BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 August, 2006, 04:49 GMT 09:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آنکھوں کا سفر

بنت جبیل
بنت جبیل آنے والوں کو خوش آمدید کا پیغام
تیرہ جولائی تک بنت جبیل تیس پینتیس ہزار کی آبادی کا ایک اچھا خاصا کاروباری خوشحال قصبہ تھا۔

یہاں کے لوگ دو وجوہات کے سبب امیر تھے۔ایک تو تقریباً ہر دوسرے خاندان کا کم ازکم ایک فرد آسٹریلیا، امریکہ یا کینیڈا کا شہری ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کی کفالت کرتا ہے۔

دوسرا یہ کہ بنت جبیل جنوبی لبنان کے وسطی علاقے کا ایک اہم کاروباری مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔آس پاس کے علاقے کے لوگ باگ پینتیس کیلومیٹر دور طائر جانے کے بجائے بنت جبیل میں ہی خریداری کر لیتے تھے۔اس کا ایک ثبوت ریڈی میڈ گارمنٹس کی وہ بھری ہوئی دکانیں ہیں جن کے شیشے اور شٹر اسرائیلی گولوں کی دھمک نے توڑ ڈالے لیکن کپڑے ابھی تک شوکیسوں میں پڑے ہوئے ہیں یا ہینگرز سے لٹک رہے ہیں۔

 حزب اللہ کے رضاکار واکی ٹاکی لگائے بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں پر مستقل متحرک ہیں۔ وہ اب گوریلوں سے زیادہ سوشل ورکر نظر آتے ہیں۔

قصبے میں داخل ہوتے ہی جو پہلا چوک آتا ہے اس پر اسرائیل سے چند برس قبل کا چھینا ہوا ایک ٹینک بطور سووئینیر رکھا ہوا ہے۔یا پھر زرا زرا فاصلے پر کسی جاں بحق چھاپہ مار کی بڑی تصویر کے سائے میں اسرائیل سے چھینی ہوئی کسی طیارہ شکن توپ یا راکٹ لانچر کو نصب کیا گیا ہے۔

اسرائیل سے چند برس قبل کا چھینا ہوا ایک ٹینک بطور سووئینیر رکھا ہوا ہے

حزب اللہ کے رضاکار واکی ٹاکی لگائے بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں پر مستقل متحرک ہیں۔ وہ اب گوریلوں سے زیادہ سوشل ورکر نظر آتے ہیں۔ کسی ایک کے ہاتھ میں بھی بظاہر گن دکھائی نہیں دی لیکن اگر جینز میں ریوالور اڑسے ہوئے ہوں تو پتہ نہیں۔

تقریباً ستر فیصد عمارتیں اور گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ بھلا جب چونتیس دن تک صرف ایک سو پچاس میٹر کی دوری سے توپ کے گولے داغے جائیں گے اور خودکار ڈرون، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور ایف سولہ طیارے اوپر سے میزائیل، شیل اور پانچ پانچ سو پاؤنڈ کے بم برسائیں گے تو وہاں کیا رہے گا۔ جو عمارتیں یہ سب جھیل گئیں وہ بھی ایسی ہیں جیسے چیچک کے ہزاروں داغ چہرے پر نمودار ہوجائیں۔

میں ایک خاتون سے ملا جو بیروت سے یہاں پہنچیں تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے دس روز بعد تک وہ اپنے مکان کے کھنڈر میں ہی رہیں اور اپنے شوہر، دو بیٹوں، بہوؤوں اور انکے بچوں کی سات لاشوں کی حفاظت کرتی رہیں۔اس دوران رضاکاروں نے لاشیں اٹھا لیں اور کھانے پینے کا سامان بھی ختم ہوگیا تو وہ جیسے تیسے کر کے بیروت تک پہنچ گئیں اور اب پھر بنت جبیل میں اپنا کھنڈر دیکھنے آ گئیں۔انکے دونوں بیٹے کینیڈا کے شہری تھے اور چھٹی لے کر ملنے آئے تھے۔

