ہڑاہڑی مچی تھی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
توقع تھی کہ چھ ماہ کے تجربے کے بعد چیزیں کچھ منظم ہوجائیں گی اور متعلقہ اداروں نے ناگہانی افراتفری سے نمٹنے کے مرحلے میں بہت کچھ سیکھ لیا ہوگا۔ لیکن تعمیرِ نو کا کل سے شروع ہونے والا مرحلہ اپنے ساتھ نئے مسائل لے کر آیا ہے۔ متاثرینِ زلزلہ کو پچیس ہزار روپے فی خاندان امدادی رقم کی تقسیم کا مرحلہ اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔ لیکن نہ یہ کہ اس کی تقسیم مکمل نہ ہوسکی بلکہ سینکڑوں امدادی چیک غلط ہاتھوں میں پہنچ جانے اور پھر اس چھان بین اور منسوخی میں تاخیر کا عمل ایک اور بحران بن گیا ہے۔ کیونکہ جس جس کو بھی غلط یا درست چیک ملے وہ انھیں بھنوانے کے بعد خرچ کر بیٹھا۔ سینکڑوں لوگ یہ چیک آج بھی اپنے ہاتھوں میں لیے گھوم رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے شناختی کارڈ بننے باقی ہیں کیونکہ شناختی کارڈ کے بغیر بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا۔ جن کے شناختی کارڈ بن گئے ہیں وہ بینکوں کے باہر لمبی لمبی قظاروں سے گھبرائے ہوئے ہیں اور جن کے اکاؤنٹس کھل گئے ہیں ان میں سے کئی چیک بک ایشو ہونے کے انتظار میں چکر لگا رہے ہیں۔ ایسے میں شارٹ کٹ طریقے سے پیسے لے کر کام کرنے والے ٹاؤٹوں کی بن آئی ہے۔ اب پچاس اور پچھتر ہزار روپے کے امدادی چیکوں کی تقسیم کے مرحلے کا آغاز ہورہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بہت سے علاقوں میں یہ جھگڑا شروع ہوگیا ہے کہ اس رقم کے حقدار مکان میں رہنے والے کرائے دار ہیں یا مالکِ مکان۔ اگر یہ رقم کرائے دار کو ملتی ہے تو پھر مالکِ مکان کو کیا ملے گا۔ اگر مالکِ مکان کو ملتی ہے تو پھر کرائے دار کے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا اور اگر ایک شخص دس متاثرہ مکانات کا مالک ہے تو کیا اسے دس چیک ملیں گے۔ ان سوالات نے رقم کی تقسیم سے پہلے ہی لوگوں کو تقسیم کردیا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سیسمک رپورٹ آنے اور نئے بلڈنگ قوانین لاگو ہونے تک تعمیرات نہ کی جائیں لیکن چھ ماہ بعد اب تک صرف مظفر آباد اور بالاکوٹ کی سیسمک رپورٹیں ہی سامنے آ سکی ہیں۔ باقی علاقوں کی رپورٹیں کب تک جاری ہوں گی یہ سرکاری اہلکار بھی نہیں جانتے۔اس پر طرہ یہ کہ حکومت نے خیمہ بستیاں خالی کرانی شروع کردی ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ بٹ گرام کے ایک دوکاندار کے بقول فرق صرف اتنا ہے کہ اگر آٹھ اکتوبر کو ہر طرف ہڑا ہڑی مچی ہوئی تھی تو آج چھ ماہ بعد ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں اگر لوگ ہی نہ رہے تو تعمیرِنو کس کی30 October, 2005 | قلم اور کالم زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم ڈونرکانفرنس،وعدے اور چیلنج23 November, 2005 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||