ایسی بھی کیا جلدی۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب جبکہ میں بیروت سے کراچی واپسی کے لیئے سامان سمیٹ رہا ہوں، لبنان کے سرکردہ انگریزی اخبار سٹار کے اداریے پر نظر پڑ گئی ہے اور میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسے پڑھنے بیٹھ گیا ہوں۔ ’لبنان کی طرح چند ہی ممالک باہمی تنازعات، کشیدگی اور جنگی تجربات سے گزرے ہوں گے مگر یہاں کے شہری ہیں کہ ہر بات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرکے زندگی کو گلے لگا لیتے ہیں۔ ’ایک طرف تو یہ ملک علاقائی اور عالمی مفادات کے درمیان سینڈوچ بنا ہوا ہے اور اس سے بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس سرزمین کو یہاں کے حکمران طبقات نے بھی خوب لوٹا ہے۔ یہ طبقات سرکاری خزانے کے شہد کے جار میں کمر کمر تک دھنسے ہوئے ہیں۔ برسوں سے اس خزانے سے بلا احتساب اربوں ڈالر غتربود ہورہے ہیں۔ کاروباری مافیا ہر سال عوام کی جیب سے ناجائز طور پر کروڑوں ڈالر کھینچ لیتا ہے۔ لیکن ان پر جو ہاتھ ڈال سکتے ہیں وہ خود کابینہ اور پارلیمینٹ میں بیٹھ کر ان کی پشت پناہی کرتے ہیں کیونکہ کمیشن نے ان کے منہ سی رکھے ہیں۔ انہوں نے اپنے پالتو خوشامدیوں کو سرکاری ملازمتوں میں بھر رکھا ہے۔ ’ایک ایسی مفلوج نوکر شاہی کو پالا اور تحفظ دیا جارہا ہے جو خود کو ایک مراعات یافتہ طبقہ سمجھتی ہے مگر اس سے عوام کے روزمرہ مسائل تک حل نہیں ہوپاتے۔ عوام کا یہ خواب آج تک تعبیر کا منتظر ہے کہ اس ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ ہو، ایک جوابدہ قیادت کو فروغ ملے، منصفانہ انتخابی قوانین بنیں اور عدلیہ آزاد ہو۔ ’حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصراللہ، فیوچر موومنٹ کے سربراہ سعد رفیق حریری اور پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ولید جنبلات نے پچھلے ایک ہفتے کے دوران اپنے بیانات میں ریاستی ڈھانچے اور کردار کی بہتری پر زور دیا ہے۔ لیکن بات اب بہتری سے آگے نکل چکی ہے۔ ماضی کے تعصبات پر مبنی سیاست کی جگہ اس ملک کو دور رس اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ ’بدعنوانی اور فرقہ واریت کی ٹرین اپنے آخری سٹیشن پر پہنچ گئی ہے۔ لبنانی ایک طویل عرصے سے بے سمتی کی اذیت کا شکار ہیں اور اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب وہ ایک روشن مستقبل کی طرف پرواز کرنا چاہتے ہیں‘۔ میں یہ اداریہ پڑھ کے سوچ رہا ہوں کہ آخر بیروت سے کراچی واپسی کی ایسی بھی کیا جلدی۔ لبنان بھی تو اپنے پاکستان ہی کی طرح ہے۔ |
اسی بارے میں ’میں کیوں بچ گیا‘06 August, 2006 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم گرو دکھشنا پیش کیجیئے30 July, 2006 | قلم اور کالم کونڈولیزا رائس کو کون سمجھائے؟23 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||