بنت جبیل میں جنگ بندی کے چار روز بعد بھی بمشکل سو کے لگ بھگ مکین واپس آ پائے ہیں۔ایک جگہ کھڑے ہوئے چند نوجوانوں نے ایک خاتون سے ملوایا جو زرا دیر پہلے ہی بیروت سے یہاں پہنچیں تھیں۔کسی گاڑی نے انہیں پندرہ بیس کیلومیٹر پرے تبنین تک اتار دیا تھا وہاں سے وہ پیدل بنت جبیل تک پہنچیں۔ جنگ شروع ہونے کے دس روز بعد تک وہ اپنے مکان کے کھنڈر میں ہی رہیں اور اپنے شوہر، دو بیٹوں، بہوؤوں اور انکے بچوں کی سات لاشوں کی حفاظت کرتی رہیں۔اس دوران رضاکاروں نے لاشیں اٹھا لیں اور کھانے پینے کا سامان بھی ختم ہوگیا تو وہ جیسے تیسے کر کے بیروت تک پہنچ گئیں اور اب پھر بنت جبیل میں اپنا کھنڈر دیکھنے آ گئیں۔انکے دونوں بیٹے کینیڈا کے شہری تھے اور چھٹی لے کر ملنے آئے تھے۔
حزب اللہ کا امریکی وزیر خارجہ کے لیئے جواب

ایک ٹیکسی رکی اس میں ایک خاتون اور انکی بچی تھی۔ ڈگی میں گنجائش سے زیادہ سامان بھرا ہوا تھا۔ یہ خاتون ایک قریبی گاؤں یارون سے یہاں آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یارون میں انکا مکان اس وقت تک سلامت تھا جب وہ اس میں تھیں۔ اب جب دوبارہ واپس گئی ہیں تو وہاں صرف ملبہ ہے۔ وہ کسی ایسی این جی او یا شخص کو تلاش کر رہی ہیں جو انکے لیئے کچھ عرصے تک کھانے پینے اور رہنے کا انتظام کردے۔ میرے ہوتے ہوئے وہاں گھومنے والے رضاکاروں نے انہیں طائر جانے والی لبنانی ریڈ کراس کی ایک ایمبولینس میں لفٹ دلوادی۔

دوسری ایمولینس میں وہ لاش تھی جو ہمارے سامنے ریڈ کراس والوں نے ایک ٹوٹے ہوئے گیراج کے ملبے سے نکالی تھی۔ لاش کیا تھی بس ایک کھوپڑی اور ہڈیاں تھیں۔ ریڈ کراس والوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی عمررسیدہ صاحب تھے جو بمباری کے دوران کم ازکم پندرہ روز پہلے پتھروں تلے دب گئے ہوں گے۔ ریڈ کراس والوں نے بتایا کہ اب بھی بہت سی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ انکے سڑنے کی بو انکا پتہ دے دیتی ہے۔

اب بھی ملبے سے لاشوں کو نکالا جا رہا ہے

سالم نامی ایک حزب اللہی نے بتایا کہ اب بھی طائر کے جنرل اسپتال میں پونے دو سو کے لگ بھگ لاشیں شناخت کے لیئے رکھی ہیں جن میں سے اکثر معارون الراس، بنت جبیل اور صدیقین سے پہنچائی گئیں۔اب انکی اجتماعی تدفین کا انتظام ہورہا ہے۔

بنت جبیل کے بالکل سامنے کی پہاڑی پر معارون الراس کا گاؤں ہے۔ جس کے بعد اسرائیل کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ اس گاؤں کے بھی دوتین خاندان بنت جبیل میں گھوم رہے تھے کیونکہ انکے گاؤں پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے اور وہ دور سے ہی ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں کو بھگا دیتی ہے۔

بنت جبیل اور ایتا الشعاب کو اسرائیلیوں نے اگرچہ تار تار کردیا لیکن آخری دن تک قابو نہ پاسکے جیسا کہ جرمنوں کے ساتھ سٹالن گراڈ میں ہوا تھا۔

میں طائر سے بنت جبیل تک آتے جاتے نو دیہاتوں ہناویہ، قانا، تبنین، کونین، عین آتا، حارث، صدقین، یاتر اور بیتِ یاحون سے گزرا۔

طائر شہر کے جلے ہوئے دس پیٹرول پمپوں سے لے کر بنت جبیل تک ایسا لگتا ہے جیسے اعشاریہ آٹھ کا زلزلہ آیا ہو یا کوئی سونامی گزر گیا ہو یا پھر کسی کنگ کانگ نے اس علاقے کو پنجوں میں لے کر جھاڑ دیا ہو۔

پھر خون ہی خون
قانا میں قتل عام کی دوہری تاریخ
حزب اللہ کا گڑھ
بنت جبیل میں اسرائیلی فوج پر حزب اللہ کا حملہ
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد