔جب وہ دیا جلا رھا تھا تو اسکے موبائیل پر ایک کال بھی آئی۔مندر میں رنگ ٹون بج اٹھی ۔اے دل تجھے قسم ہے ہمت نہ ھارنا۔دن زندگی کے جیسے بھی گذریں گذارنا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جب میں پچھلی دفعہ گھر گیا تھا تب رنگ ٹون ڈلوائی تھی۔

لبنان میں گذارے تئیس دن میں یہ پہلا لمحہ تھا جب میری آنکھوں میں آنسو آئے۔

چلو آگے چلتے ہیں۔میں نے ڈرائیور سے کہا۔سائیڈ مرر میں گوک راج دیر تک نظر آتا رھا۔

بیروت سے تریپولی جانے والی اس ہائی وے پر دو پل اسرائیلی بمباری سے اس طرح تباہ ہوئے کہ میلوں تک ٹریفک جام تھا۔ڈرائیور اونچی نیچی تنگ پہاڑی سڑکوں سے گاڑی نکالتا رھا۔بیس پچیس کیلومیٹر طے ہونے کے بعد نہرِ ابراہیم کا قصبہ آ گیا۔ڈرائیور جس سے بھی پوچھے کہ معبدِ ہندی کہاں ہے وہ کندھے اچکا دے۔ہماری خوش قسمتی کہ ایک سردارجی نظر آ گئے۔انہوں نے بڑی شدھ عربی میں ڈرائیور کو گوردوارے کا راستہ سمجھایا۔ہم جس جگہ پہنچے وھاں گوردوارے کی کوئی نشانی نہیں تھی۔ایک ورکشاپ میں کچھ مکینک گاڑیاں ٹھیک کررہے تھے۔ایک نے بتایا کہ پیچھے سے سیڑھیاں جاتی ہیں۔دوسری منزل پر گوردوارہ ہے۔سیڑھیوں پر زرد اور نیلے رنگ کے پینٹ سے مجھے یقین آیا کہ اوپر گوردوارہ ہی ہے۔

دروازے پر ایک نوجوان نمودار ہوا اور میں اسکے ساتھ ایک بڑے ہال میں داخل ہوگیا۔نوجوان نے مجھے گیروے رنگ کا ایک رومال سر پر اوڑھنے کے لئے دیا۔گرنتھی صاحب اور ایک اور نوجوان فرش پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔میرے آگے بھی پرساد پروس دیا گیا۔کالی ثابت دال، گرم روٹی، اچار۔شاورمہ زدہ لبنان میں یہ سب کچھ صرف واہگرو کی کرپا سے ہی ممکن تھا۔

شنگھارا سنگھ جالندھر کے قریب نواں شہر سے انیس سو بانوے میں لبنان آئے۔اور پچھلے پانچ برس سے اس گوردوارے کے گرنتھی ہیں جو انیس سو بیاسی سے قائم ہے۔یہ گوردوارہ ہروقت سب کے لئے کھلا رہتا ہے۔جبکہ نہرِ ابراہیم سے کچھ فاصلے پر آڈونچ میں حال ہی میں قائم گوردوارہ صرف شام کو کھلتا ہے اور بیروت میں قائم گوردوارہ اب تک رجسٹر نہیں ہوا۔کبھی کھلتا ہے کبھی بند ہوجاتا ہے۔

شنگھارا سنگھ نے بتایا کہ جنوبی لبنان سے اجڑ کر آنے والے پچاس سے زیادہ لوگ اس گوردوارے میں ایک ہفتے تک رہے۔گوردوارے کی انتظامیہ نے کچھ کے لئے ٹکٹ کا بھی انتظام کیا۔اب بھی کوئی آٹھ لوگ یہاں رھ رہے ہیں۔گوردوارہ مالی طور پر خاصا خودکفیل ہے۔اسکا ثبوت یہ ہے کہ لبنان کی سکھ برادری کی طرف سے دربار صاحب امرتسر، فتح پور صاحب اور آنند پور صاحب میں کوئی پچپن لاکھ روپے مالیت کے روٹی پکانے کے پلانٹ عطیہ کئے گئے ہیں۔

جس نوجوان نے میرے لئے گوردوارے کا دروازہ کھولا تھا اسکا نام بھی شنکارا سنگھ تھا اور وہ لبنان میں پچھلے دس برس سے رھ رھا ہے۔وہ بھی ملک کے جنوبی علاقے سے گوردوارے میں بطور مہمان آیا ہوا ہے۔میں نے اس سے کام کرنے والے غیر ملکیوں کے عمومی حالات پر بات کی تو پتہ یہ چلا کہ ان کارکنوں کو اوسط تنخواہ تین سو سے ساڑھے چار سو ڈالر تک ملتی ہے۔ننانوے فیصد غیرملکی کارکن بیوی بچوں کو یہاں رکھنا افورڈ نہیں کرسکتے۔شنکارا سنگھ نے اپنی مثال دی کہ مجھے ہر دوسال بعد تین مہینے کی چھٹی ملتی ہے۔میری تنخواہ چار سو ڈالر ہے۔یعنی سال کے اڑتالیس سو۔ان میں سے ایک ہزار ڈالر تک ورک پرمٹ کی مدت بڑھانے کی سالانہ فیس اور وکیل پر خرچ ہوجاتے ہیں۔ہزار بارہ سو ڈالر کمرے کے کرائے اور کھانے پینے پر لگ جاتے ہیں اور ڈھائی ہزار ڈالر گھر بھیج دئیے جاتے ہیں۔شنکارا سنگھ نے کہا کہ کس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ بیوی بچوں کو اپنے ساتھ رکھے لیکن بیوی کو لانے کا مطلب یہ ہے کہ چھ سو ڈالر سالانہ اسکے پرمٹ کی فیس پر لگیں گے چاہے وہ کام کرے یا نہ کرے اور بچے کا پرمٹ دو سو چھیاسٹھ ڈالر میں ملتا ہے۔اسکے بعد بیوی اور بچہ یہاں رہیں گے تو کھائیں گے کیا اور پہنیں گے کیا۔

لبنانی مچھیرےمچھیرے اب کیا کریں
لبنان کے شہر طائر سے وسعت اللہ خان
ایسی بھی کیا جلدی !
’آخر لبنان بھی تو اپنے پاکستان ہی کی طرح ہے‘
وسعت اللہ خانآنکھوں کا سفر
وسعت اللہ خان جنوبی لبنان میں
مملکتِ بے وجود
’قابلِ رحم ہے وہ قوم جو تقسیم کر دی جائے‘
’میں کیوں بچ گیا‘
صنعتی یونٹ یا حزب اللہ کا گڑھ: وسعت اللہ خان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد