آرمی چیف نے شیئرز بیچ دیئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیفٹینیٹ جنرل ہالوٹس نے کہا ہے کہ ان کے ستائیس ہزار پانچ سو ڈالرز کی مالیت کے شیئرز بیچنے کو کسی بدعنوانی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل ہالوٹس نے کہا ہے کہ انھیں شیئرز بیچنے سے پانچ ہزار چار سو ڈالرز کا نقصان ہوا ہے اور ساتھ ہی ان کی عزت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ لیکن کچھ قانون دانوں نے کہا ہے کہ پروسیکیوٹر جنرل کو اس معاملے کی تفتیش کرنی چاہئے۔ اسرائیلی اخبار ’ماریو‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سربراہ بارہ جولائی کو سپاہیوں کے پکڑے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی اپنے بنک شیئرز بیچنے کے لئے گئے تھے۔ جنگ کے شروع میں شیئرز انڈیکس دس فیصد نیچے گر گیا تھا مگر پھر جلدی ہی بحال ہو گیا تھا۔ جنرل ہالوٹس نے اخبار کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ انھوں نے بارہ جولائی کی دوپہر کو شیئرز بیچے تھے لیکن اسے جنگ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس وقت تک انہیں نہیں پتا تھا کہ جنگ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رپورٹ تعصب پر مبنی ہے۔ جنرل نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے مگر میں اس قسم کے معاملات میں نہیں الجھنا چاہتا جس میں میری عزت داؤ پر لگ جائے۔ جائزہ کاروں کا خیال ہے کہ لگتا نہیں ہے کہ جنرل نے کسی ٹریڈنگ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم کچھ قانون دانوں نے جنرل سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبر ایم پی کولیٹ نے کہا ہے کہ جب ملک کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہو تو اس قسم کے کام کو ترجیح دینا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ نیشنل ریلیجس پارٹی کے زیولون نے کہا ہے کہ قوم کے مشکل وقت میں آرمی چیف سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جنگ کی طرف توجہ دیں گے نہ کہ سٹاک مارکیٹ میں جیتنے اور ہارنے کی فکر کریں گے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ اسرائیلی منصوبےسےآگاہ تھا‘15 August, 2006 | آس پاس ’الزامات کی جنگ‘ اسرائیل کی منتظر15 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: ابتدائی امن فوج کی کوشش16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||