اسامہ کی گرفتاری، مسائل کا حل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے میں اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی اور وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان نے اسامہ کی تلاش کے لئے قبائلی علاقے میں کوئی 70 ہزار فوجی اور ملیشیا والے تعینات کئے ہیں جن میں سے کوئی 16 مارے بھی جا چکے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستانی افواج خیبر ایجنسی میں تیراہ کے علاقے میں بھی داخل ہوگئیں جو انہوں نے آزادی کے بعد اب تک نہیں کیا تھا، لیکن اسامہ اور ان کے ساتھی نہیں ملے۔ ادھر امریکیوں نے بھی افغانستان کے تورہ بوڑا علاقے میں زور لگایا ہوا ہے اوراپنے جدید آلات اور ہتھیاروں کے ساتھ ایک ایک غار کی تلاشی لی رہے ہیں لیکن اسامہ ہیں کہ طلسم ہوش ربا کے کردار عمرو عیار کی طرح جب دل چاہتا ہے دشمنوں کو چڑانے کے لئے کہیں دکھائی دے جاتے ہیں اور جب شور اٹھتا ہے کہ فلاں جگہ دیکھے گئے ہیں، پاکستانی اور امریکی فوجی اپنے تان توبڑے کے ساتھ ان کو پکڑنے کے لئے دوڑتے ہیں تو پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ کوئی دو ڈھائی سال سے جاری ہے لیکن ابتک غالباً یہ بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ وہ کس ملک میں چھپے ہوئے ہیں، پاکستان میں یا افغانستان میں اور چھپے ہوئے بھی ہیں یا اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اس تمام عرصے میں اگر کوئی بات کسی حد تک وثوق سے کہی جاسکتی ہے تو صرف یہ کہ پاکستان اور امریکہ کی مسلح افواج اسامہ کی تلاش میں اب تک ناکام رہی ہیں۔ اور اسکی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ اسامہ اور ان کے ساتھی امریکی اور پاکستانی افواج سے زیادہ ذہین اور تربیت یافتہ ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ جس علاقے میں بھی روپوش ہیں وہاں کے لوگوں کی انہیں حمایت اور ہمدردی حاصل ہے۔ میں سمجھتا ہوں دونوں باتیں ہی کسی حد تک صحیح ہیں۔ مثلاً اسامہ ہوں یا ملاّ عمر دونوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان کی ساری عسکری تربیت ہی امریکی اور پاکستانی ماہرین کی نگرانی میں ہوئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اتنی محنت اور لگن سے انہیں یہ تربیت فراہم کی گئی کہ خود اپنے فوجیوں کو بھی اس محنت سے فراہم نہیں کی گئی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسامہ اور ملاّ عمر اور ان کے تمام ساتھی اپنے استادوں کے بھی استاد ہوگئے ہیں۔ اوران سارے داؤ پیچ اور ہتھکنڈوں سے واقف ہیں جو انہیں پکڑنے کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ کسی کارروائی سے پہلے ہی اپنے بچاؤ کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں۔ یعنی اگر یہ کہا جائے تو بہت زیادہ غلط نہیں ہوگا کہ جو گڈھا 1980 کی دہائی میں امریکیوں اور پاکستانیوں نےسوویت افواج کے لئے کھودا تھا وہی اب ان کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ بنا ہوا ہے۔
دوسری وجہ بھی، یعنی یہ کہ اسامہ اور ان کے ساتھیوں کو اس علاقے لوگوں کی حمایت حاصل ہے جس میں وہ روپوش ہیں، بڑی حد تک صحیح لگتی ہے۔ اس لئے کہ اتنے دنوں تک اسامہ اور ملا عمر جیسی شخصیتوں کا کامیابی سے روپوش رہنا اور وہ بھی جب دنیا کے انتہائی منظم اور مسلح خفیہ ادارے اور افواج ان کی تلاش میں ہوں، ممکن ہی نہیں ہوسکتا اگر اس علاقے کے عوام کی انہیں حمایت حاصل نہ ہو۔ مشکل یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں ان پر طاقت کا نشہ کچھ ایسا چڑھتا ہے کہ وہ آپے میں ہے نہیں رہتے۔ اس لئے نہ وہ اپنے ماضی کے تجربوں سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں نہ کسی کے مشورے پر کان دھرتے ہیں۔ اب یہ بات طے ہے کہ ویتنام کی جنگ میں امریکہ کی شکست کی کوئی وجہ نظر آتی ہے تو صرف یہ کہ ویتنامی عوام ان کے ساتھ نہیں تھے۔ باقی ہر شعبے میں انہیں ویتکانگ چھاپہ ماروں پر سبقت حاصل تھی۔ اسلحہ تو اسلحہ جسامت میں بھی ویتکانگ اتنے پستہ قد تھے کہ اگر پنجوں کے بل بھی کھڑے ہوتے تو بڑی مشکل سے امریکیوں کی کمر تک پہنچتے۔ لیکن جب مارنے مرنے پر آئے تو ان کی مار نہیں سہی گئی۔
یہی حال سابق مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجیوں کا ہوا کہ جناب اللہ کا دیا سب کچھ تھا، گولہ بارود، توپ طیارے ، فوجی بھی ماشا اللہ ہاتھ پیر سے مضبوط بس اگر کمی تھی تو صرف اس بات کی کہ سابق مشرقی پاکستان کے عوام ساتھ نہیں تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ کا شروع ہونا تھا اور 93 ہزار کا لشکر جرار دیکھتے دیکھتے ہندوستانیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ وہ تجربے ہیں جن سے ہر قوم کو سیکھنا بھی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان یا امریکہ کو یہ یقین ہے کہ اسامہ یا ملا عمر اور ان کے ساتھی پاکستان یا افغانستان یا جس ملک میں بھی چھپے ہوئے ہیں تو اس علاقے کہ لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ وہ ان کے لئے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے امریکہ یا کستان کی افواج کے لئے ہیں اور ان کو پناہ دینا یا گرفتاری سے بچنے میں مدد دینا گناہ ہے تو ممکن ہے کہ پاکستانی اور امریکی افواج کی راہ آسان ہو جائے۔ اگر انہوں نے یہ وطیرہ اختیار رکھا کہ جس نے ان کی بات سنی اسے انعام و اکرام سے نواز دیا اور جس نے مزاحمت کی اس کو تباہ و برباد کردیا تو میرے خیال میں اسامہ اور ملا عمر آج نہیں کل پکڑے تو جائیں گے لیکن بڑی خرابی کے بعد اور اس سے دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو یا نہیں اور بہت سارے مسائل پیدا ہو جائیں گے جن سے نمٹنا اور بھی زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||