آزادی کا شکنجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت سے عراقی فوجوں کے تباہ کن انخلا کے بعد انیس سو اکیانوے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جو اقتصادی پابندیاں نافذ کیں انکے تحت عراق ایسی کوئی چیز باہر سے نہیں منگوا سکتا تھا جو سویلین کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد بالخصوص وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری کے لیئے استعمال ہوسکتی ہو۔ اس ممنوعہ فہرست میں جو ہزاروں اشیا درج تھیں ان میں متعدد ادویات، ایکسرے مشینیں، سکے والی پنسلیں، سائنسی تحقیق کے رسالے اور جرنل اور اعلی کوالٹی کا کاغذ بھی شامل تھا۔ اب سے ٹھیک تین برس پہلے صدام حسین کی پینتیس سالہ آمریت کے خاتمے پر عراق اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اقتصادی پابندیوں سے آزاد کر دیا گیا۔
لیکن آزادی کے ان تین برسوں کے دوران اعلی تعلیم اور سائنس کا کوئی ادارہ کام نہیں کرپایا۔ان اداروں اور عجائب گھروں سے ایک ملین کے لگ بھگ کتابیں، دس ملین سے زائد دستاویزات اور چودہ ہزار سے زائد تاریخی نوادرات یا تو ضائع ہوگئے یا غائب ہوگئے۔ ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ سائنسدان، محقق اور اساتذہ سرکاری اور غیر سرکاری مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔سینکڑوں ماہرین لاپتہ ہیں اور ہزاروں ملک سے بھاگ گئے۔ عراق میں انسانی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ایک سابق اعلی اہلکار جان پیس کے بقول بغداد کے تفتیشی مراکز میں ماہانہ ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔اور یہ بات امریکی حکام کے پوری طرح سے علم میں ہے۔ اسوقت نظربندی مراکز میں کوئی تئیس ہزار ایسے باشندے ہیں جن میں سے نوے فیصد پر باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ آزادی کے نام پر اس ہلاکت خیز لوٹ سیل میں ابومصعب الزرقاوی کے حامی، سابق بعثی، شیعہ البدر ملیشیا، مہدی آرمی ، کردش پیش مرگہ اور لاطینی امریکہ کی طرز پر تربیت یافتہ پولیس کے ڈیتھ سکواڈز اور سی آئی اے سب شامل ہیں۔ اب سے سولہ برس پہلے عراق کی سوا دو کروڑ آبادی میں سے نصف کا شمار ایسی مڈل کلاس میں ہوتا تھا جہاں خواندگی کا تناسب پچانوے فیصد سے زائد اور ملازمتوں میں خواتین کا تناسب چالیس فیصد کے لگ بھگ تھا۔لیکن اسوقت عراق وہ ملک ہے جو شخصی آمریت کے شکنجے سے نکال کر آزادی کے شکنجے میں کس دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم کہ ہم غریب ہوئے ہیں03 July, 2005 | قلم اور کالم مفت مشورہ: تھوڑا سا آرام کر لیں18 September, 2005 | قلم اور کالم سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے18 February, 2006 | قلم اور کالم ’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘22 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||