یہ ٹھیک ہے وہ غلط تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ولی خان ، جی ایم سید اور شیخ مجیب الرحمان کو مستقل یہ طعنے ملتے رہے کہ وہ بھارتی لابی کے لئے کام کرتے ہیں۔ لیکن شیخ مجیب الرحمان کو فروری انیس سو چوہتر میں بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم کے طور پر لاہور ایرپورٹ پر پورا سٹیٹ پروٹوکول دیا گیا۔ صدرِ پاکستان ، بری فوج کے سربراہ اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیا الحق نے جی ایم سید کے آبائی گاؤں سن جاکر انہیں گلدستہ پیش کیا اور صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے ولی باغ جاکر اصولی سیاست کے پیکر ولی خان کے ورثا سے تعزیت کی۔ پانچ دہائیوں تک پاکستانی فوج کا دفاعی نظریہ یہ رہا کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اگر بھارت دس توپیں خریدے گا تو ہم کم ازکم پانچ ضرور خریدیں گے تاکہ فوجی توازن برقرار رہے۔ اس پورے عرصے میں پاکستان کی سرحدی پٹی میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو مواصلات اور نقل و حمل کی سہولتوں سے یہ کہہ کر محروم رکھا گیا کہ جنگ کی صورت میں دشمن ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن آج کوئی بھی جا کر دیکھ سکتا ہے کہ لاہور سیکٹر میں برکی اور واھگہ تک کی ساری سرحدی پٹی پر فارم ہاؤسز اور رہائشی اسکیمیں پھل پھول رہی ہیں اور چار برس پہلے جو زمین ڈیڑھ لاکھ روپے ایکڑ میں بھی مہنگی سمجھی جاتی تھی اب پچیس لاکھ روپے ایکڑ میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ تو کیا اب اس سرحدی علاقے میں دشمن نمبر ایک کے ساتھ کبھی لڑائی نہیں ہوگی۔ پانچ دہائیوں سے جاری پاکستان کا فوجی ڈاکٹرآئین جارج بش نے صرف ایک جملے میں بدل دیا جب انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان سے امریکہ کے تعلقات کسی ایک ملک کی قیمت پر نہیں ہیں بلکہ دونوں ملکوں کی تاریخ اور ضروریات مختلف ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے ذرائع ابلاغ کے ایڈیٹروں سے ملاقات کے دوران صدر بش کے نظریے کی روشنی میں کہا کہ بھارت کے مقابلے میں ناگزیر ایٹمی صلاحیت کے حصول کے بعد پاکستان خود کو بھارت کے ساتھ دفاعی دوڑ میں شریک نہیں سمجھتا۔ بھارت کے عزائم علاقائی اور بین الاقوامی ہیں جبکہ پاکستان کے ایسے کوئی عزائم نہیں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ صدر نے یہ اعتراف بھی کیا کہ فوج کے ادارے کو نئے حقائق تسلیم کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اپنائے جانے والے دفاعی نظریے کے سائے میں تین نسلوں نے اس بنیاد پر اپنے پیٹ پر پتھر باندھے رکھے کہ بھارت سے مسابقت روٹی کپڑے اور مکان سے زیادہ اہم ہے۔ سکول اور اسپتال سے زیادہ اہم ملک کا جغرافیائی اور نظریاتی تحفظ ہے۔ تو کیا اب نیا دفاعی نظریہ چوتھی نسل کے لئے خوشخبری لے کر آئے گا۔کیا اب یہ توقع رکھی جائے کہ جون میں جو قومی بجٹ پیش ہونے والا ہے اس میں صحت، تعلیم ، رہائش اور روزگار کے شعبے میں دفاعی بجٹ کے برابر رقم رکھی جائے گی یا اب بھی سائنس و ٹیکنالوجی میں قومی ترقی کا معیار میزائلوں کے ٹھیک ٹھیک نشانے پر گرنے کی صلاحیت اور خارجہ پالیسی میں کامیابی کا معیار ایف سولہ طیاروں کا حصول ہی ٹھہرے گا۔ | اسی بارے میں ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم کہ ہم غریب ہوئے ہیں03 July, 2005 | قلم اور کالم مفت مشورہ: تھوڑا سا آرام کر لیں18 September, 2005 | قلم اور کالم سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے18 February, 2006 | قلم اور کالم ’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘22 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||