BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 23:02 GMT 04:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن فوج کی قیادت فرانس کرے گا
اس وقت لبنان میں اقوامِ متحدہ کے’یونیفل‘ دستے موجود ہیں
فرانس لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی سربراہی کرے گا۔

یہ بات فرانس کی وزیر دفاع میشیل الیوت ماغی نے فرانسیسی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہی۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فرانس اس فوج کی قیادت کے لیئے تیار ہے لیکن ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ اسے ایک واضح مینڈیٹ ملے اور اس فوج کی تعداد بھی مناسب ہو۔

انہوں نے ٹی وی چینیل ’فرانس ٹو‘ سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہا کہ ’اگر آپ ایک فوج کہیں بھیجیں لیکن اس کا مقصد واضح نہ ہو اور اس کے پاس نا کافی ذرائع ہوں یا نفری کم ہو تو یہ ان فوجیوں کے لیئے حولناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد اقوامِ متحدہ کی امن فوج کی تشکیل کے لیئے مذاکرات کا سلسلہ بدھ کے روز جاری رہا۔

اقوامِ متحدہ آئندہ دو ہفتے کے اندر جنوبی لبنان میں ابتدائی طور پر تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد پر مشتمل امن فوج تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس امن فوج کے زیادہ تر فوجیوں کا تعلق فرانس سے ہوگا۔

امن فوج میں شمولیت سے متعلق اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پنتالیس ممالک نے شرکت کی تھی لیکن تاحال کسی ملک نے باقاعدہ طور پر اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

تاہم فرانس، اٹلی، ترکی، ملائشیا اور انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فوجی امن فوج میں شمولیت کے لیئے بھیجیں گے۔ اقوامِ متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑائی کی صورت میں امن فوج کے اختیارات پر خدشات پائے جاتے ہیں۔

ادھر لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا عمل تیسرے دن میں داخل ہوگیا ہے تاہم کئی علاقوں سے فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ فلپ دوست بلیزی بھی بیروت میں لبنانی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں لبنانی علاقے میں فرانسیسی فوجیوں کی تعیناتی پر بات ہوگی۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے علاوہ ترکی، ملائشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ بھی اس سلسلے میں بات چیت کے لیئے بیروت میں موجود ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ بھی فائر بندی پر مکمل عملدرآمد کے حوالے سے کوفی عنان سے بات چیت کے لیئے نیویارک پہنچ چکی ہیں۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے ایک ترجمان نے موجودہ صورتحال کو انتہائی مخدوش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد از جلد امن فوج علاقے میں پہنچ جائے۔

اقوامِ متحدہ چاہتی ہے کہ علاقے میں موجود ’یونیفل‘ دستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اسرائیلی فوج کے انخلاء اور پندرہ ہزار لبنانی فوجیوں کی جنوبی لبنان میں تعیناتی کے وقت اپنی پوزیشنیں سنبھال سکے۔ بعدازاں امن فوجیوں کی تعداد کو پندرہ ہزار تک بڑھا دیا جائے گا جیسا کہ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں طے پایا ہے۔

ڈھائی لاکھ لبنانی علاقے میں واپس آ چکے ہیں

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ دس دن تک اپنی فوج لبنان سے واپس بلا لے گا جبکہ لبنان نے کہا ہے کہ وہ اب اپنے پندرہ ہزار فوجی ملک کے جنوبی حصے میں منتقل کرنا شروع کر دے گا۔

تاہم اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیل کے فوجی سربراہ جنرل ڈین ہالٹز نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج علاقے میں اس وقت تک رہیں گی جب تک بین الاقوامی افواج علاقے میں نہیں آ جاتیں چاہے اس میں ’مہینوں ہی کیوں نہ لگ جائیں‘۔

اسی دوران جنوبی لبنان میں اسرائیل کے انتباہ کے باوجود ہزاروں لبنانی پناہ گزینوں کی واپسی جاری ہے۔ امدادی ایجنسیاں بھی جنوبی لبنان میں خوراک اور ادویات پہنچنانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے واپس آنے والے افراد کو ان بموں اورگولوں کی موجودگی سے خبردار کیا ہے جو علاقے میں گرائے گئے مگر پھٹے نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک ڈھائی لاکھ لبنانی علاقے میں واپس آ چکے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق مزید پانچ لاکھ افراد اپنے گھروں کی جانب چل پڑے ہیں۔

لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
’ناک تو اونچی ہے‘
جنوبی بیروت کے ایک محلے کا احوال
حزب اللہ: اگلا قدم ؟
آنے والے ہفتوں میں اہم ترین سوال یہی ہوگا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد