BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 February, 2006, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نائن زیرو ایکسپریس

تھر ایکسپریس
ٹرین بھارت کی جانب سے واپس پاکستان میں داخل ہوئی تو انجن ڈرائیور اور اسکے دو ساتھی بھی ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے جئے الطاف
میں ٹرین پر میرپور خاص سٹیشن سے سوار ہونے میں کامیاب ہوا۔ پلیٹ فارم پر دو بڑی بڑی تصاویر سجی ہوئی تھیں۔ پیرپگارا اور الطاف حسین۔ میں تلاش کرتا رہا کہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور اب سے بیس برس پہلے کھوکھراپار سرحد کھولنے کا باضابطہ ارادہ ظاہر کرنے والے وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی تصویر بھی کہیں نہ کہیں ضرور ہوگی۔

سٹیشن پر مسلم لیگ کے تین چار جھنڈے الٹے لٹک رہے تھے۔سینکڑوں نوجوان متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے اٹھائے استقبالیہ سٹال پر بجنے والے نغمے ’مظلوموں کا ساتھی ہے الطاف حسین‘ کی دھن پر رقص کررہے تھے۔

جیسے ہی ٹرین سٹیشن میں داخل ہوئی فضا جئے الطاف سے گونج اٹھی۔ٹرین کو جو انجن کھینچ رہا تھا اس پر سامنے کی جانب سفید کارڈ بورڈ ٹنگا ہوا تھا۔اس پر لکھا تھا ’ الطاف حسین۔نام ہی کافی ہے’۔مرحوم محمد خان جونیجو کی صاحبزادی اور میرپور خاص کی ناظمہ صغری جونیجو نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے جلوس میں ٹرین کا استقبال کیا۔

میرپور خاص کے بعد ٹرین نے زیرو پوائنٹ تک پانچ گھنٹے میں سترہ سٹیشن کراس کیے۔ لیکن راستے بھر گزرتی ٹرین کے استقبال کے لئے ہاتھ ہلانے والے مفلوک الحال مرد، عورتیں اور بچےصرف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔بس ایک جگہ کسی نے نعرہ لگایا جئے بھٹو۔

کھوکھرا پار سٹیشن گزرنے کے بعد اچانک ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھری جھنڈوں سے سجی ایک بس اور دوتین لینڈ کروزریں زیرو پوائنٹ تک ٹرین کے ساتھ ساتھ دوڑتی رہیں۔ پچھلے کئی ہفتوں سے رینجر مقامی باشندوں کو بھی کھوکھرا پار سے آگے کسی صورت نہیں جانے دیتے لیکن لگ یوں رہا تھا کہ ایم کیو ایم کے جوش و خروش نے رینجر کی چوکیوں کو بھی بے بس کردیا۔

جب ٹرین زیرو پوائنٹ اسٹیشن پر رکی تو وہاں مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی علی مردان شاہ، رکنِ قومی اسمبلی یوسف تالپور، علاقے سے تعلق رکھنے والے سپیکر سندھ اسمبلی مظفرشاہ سمیت کوئی نہیں تھا۔ وزیرِ اعلی سندھ ارباب غلام رحیم تھر میں ہونے کے باوجود تھر ایکسپریس کو رخصت کرنے نہ پہنچ سکے۔گورنر سندھ عشرت العباد کی آمد بھی منسوخ ہوگئی اور وفاقی وزیرِ ریلوے میاں شمیم حیدر نے بھی اپنی جگہ پاکستان ریلوے کے سربراہ شکیل درانی کو بھیج دیا۔صرف ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے چند ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی موجود تھے۔

جیسے ہی ٹرین چالیس برس بعد پاکستان کا سرحدی دروازہ عبور کرکے بفرزون میں داخل ہوئی ریل کی کھڑکیوں سے ایم کیو ایم کے جھنڈے نکل آئے اور جب شام کو ٹرین بھارت کی جانب سے واپس پاکستان میں داخل ہوئی تو انجن ڈرائیور اور اسکے دو ساتھی بھی ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے جئے الطاف۔

اسی بارے میں
تھر ایکسپریس بھارت پہنچ گئی
18 February, 2006 | پاکستان
تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ
17 February, 2006 | پاکستان
تھر ایکسپریس واپس پہنچ گئی
18 February, 2006 | پاکستان
’مجھے اجمیر جانا ہے‘
18 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد