BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخری کیل

کراچی پریس کلب
کراچی پریس کلب نے حقوق کی جنگ میں ہمیشہ قلعے کا کام کیا ہے
کراچی پریس کلب پاکستان کا غالباً واحد پریس کلب ہے جہاں انیس سو اٹھاون سے لے کر آج تک سالانہ انتخابات ہوتے ہیں۔

آج تک کوئی صدر یا وزیرِ اعظم کلب میں مدعو نہیں کیا گیا کیونکہ ہر دور میں کلب کو حکمرانوں کی صحافتی پالیسیوں سے اختلاف رہا۔

ایوبی آمریت کے خلاف انیس سو اڑسٹھ کی تحریک ہو، بھٹو حکومت کی صحافت کو پا بہ زنجیر کرنے کی کوشش ہو، ضیا الحق کے کالے سنسر کی مزاحمت کا سوال ہو یا مارشل لا کے خلاف تحریکِ بحالی جمہوریت ہو، کراچی پریس کلب کے ارکان نے ہر موقع پر ہراول دستے میں شمولیت اختیار کی۔ ماریں کھائیں۔ قید کاٹی اور بے روزگاری کی ازیت سہی۔

آج بھی اگر کسی کو بھوک ہڑتال کے لئے جگہ نہ مل سکے۔شہر میں جلسوں پر پابندی کے باوجود کوئی اجتماع کرنا چاہے۔کراچی پریس کلب ہمیشہ کی طرح باہیں پھیلا کر ایسے لوگوں کو گلے لگا لیتا ہے۔

لیکن جس طرح ہرپیشے اور ادارے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ صحافت میں بھی ہوتی ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف اپنے ضمیر کا سودا کردیتے ہیں بلکہ سرکاری اور نجی اداروں سے معمولی سے معمولی مراعات حاصل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ چاہے وہ دوروں کی شکل میں ہو۔پلاٹ کی صورت میں ہو، نقدی کی شکل میں ہو یا کسی اچھے ریسٹورنٹ میں صرف ایک ڈنر کے طور پر ہو۔ان کالی بھیڑوں میں وہ بھوری بھیڑیں بھی شامل ہوجاتی ہیں جنہیں اخباری مالکان صرف اخبار کا کارڈ جاری کردیتے ہیں اور پھر یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق چلیں اور اپنی تنخواہ بھی خود پیدا کریں۔

یہ کسی ایک قصبے یا شہر کی کہانی نہیں بلکہ صحافت کے نام پر کرپشن اور بلیک میلنگ کا کاروبار حکومتی اور غیر حکومتی ٹاؤٹوں کی شکل میں ملک گیر سطح پر پھیلا ہوا ہے ۔ اب تک یہ سب زیادہ تر انفرادی سطح پر ہوتا تھا۔

کراچی کے صحافی ایک مدت تک دوسرے شہروں کے صحافیوں کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے رہے کہ باقی ملک میں صرف اور صرف لفافہ صحافت ہورہی ہے اور کراچی اس وبا سے خاصی حد تک پاک ہے۔

لیکن تفاخر کے اس قلعے میں پہلا شگاف گزشتہ برس پڑا جب گورنر سندھ نے موسیقی کے ایک پروگرام میں خوش ہوکر فنکاروں کو نقد انعامات دئیے تو وہاں پر موجود کچھ صحافیوں نے مطالبہ کردیا کہ ہماری بھی کچھ حوصلہ افزائی ہونی چاہئیے۔چنانچہ باقاعدہ فہرست بنائی گئی اور صحافیوں کی نقد حوصلہ افزائی کی گئی۔ صحافیوں کی کسی انجمن نے اس واقعہ کی چھان بین کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اور اب سے چھ روز قبل گیارہ جولائی کو کراچی پریس کلب میں یہ واقعہ بھی ہوگیا کہ پنجابی پختون اتحاد نامی تنظیم کے عہدے داروں کی پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں کو باقاعدہ ایک ایک ہزار روپے کے نوٹ لفافوں میں رکھ کر تقسیم کئے گئے۔گنتی کے چند صحافیوں نے لفافے لینے سے انکار کردیا لیکن اکثریت نے نہ صرف ہنسی خوشی ا نہیں قبول کیا بلکہ غیر حاضر ساتھیوں کے لئے بھی پیسے کی فرمائش کی۔ لفافوں کے مقابلے میں خواہش مندوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ پریس کانفرنس کرنے والوں نے بٹوے سے پیسے نکال کر بانٹے۔

یہ سب کچھ کلب میں آویزاں فیض احمد فیض، حبیب جالب، ضمیر نیازی، نثار عثمانی، ابراہیم جلیس اور منہاج برنا جیسے اکابرین کی تصاویر نے بچشمِ خود دیکھا۔

اسی بارے میں
نصف شب کی دستک
18 June, 2006 | قلم اور کالم
غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ
09 July, 2006 | قلم اور کالم
اگر یہی حسنِ انتظام ہے
30 April, 2006 | قلم اور کالم
آئینی بنتوستان
07 May, 2006 | قلم اور کالم
کچھ لو، کچھ دو کا سیاسی کھیل
04 June, 2006 | قلم اور کالم
بھیڑیوں کو مرنے دو
11 June, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد