BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈونرکانفرنس،وعدے اور چیلنج

ڈونر کانفرنس
زلزلے کے متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی ڈونر کانفرنس حکومت کی توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہوئی
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے اسلام آباد میں حکومت کی توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہونے والی کانفرنس نے پاکستان باالخصوص جنرل پرویز مشرف کو یہ احساس بخشا ہے کہ پاکستان آج بھی عالمی سطح پر سیاسی حوالے سےایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور شاید جنرل مشرف مستقبل میں ملک کے اندر اس کامیابی کو مخالفین کو زیر کرنے کے لیے سیاسی دلیل کے طور پر استعمال کریں۔

کشمیر اور صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیےحکومت نے پانچ اعشاریہ نو بلین ڈالر کے حصول کا پہلا مشکل مرحلہ امریکا اور سعودی عرب کی مدد سے انجام تک پہنچایا جنہوں نے حکومت کے بقول پردے کے پیچھے عالمی برادری اور مالی اداروں کو مالی مدد کے لیےراضی کیا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیکر قدرتی آفت میں بھی قیمت وصول کی اور یہاں سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر خدانخواستہ آٹھ اکتوبر کا حالیہ زلزلہ بالفرض پانچ سال قبل سال دو ہزار میں آتا تو کیا عالمی برادری بالخصوص مغربی ممالک اور امدادی مالی ادارے اسی فراخدلی کے ساتھ پاکستان کی مدد کرتے؟

پاکستان کے سامنے اس وقت سب سے مشکل مرحلہ عالمی برادری سے وعدوں کی پاسداری ایسے حالات میں کرانی ہے جب جنگ زدہ افغانستان اور سونامی کے آفت زدہ نو ممالک عالمی برادری کے وعدوں کی مکمل پاسداری کے منتظر ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم کے معاشی امور کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ نے گرشتہ روز کہا ہے کہ ابھی تک دو سو ملین ڈالر وصول ہو چکے ہیں ایسے میں ایک اور مشکل کام عالمی برادری کو باور کرانا ہے کہ امدادی رقم شفاف طریقے سےزلزلہ زدگان پر اعلان شدہ منصوبوں کے مطابق خرچ ہوگی اور یہ وہ چیلنج ہے جس کا جنرل پرویز مشرف ملک کے اندر اور باہر سامنا کررہے ہیں۔

ڈونر کانفرنس میں شریک ملکوں نے ان لوگوں کے لیے امداد اور قرضے دیے ہیں یا پاکستان کی موجودہ حکومت کے کردار کی وجہ سے؟

اسی چیلنج کا ادراک کرتے ہوئے جنرل مشرف نے اسلام آباد ڈونر کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ حکومت ایک ایک ڈالر کا حساب دے گی اور اس مقصد کے لیےویب سائٹ بنائی جائے گی، جس پر کوئی بھی تمام حساب کتاب دیکھ سکے گا لیکن حکومت اب بھی اس تنقید کا سامنا کررہی ہے کہ انہوں نے عالمی برادری کی طرف سے وعدوں کی ناکامی کی صورت میں کوئی متبادل پلان نہیں بنایاہے۔

بعض اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان وعدوں کی عدم تکمیل میں زلزلہ زدگان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے فوری طور پر اپنے وسائل سے ایک بلین ڈالر حاصل کرسکتی ہے مگر اس کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں دس فیصد کٹوتی کے علاوہ دفاعی بجٹ میں کمی کرنی ہوگی۔

دفاعی بجٹ میں کمی ایک ایسا مطالبہ ہے جس کے لیے جنرل پرویز مشرف تیار نہیں ہیں۔

ان حالات میں پاکستان کو ایک بار پھر وعدے کرنے والوں سے پاسداری کے لیے بڑی قوتوں سے اسی طرح لابنگ کرانی ہو گی جیسے کانفرنس سے قبل کرائی گئی تھی۔

تعمیر نو اور بحالی کے لیےحکومت کے تمام منصوبے کاغذوں پر موجود ہیں مگر انہیں عملی شکل دینے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہلکار اینڈریو میکنارڈ کی یہ بات زیادہ اہم ہے: ’منصوبے وعدوں سے نہیں، بینک میں پڑے نقد پیسوں سے عملی شکل اختیار کرتے ہیں‘۔

(عبدالحئی کاکڑ بی بی سی پشتو، پشاور سے وابسطہ ہیں)

اسی بارے میں
’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘
23 November, 2005 | پاکستان
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ
18 November, 2005 | پاکستان
’نظر انداز نہ کریں‘
22 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد