ڈونرکانفرنس،وعدے اور چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے اسلام آباد میں حکومت کی توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہونے والی کانفرنس نے پاکستان باالخصوص جنرل پرویز مشرف کو یہ احساس بخشا ہے کہ پاکستان آج بھی عالمی سطح پر سیاسی حوالے سےایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور شاید جنرل مشرف مستقبل میں ملک کے اندر اس کامیابی کو مخالفین کو زیر کرنے کے لیے سیاسی دلیل کے طور پر استعمال کریں۔ کشمیر اور صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیےحکومت نے پانچ اعشاریہ نو بلین ڈالر کے حصول کا پہلا مشکل مرحلہ امریکا اور سعودی عرب کی مدد سے انجام تک پہنچایا جنہوں نے حکومت کے بقول پردے کے پیچھے عالمی برادری اور مالی اداروں کو مالی مدد کے لیےراضی کیا۔ پاکستان کے سامنے اس وقت سب سے مشکل مرحلہ عالمی برادری سے وعدوں کی پاسداری ایسے حالات میں کرانی ہے جب جنگ زدہ افغانستان اور سونامی کے آفت زدہ نو ممالک عالمی برادری کے وعدوں کی مکمل پاسداری کے منتظر ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم کے معاشی امور کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ نے گرشتہ روز کہا ہے کہ ابھی تک دو سو ملین ڈالر وصول ہو چکے ہیں ایسے میں ایک اور مشکل کام عالمی برادری کو باور کرانا ہے کہ امدادی رقم شفاف طریقے سےزلزلہ زدگان پر اعلان شدہ منصوبوں کے مطابق خرچ ہوگی اور یہ وہ چیلنج ہے جس کا جنرل پرویز مشرف ملک کے اندر اور باہر سامنا کررہے ہیں۔
اسی چیلنج کا ادراک کرتے ہوئے جنرل مشرف نے اسلام آباد ڈونر کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ حکومت ایک ایک ڈالر کا حساب دے گی اور اس مقصد کے لیےویب سائٹ بنائی جائے گی، جس پر کوئی بھی تمام حساب کتاب دیکھ سکے گا لیکن حکومت اب بھی اس تنقید کا سامنا کررہی ہے کہ انہوں نے عالمی برادری کی طرف سے وعدوں کی ناکامی کی صورت میں کوئی متبادل پلان نہیں بنایاہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان وعدوں کی عدم تکمیل میں زلزلہ زدگان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے فوری طور پر اپنے وسائل سے ایک بلین ڈالر حاصل کرسکتی ہے مگر اس کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں دس فیصد کٹوتی کے علاوہ دفاعی بجٹ میں کمی کرنی ہوگی۔ دفاعی بجٹ میں کمی ایک ایسا مطالبہ ہے جس کے لیے جنرل پرویز مشرف تیار نہیں ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو ایک بار پھر وعدے کرنے والوں سے پاسداری کے لیے بڑی قوتوں سے اسی طرح لابنگ کرانی ہو گی جیسے کانفرنس سے قبل کرائی گئی تھی۔ تعمیر نو اور بحالی کے لیےحکومت کے تمام منصوبے کاغذوں پر موجود ہیں مگر انہیں عملی شکل دینے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہلکار اینڈریو میکنارڈ کی یہ بات زیادہ اہم ہے: ’منصوبے وعدوں سے نہیں، بینک میں پڑے نقد پیسوں سے عملی شکل اختیار کرتے ہیں‘۔ (عبدالحئی کاکڑ بی بی سی پشتو، پشاور سے وابسطہ ہیں) | اسی بارے میں ’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘23 November, 2005 | پاکستان پاکستان کو5.8 ارب ڈالر کی امداد19 November, 2005 | پاکستان ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم18 November, 2005 | پاکستان تعلیمی اداروں پر 61 کروڑ 40 لاکھ 19 November, 2005 | پاکستان ’بہترین بھارتی امداد تنازعہ کشمیر کا حل ہے‘19 November, 2005 | پاکستان ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان ’نظر انداز نہ کریں‘22 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||