BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 August, 2006, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی
لبنانی فوج
لبنان اپنے 15 ہزار فوجی ملک کے جنوب منتقل کر رہا ہے
بیروت کا ہوائی اڈہ ایک ماہ کے قریب بند رہنے کے بعد مسافر پروازوں کے لیئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے جبکہ لبنانی فوج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں دریائے لیطانی کے پار پوزیشنیں سنبھالنا شروع کر دی ہیں۔

پہلے مرحلے میں دو ہزار لبنانی فوجی جو ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر سوار تھے جمعرات کو علی الصبح دریائے لیطانی عبور کر کے علاقے میں داخل ہوئے۔

مقامی آبادی نے لبنانی فوج کی آمد کا خیرمقدم کیا اور نعرے لگائے۔ خدیجہ نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ’خدا تمہاری حفاظت کرے ہم اپنی فوج کے سوا کسی کے حامی نہیں‘۔ بیروت ائرپورٹ پر جمعرات کو عمان سے آنے والی دو پروازیں اتریں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نصف پوزیشنیں اقوام متحدہ کی فوج ’یونیفل‘ کے حوالے کر چکی ہے لیکن اس نے یہ کہا ہے کہ لبنان سے مکمل انخلاء میں کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مراجعون کا علاقہ اور بنت جبیل کے کئی نواحی علاقے بھی یونیفل کے حوالے کر دیئے گئے ہیں لیکن بنت جبیل کے شہر پر تاحال اسرائیلی کنٹرول ہے۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں بنت جبیل میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ علاقوں کی حوالگی کا عمل آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ جاری رہےگا تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اسرائیل مکمل طور پر لبنان خالی کر دے گا۔

 اسرائیلی فوج کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مراجعون کا علاقہ اور بنت جبیل کے کئی نواحی علاقے بھی یونیفل کے حوالے کر دیئے گئے ہیں لیکن بنت جبیل کے شہر پر تاحال اسرائیلی کنٹرول ہے۔

لبنانی کابینہ نے بدھ کو جنوبی لبنان میں پندرہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ لبنان کے لیئے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم فواد سنئوریا نے کہا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا مقصد ملک کا دفاع کرنا ہے اور لبنانی حکومت کے حلقۂ اختیار کے باہر اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لبنانی حکومت کے مطابق اب ریاست کے اندر ریاست کی تشکیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اس بیان کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی یا پھر صرف یہ چاہتی ہے کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار اور اسلحہ کی نمائش نہ کرے۔

ادھر فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ فرانس لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی قیادت کرنے کے لیئے تیار ہے بشرطیکہ اس کا مینڈیٹ واضح اور اس فوجیوں کی تعداد مناسب ہو۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اقوامِ متحدہ امن فوج کی تیاری کے سلسلے میں فرانس پر انحصار کر رہا ہے جو پہلے ہی لبنان میں’یونیفل‘ فوج کی قیادت کر رہا ہے۔

ادھر اسرائیلی طیاروں نے لبنانی علاقوں پر پرچیاں گرائی ہیں جن میں لبنانی پناہ گزینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقوں سے دور رہیں۔ تاہم اس انتباہ کے باوجود لوگوں کی واپسی کا سلسلہ چوتھے دن بھی بدستور جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد پہلے ہی اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد سفر میں ہیں۔

لبنان میں چونتیس دن تک جاری رہنے والی لڑائی میں ایک ہزار کے قریب لبنانی اور ڈیڑھ سو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جبکہ لبنان میں چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکوں اور ڈیڑھ سو پلوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

خوش آمدید
شامی لبنانی مہاجرین کی مہانداری میں پیش پیش
لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد