پاکستان کی’شفاف جمہوریت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایوب خان حکومت نے بیوروکریسی کو زبانی ہدایات جاری کی تھیں کہ بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت منتخب شدہ کنونشن مسلم لیگ کے کونسلروں کا کوئی کام نہ روکا جائے اور ہرممکن تعاون کیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو باقاعدہ پارٹی کارڈ جاری کئے تاکہ وہ سہولت کے ساتھ سرکاری محکموں سے عوامی مسائل حل کروا سکیں۔ اس کے علاوہ بھٹو حکومت نے’لیٹرل انٹری‘ کا نظام بھی متعارف کروایا تاکہ پبلک سروس کمیشن کے نظام کے تحت آنے والے کرپٹ افسروں کی برطرفی سے جو آسامیاں خالی ہوں ان پر مخلص پارٹی کارکنوں کا براہ راست تقرر ہوسکے اور بیوروکریسی سیاسی حکومت کے خلاف سازش نہ کرسکے۔ جب بے نظیر بھٹو وزیرِاعظم بنیں تو انہوں نے پیپلز ایمپلائمنٹ بیورو قائم کیا جس کا کام یہ تھا کہ جنرل ضیا کی آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے والے کارکنوں کو ترجیحی بنیاد پر سرکاری اور نیم سرکاری عہدوں پر مقرر کیا جائے۔ اس طریقے سے جو کارکن بھرتی ہوئے انہیں دو برس بعد ہی نواز شریف حکومت نے چلتا کردیا اور ان کی جگہ مسلم لیگی کارکنوں کو ارکانِ پارلیمان کے ملازمتی کوٹےاور وزیرِاعظم اور وزرائے اعلی کے صوابدیدی کوٹے کے ذریعے ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ ہر محکمے کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیئے مسلم لیگی کارکنوں کی نگراں کمیٹیاں بنائی گئیں تاکہ روزمرہ کے کام سہولت سے نکلتے رہیں۔ پنجاب کے موجودہ وزیرِ اعلی نے اس روایت کو مزید پائیدار بنانے کے لیئے پہلے تو بلدیاتی انتخابات کے موقع پر عوام سے کہا کہ اگر انہیں ترقیاتی فنڈز چاہیئیں تو مسلم لیگی کونسلرز کو کامیاب کروائیں۔ پھر مسلم لیگی کونسلرز سے کہا گیا کہ اگر وہ مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں تو وزیرِاعلی کے نامزد امیدواروں کو ناظم اور نائب ناظم منتخب کریں۔ اس حکمتِ عملی کی کامیابی کے بعد اب چوہدری پرویز الہی نے اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگی کارکنوں کو پریولیج کارڈ جاری کئے جارہے ہیں تاکہ وہ یہ کارڈ دکھا کر سرکاری محکموں سے اپنے کام ترجیحی بنیاد پر کروا سکیں۔ یہی نہیں بلکہ ملازمتوں کے سلسلے میں بھی مسلم لیگی کارکنوں کوترجیح ملے گی۔ پنجاب حکومت کی دیکھا دیکھی سندھ کے وزیرِاعلی ارباب غلام رحیم نے بھی صوبائی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات منسوخ کر دیے ہیں اور سرکاری محکموں میں اب براہِ راست تقرریاں کی جائیں گی۔ یہ وہ روڈ میپ ہے جس پر چلتے ہوئے آئندہ برس یا اس سے اگلے برس عام انتخابات ہوں گے اور وزیرِ اعلی پنجاب کے بقول ایسی اسمبلیاں وجود میں آ جائیں گی جو پرویز مشرف کو اگلے پانچ برس کے لیئے باوردی صدر منتخب کرلیں گی۔ موجودہ مسلم لیگی حکومت کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں کرپشن کے الزام میں نیب زدہ ارکان کی شمولیت سے لے کر صدر مشرف کو اگلی ٹرم کے لیئے باوردی صدر منتخب کرانے تک ہر کوشش اور اقدام شفاف اور کھلے پن کے جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی جمہوریت میں ہرکام کھلے اور شفاف طریقے سے ہوتا ہے۔ یہی وہ جمہوری ماڈل ہے جسے امریکی صدر بش اکثر سراہتے رہتے ہیں اور اسے مزید قریب سے دیکھنے کے لئے اب اسلام آباد تشریف لارہے ہیں۔ |
اسی بارے میں بلب چاہیے تاکہ بات صاف صاف ہو18 January, 2006 | قلم اور کالم کونسا آئین اور کیسی ضمانت25 December, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم اگر اب بھی !23 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||