BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 February, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹوپی پہناؤ

اسلام آباد
محنت کے جائز معاوضے کے لیے جدو جہد
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے کہ ’بھائی میاں ذرا سنبھل کر رہنا۔ یہاں ہر آدمی دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے چکر میں ہے۔ آنکھ جھپکی نہیں اور ٹوپی فِٹ‘۔

شروع شروع میں مجھے فقیر محمد کی یہ بات زیادہ سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن اب میں ایک ہزار مثالیں دے سکتا ہوں۔

مثلاً کل میں ایک مشہور ڈپارٹمنٹل سٹور سے چاکلیٹس خریدنے گیا۔ کاؤنٹر والے نے دو ڈبے پیک کرکے دے دئیے۔گھرآ کر دیکھا تو ایک ڈبے پر آخری تاریخِ استعمال لکھی ہوئی تھی فروری دوہزار پانچ اور یہ وہ ڈپارٹمنٹل سٹور ہے جہاں سے غیرملکی سفارتکار اور انکے اہلِ خانہ بھی خریداری کرتے ہیں۔

اگر آپ ایک اسٹال کی جانب یہ دیکھ کر لپکیں کہ یہاں خالص جوس ملتا ہے تو رس والا آپ سے پوچھے بغیر گنے کے رس میں لیموں اور گاجر کے جوس میں کینو کا جوس ملا دے گا۔ اگر آپ حجت کریں تو جواب ملے گا بابوجی پی کر تو دیکھیں مزا نہ آئے تو پھر کہئیے گا۔

آپ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں۔ بس ٹرمینس پر ہر کنڈیکٹر آپ کو بازو سے پکڑ کر خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر یقین دلائے گا کہ دس منٹ میں بس چلنے والی ہے اور وہ آپ کو نان سٹاپ دو سے سوا دوگھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچا دے گا۔

لیکن آپ نے ٹکٹ خریدا نہیں اور کنڈیکٹر کا رویہ بدلا نہیں۔

بابوجی ہم تو دس منٹ میں روانہ ہونا چاہ رہے تھے لیکن سواریاں بھی تو پوری کرنی ہیں۔اگر جلدی ہے تو کسی اور بس میں چلے جائیں۔لیکن آپ کو ٹکٹ کے صرف آدھے پیسے واپس ملیں گے یہ کمپنی کا اصول ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ جس بس میں اللہ رسول کی قسموں پر اعتبار کرکے بیٹھے تھے اس نے آپ کو سوا دو کے بجائے چار گھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچایا۔

آپ سوچتے ہیں کہ لعنت بھیجو ان بسوں پر آئندہ طیارے سے سفر کریں گے۔ اچانک آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پرواز ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ عملہ پوچھنے پر صرف یہ بتائے گا کہ ٹکنیکل وجوہات ہیں۔ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ ایک وی آئی پی کے انتظار میں تین سو مسافروں کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔ اگر پرواز منسوخ ہوگئی ہے تو اسکی وجہ بھی ٹکنیکل ہوگی۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ منسوخی کی وجہ یہ ہے کہ آدھی سیٹیں خالی تھیں۔

آپ فلیٹ بک کرانے جائیں۔ ٹھیکیدار آپ کو یہ تو بتائے گا کہ ماہانہ اور سہہ ماہی اقساط کتنی ہیں اور اس فلیٹ کی چابیاں آپ کو ڈیڑھ برس میں مل جائیں گی لیکن یہ بات آپ کو خود معلوم کرنا پڑے گی کہ یہ زمین متنازعہ ہے اور اس کا معاملہ برسوں سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اسی طرح آپ سیاسی میچ میں جس ٹیم کو حزبِ اختلاف سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ حزبِ اختلاف ہو ہی نہیں اور جسے آپ حزبِ اقتدار سمجھ کر داد دے رہے ہیں وہ حزبِ اقتدار نہ ہو۔

ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں تو محض ڈریسنگ روم میں طے ہونے والے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے آپ کو بہلا رہی ہوں۔

بقول فقیر محمد چوکیدار ٹوپی پہنائی جارہی ہے۔اور ٹوپی بھی سیاہ اور سفید نہیں بلکہ سلیٹی رنگ کی۔

اسی بارے میں
شوکت عزیز کا تھرپارکر
04 July, 2004 | قلم اور کالم
ہزار سال پہلے، پچاس برس بعد
22 August, 2004 | قلم اور کالم
مات نہیں دے سکتے تو ساتھ دو
24 February, 2005 | قلم اور کالم
بلب چاہیے تاکہ بات صاف صاف ہو
18 January, 2006 | قلم اور کالم
مہمان نوازی کا بھگتان
28 March, 2004 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد