BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 April, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگر یہی حسنِ انتظام ہے

وزیرستان
حکومت کے ہمدرد150 سے زائد سردار اور دیگر معززین قتل ہو چکے ہیں۔
اب سے پانچ برس قبل جب افغانستان میں طالبان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد تتر بتر ہونے لگے تو امریکی دباؤ پر پاکستان نے سرحد پار سے بھاگنے والوں کا داخلہ روکنے کے لیئے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کی۔

اس زمانے میں اسلام آباد سے تواتر کے ساتھ یہ کہا جاتا رہا کہ قبائلی علاقوں میں اگر غیر ملکی چھاپہ مار روپوش بھی ہیں تو ان کی تعداد چھ سو سے زیادہ نہیں اور ان مٹھی بھر شرپسندوں کا چند ماہ میں ہی صفایا کردیا جائے گا یا پکڑ لیا جائے گا۔

پھر دوسرے ہی سانس میں ان شرپسندوں کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ رجسٹریشن کروا لیں اور پرامن رہنے کا وعدہ کریں تو انہیں بسنے یا اپنی مرضی سے جانے کی اجازت مل جائے گی اور پھر تیسرے ہی سانس میں یہ کہا گیا کہ ان شرپسندوں کو پناہ دینے والے قبائل پر اجتماعی جرمانے عائد کیئے جائیں گے اور ان کی املاک مسمار کر دی جائیں گی اور پھر چوتھے سانس میں قبائلی امن جرگوں کے ذریعے قضیہ نمٹانے کی پیشکش ہوئی اور اس کے متوازی براہِ راست شدت پسندوں سے بھی ایک سے زائد مرتبہ امن معاہدہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ شرپسندوں کے خلاف فوجی کاروائی بھی جاری رکھی گئی اور متعدد بار دو تین مشتبہ افراد کو ہلاک کرنے کے آپریشنز میں درجنوں لاتعلق سویلین بھی مارے جاتے رہے۔

ایک ہی وقت میں ایک ہی علاقے میں ایک ہی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے بیک وقت اتنے زیادہ فارمولے شائد ہی کبھی کسی نے استعمال کیئے ہوں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاہے وزیرستان میں موجود ملکی و غیر ملکی شدت پسند ہو یا کوئی عام قبائلی۔ کسی کو بھی حکومت کے کسی وعدے یا پالیسی یا عہد پر کوئی اعتبار نہیں رہا۔

 طالبان ہزاروں مسلح فوجیوں اور نیم فوجیوں کی موجودگی میں عدالتیں لگا رہے ہیں، فیصلے سنا رہے ہیں، فرمان جاری کر رہے ہیں، سر قلم کررہے ہیں اور کھمبوں سے لاشیں لٹکا رہے ہیں اور اب یہ اثرات وزیرستان سے ابل کر صوبہ سرحد کے شہر بنوں ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیل رہے ہیں۔

اتنی زیادہ سرکاری محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیرستان میں جہاں اگر چار برس پہلے مسلح شدت پسندوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی تو اب ہزاروں میں ہے۔ اگر طالبان اس علاقے میں پہلے مساجداور مدارس کے پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کررہے تھے تو اب یہی طالبان ہزاروں مسلح فوجیوں اور نیم فوجیوں کی موجودگی میں عدالتیں لگا رہے ہیں، فیصلے سنا رہے ہیں، فرمان جاری کر رہے ہیں، سر قلم کررہے ہیں اور کھمبوں سے لاشیں لٹکا رہے ہیں اور اب یہ اثرات وزیرستان سے ابل کر صوبہ سرحد کے شہر بنوں ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیل رہے ہیں۔

اس چار سالہ مہم جوئی کے طفیل سرکاری انتظامیہ قلعہ بند مراکز تک محدود ہو گئی ہے اور حکومت کے ہمدرد ڈیڑھ سو سے زائد سردار، ملک اور دیگر معززین قتل ہو چکے ہیں۔

یوں چار برس پہلے جو ایک زخم تھا وہ علاج کے نتیجے میں ناسور بن گیا ہے۔نہ قبائلی مطمئن۔نہ حکومتِ پاکستان خوش اور نہ ہی افغانستان اور امریکہ کی طرف سے کوئی داد و تحسین۔ اگر یہی حسنِ انتظام ہے تو پھر اس کے لئے جرنیل، بیورو کریٹ یا پولٹیکل ایجنٹ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

بات سے باتامریک خان کی کہانی
’خواہ مخواہ شک کرکے اپنی زندگی تباہ نہ کر‘
بات سے باتپہلے ’تھی‘ اب ’ہے‘
ہڑاہڑی مچی تھی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے:وسعت
بات سے بات بدلتے نظریات
یہ ٹھیک ہے وہ غلط تھا :وسعت اللہ خان
بات سے باتمیڈیا کا کوٹھا
زلزلے کی کہانی اس رئیس زادے کی کہانی ہے:وسعت
اسی بارے میں
نجکاری کا بدمست ہاتھی
16 April, 2006 | قلم اور کالم
دو رخا ہونے کے فوائد
09 April, 2006 | قلم اور کالم
پاکستان کی’شفاف جمہوریت‘
26 February, 2006 | قلم اور کالم
نائن زیرو ایکسپریس
19 February, 2006 | قلم اور کالم
ٹوپی پہناؤ
12 February, 2006 | قلم اور کالم
اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا
18 December, 2005 | قلم اور کالم
آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟
13 November, 2005 | قلم اور کالم
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد