سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے سترہ فروری کو ایک تقریر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ پروپیگنڈہ کی جنگ میں القاعدہ امریکہ کو اب تک مات دیتا آیا ہے کیونکہ اس نے بڑی چابکدستی سے میڈیا کے نئے عہد کو اپنے مقاصد کے لئے ڈھال لیا ہے۔ وزیر دفاع نے مغرب کو کچھ مشورے دیئے ہیں: • امریکی حکومت اور فوج کو چاہئے کہ حالات اور واقعات پر فوری رد عمل ظاہر کریں اور انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ • ہمیں چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی موثر پروپیگنڈہ مشین شروع کرنی ہوگی ورنہ اس جنگ میں ہم بری طرح ہار جائیں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی جنگ بش انتظامیہ کے سامنے ایک نیا محاذ کھول رہی ہے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ کی اس تقریر سے صرف دو دن پہلے برطانیہ کی سٹریتھ کلائڈ یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر ڈیوڈ ملر کا ایک مضمون شائع ہو چکا تھا۔ عنوان تھا ’پروپیگنڈہ جسے ہم دنیا کے سامنے خبر کے طور پر پیش کرتے ہیں‘۔ ڈیوڈ ملر نے لکھا ہے کہ British Satellite News کے نام سے ایک ویب سائٹ کام کررہی ہے جو اپنے آپ کو ٹیلیویژن نیوز اور فیچر سروس کہتی ہے اور اس کی پیش کش ہے کہ کسی معاوضے کے بغیر اس کے مواد کو ٹیلیویژن اور اخباروں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ویب سائٹ ایک تجارتی ادارہ ورلڈ ٹیلیویژن چلاتا ہے جس کا کام دوسرے تجارتی اداروں کو جھوٹی خبریں فراہم کرنا اور برطانیہ اور امریکہ کے لئے ایسی پروپیگنڈہ فلمیں بنانا ہے جن سے نفسیاتی جنگ لڑی جاسکے۔ ورلڈ ٹیلیویژن کو برطانوی وزارت خارجہ فنڈ مہیا کرتی ہے۔ اب سے پانچ سال پہلے اس نے تین سو چالیس ملین پونڈ اس پر صرف کیے تھے۔ ورلڈ ٹیلیویژن کا کہنا ہے کہ نومبر دو ہزار تین تک مشرق وسطٰی کے سترہ میں سے چودہ ٹیلیویژن سٹیشن اس کی خبریں نشر کررہے تھے۔ اور دنیا بھر میں ایک سو پچاسی سٹیشن اس سے استفادہ کرتے ہیں جن میں روس، جرمنی، افریقہ، ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان اور آسٹریلیا کے سٹیشن بھی شامل ہیں۔ جھوٹی سچی خبروں کا یہ کار خانہ بے حد ہنر مندی کے ساتھ پروگرام پیش کرتا ہے اور شائبہ بھی نہیں ہونے دیتا کہ آپ پروپیگنڈہ دیکھ اور سن رہے ہیں۔’ماہرین‘ کی جماعتیں مباحثوں میں حصہ لیتی ہیں جن کے لئے جگہ قابل اعتبار اداروں مثلاً چیٹھیم ہاؤس میں فراہم کی جاتی ہے۔ جھوٹ کی ایک مثال: ’پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی بیرونی طاقت نے عراق میں جدید، جمہوری اور آزاد خیال حکومت قائم کرنے کی کوشش کی ہو۔ برطانیہ اسی طرح کی کوشش1920 کے زمانے میں بھی کرچکا ہے‘۔ سچ یہ ہے کہ انیس سو بیس میں برطانوی قبضے کے خلاف عراقیوں نے علم بغاوت بلند کیا تھا جسے قابضوں نے جبر اور ظلم کے ساتھ کچل دیا تھا اور ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کردی تھی جو مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں سب سے قابل نفرت خیال کی جاتی تھی۔ جھوٹ کو سچ کا رنگ دینے کے لئے کبھی کبھار امریکہ پر تھوڑی سی تنقید کردی جاتی ہے اور اسرائیلی اقدامات سے اختلاف کا اظہار کردیا جاتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات اس انداز میں پیش کرنے کے پیچھے یہ حکمت عملی ہے کہ امریکہ پر اگر تنقید کی جائے گی تو ہماری بات باوثوق ہو جائے گی اور پھر جب ہم امریکہ کی حمایت کریں گے تو اس پر یقین کرلیا جائے گا۔ امریکہ میں اب تک اس طرح کی کوششیں نسبتاً بھونڈی رہی ہیں۔ مثلاً ایکٹروں کو صحافی کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔ تعلقات عامہ کی ایجنسیاں جعلی خبریں گھڑتی رہی ہیں۔ لیکن اب وزیر دفاع کے تازہ بیان کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ وہاں بھی جھوٹی خبروں کے کارخانے قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہوگا۔ | اسی بارے میں اسامہ بن لادن اور برطانوی انٹیلیجنس 26 July, 2005 | قلم اور کالم 7/7 کے حملے اور میں17 July, 2005 | قلم اور کالم اسامہ بن لادن مزید مہنگے ہو گئے26 January, 2005 | قلم اور کالم اسامہ کا ویڈیو، پاکستان کا’ کردار‘30 October, 2004 | قلم اور کالم اسامہ کی گرفتاری، مسائل کا حل؟06 March, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||