دو رخا ہونے کے فوائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سردار فلانے خان اگر کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں اپنے بنگلے پر موجود ہوں تو گفتگو میں اکثر روشن خیالی، جہموریت نوازی، انسان دوستی اور اس بارے میں عظیم مغربی فلسفیوں کے اقوال بار بار تذکرے میں رہتے ہیں۔ لیکن جب یہی سردار فلانے خان مظفرگڑھ، خیرپور، خضدار یا بنوں جیسے سینکڑوں علاقوں میں اپنے اوطاق یا حجرے یا حویلی پر لوٹتے ہیں تو روشن خیالی، جمہوریت اور انسان نوازی اور مغربی لبرل ازم کے موضوعات گھوڑوں اور کتوں کی اقسام، ان کی مالش کے نئے طریقوں، کسی کو علاقہ بدر کرنے کے فیصلوں اور فلاں مخالف کی ناک زمین پر رگڑوانے جیسی خواہشات سے بدل جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے غورکیا ہے کہ اس طرح کی خبریں اکثر چھوٹے قصبات اور دور دراز دیہی علاقوں سے ہی کیوں آتی ہیں کہ فلاں مولوی کی اپیل یا فتوی پر لوگوں نے اپنے ٹیلی ویژن سنگسار کردیے، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو آگ لگا دی، این جی او کے دفتر پر پتھراؤ کیا یا لڑکیوں کے کسی اسکول میں توڑ پھوڑ کی یا ایف ایم ریڈیو کے ذریعے لوگوں کے مذہبی جذبات کو اتنا بھڑکایا کہ انہوں نے اپنے مخالف کے پیروکاروں کو عورتوں، بچوں سمیت مارڈالا۔ ایسا کیوں ہے کہ جب دور دراز علاقے کا کوئی بچہ کراچی، ملتان یا لاہور کے کسی مستند مدرسے سے سولہ برس تک دین کا علم حاصل کرکے طرح طرح کے لوگوں کو اپنے اردگرد کے ماحول میں برداشت کرنے کے بعد واپس اپنے علاقے کو لوٹتا ہے تو ان میں سے اکثر اور ساتویں اور آٹھویں صدی کے ان یورپی پادریوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا جن کے خیال میں ہر خوبصورت مگر قابو سے باہر عورت چڑیل، ہر مخالف مرتد اور نہ سمجھ میں آنے والا یا پہنچ سے باہر کوئی بھی اوزار یا آلہ شیطانی چرخہ ہوتا ہے۔ جب بریگیڈیئر یا میجر جنرل یا لیفٹیننٹ جنرل ایکس وائی زیڈ خان مختلف علاقوں میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز ہوا کرتے تھے تو انہیں شاید خود بھی یاد نہ ہو کہ ان کی ماتحت سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں نے کتنے سیاسی کارکنوں کو کوڑوں اور قید کی سزائیں سنائی ہوں گی۔ لیکن جب انہی کے عہدے کے آگے لفظ ریٹائرڈ کا اضافہ ہوجاتا ہے تو گویا کایا پلٹ ہوجاتی ہے۔ ان میں سے بعض سویلین اداروں کو سدھارنے کے لیئے اپنی خدمات مستعار پیش کردیتے ہیں۔ کچھ کتابیں اور یاد داشتیں لکھتے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک سے زائد موقع پر اپنے سینئر کے جمہوریت دشمن فیصلوں سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں تبادلوں، پروموشنز میں تاخیر یا قبل ازوقت امتیازی ریٹائرمنٹ کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ ریٹائرڈ جنرل ملکی اور بین الاقوامی سیمیناروں اور دوروں کی جان ہوتے ہیں اور اخبارات اپنے ادارتی صفحات ان کے پرمغز خیالات کے لیئے سرخ قالین کی طرح بچھادیتے ہیں۔ یوں قوم کا یہ اثاثہ قوم کے غم میں بقیہ زندگی ہنسی خوشی گذار لیتا ہے۔ سوال یہ ہے آیا آج کی دنیا میں یک رخوں کے لیئے بھی کوئی گنجائش ہے یا کامیابی سے زندہ رہنے کے لیئے دو رخا ہونا ہی ضروری ہے۔ |
اسی بارے میں اگر اب بھی !23 October, 2005 | قلم اور کالم رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟17 October, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم نائن زیرو ایکسپریس19 February, 2006 | قلم اور کالم پاکستان کی’شفاف جمہوریت‘26 February, 2006 | قلم اور کالم ٹوپی پہناؤ12 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||