BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریک خان کی سادہ سی کہانی

’سردار جیسے جاگیردار اپنے من، فیصلوں اور زندگی کے خود مالک ہوتے ہیں‘
پچھلے ایک ہفتے سے پاک بی بی کو نہ اپنے کپڑوں کا ہوش ہے اور نہ کھانے پینے سے کوئی دلچسپی۔ نیند تو ایسا لگتا ہے کہ اس سے ہمیشہ کے لئے روٹھ گئی ہے۔اس میں اب ملازموں کو ڈانٹنے پھٹکارنے کی بھی طاقت نہیں رہی۔ حویلی میں گویا سوگ کا سا سکوت ہے۔

ہائے ہائے! وہ بھی کیا دن تھے جب پاک بی بی برسوں پہلے اس حویلی میں ادھیڑ عمر سردار امریک خان کی تیسری نئی نویلی دلہن کے طور پر آئی تھی۔سردار کے ہاں کوئی مہینے بھر کا جشن اور لگاتار مجراہوا تھا۔

عمروں میں فرق اور سٹیٹس اور مزاج میں اونچ نیچ کے باوجود پاک بی بی یہ سوچ کر جھوم جھوم جاتی تھی کہ سردار امریک خان اس پر کس قدر فریفتہ ہے اور جب سردار چند برس بعد بالکل بوڑھا ہوجائے گا تو وہ اسکے مقابلے میں تب بھی جوان ہوگی۔یوں سردار مرتے دم تک اسکے پلو سے بندھا رہے گا۔

اگر پاک بی بی کا پس منظر کسی متوسط گھرانے کے بجائے جاگیردار گھرانے کا ہوتا تو اسکے دماغ میں یہ بے وقوفانہ سوچ کبھی نہ آتی کہ وہ محض اپنے حسن اور جوانی کے زور پر سردار امریک خان کو قابو میں رکھ سکے گی۔اسے اچھی طرح معلوم ہوتا کہ سردار جیسے جاگیردار اپنے من، فیصلوں اور زندگی کے خود مالک ہوتے ہیں۔

چنانچہ سال بھر پہلے جب وفا شعار پاک بی بی کی ہمراز ملازمہ نے ایک دن اسے خبر دی کہ سردار امریک خان کا شہر میں آباد ایک مشہور ادھیڑ عمر خاتون صنعتکار اندو بیگم سے چکر چل رھا ہے تو پاک بی بی کو یقین نہ آیا اور اس نے ملازمہ کو شدید جھاڑ پلادی۔

جب سردار امریک خان رات گئے گھر لوٹا تو پاک بی بی نے پہلی دفعہ دبی زبان سے پوچھا آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے۔

جہاندیدہ سردار فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا اور اس نے طیش میں آئے بغیر پاک بی بی کو اپنے قریب کرتے ہوئے غور سے دیکھا اور ہنس پڑا۔پھر پاک بی بی کے کاندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

’تو کیوں اس غم میں گھلی جارہی ہے بھلیئے لوکے۔دیکھ میرا اگر اندو بیگم سے کوئی معاملہ چل بھی رھا ہے تو اس لئے نہیں کہ تجھ سے دل بھر گیا ہے۔مگر تو کملی نئے زمانے کو کیا جانے۔دیکھ میرے پاس زمین ہے اور اندو بیگم کے پاس فیکٹریاں۔ جب ہم دونوں مل کے کاروباری پارٹنر ہوں گے تو کاروبار میں اگر اندو کا فائدہ ہوگا تو مقامی سیاست میں تیرے امریک خان کی ساکھ بھی تو بڑھے گیا اور تو کیا امریک خان سے کوئی الگ ہے۔تو اس حویلی کی رانی ہے۔خوامخواہ شک کرکے اپنی زندگی تباہ نہ کر۔جا اب جا کے سوجا اور فضول کی باتیں نہ سوچ۔‘

پچھلے ایک ہفتے سے سردار جو شہر گیا ہے اب تک نہیں لوٹا۔پاک بی بی بہت کم کمرے سے باہر نکلتی ہے۔اسکے کانوں میں ہروقت امریک خان کے الفاظ گونجتے ہیں۔

خواہ مخواہ شک کرکے اپنی زندگی تباہ نہ کر۔

بات سے باتنائن زیرو ایکسپریس
کھوکھرا پار،جئے الطاف کے نعرے۔ وسعت کا کالم
کیسی آئینی ضمانت
آئینی ضمانت اور وہ بھی کتنے دن کی: وسعت اللہ
ماضی آڑے آ رہا ہے
بنگلہ دیش کا قیام، تنگ نظر سیاست: وسعت اللہ
اپنے سائے میں
ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں: وسعت اللہ خان
اسی بارے میں
پاکستان کی’شفاف جمہوریت‘
26 February, 2006 | قلم اور کالم
بلب چاہیے تاکہ بات صاف صاف ہو
18 January, 2006 | قلم اور کالم
کونسا آئین اور کیسی ضمانت
25 December, 2005 | قلم اور کالم
اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا
18 December, 2005 | قلم اور کالم
آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟
13 November, 2005 | قلم اور کالم
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
اگر اب بھی !
23 October, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد