مہمان نوازی کا بھگتان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچویں کلاس کی معاشرتی علوم کے نصاب میں پاکستان میں بسنے والی سرکردہ قومیتوں کی خوبیوں پر ایک باب ہوا کرتا تھا۔جس میں ہم بچوں نے یہ پڑھا تھا کہ پاکستان کے پانچ صوبوں میں ایک شمال مغربی سرحدی صوبہ بھی ہے جہاں پٹھانوں کی اکثریت آباد ہے۔ یہ پٹھان انتہائی جفاکش، غیور، سیدھے سادھے، آزادمزاج اور مہمان نواز ہوتے ہیں۔اپنی ناموس و عزت کے تحفظ کے لئے جان پر کھیل جاتے ہیں۔کوئی مصیبت زدہ ان کے ہاں پناہ لے لے تو اسے کبھی بھی دشمن کے حوالے نہیں کرتے۔وعدے کے پکے اور تلوار کے دھنی ہوتے ہیں۔ جب میں یونیورسٹی پہنچا تو افغان جنگ شروع ہو چکی تھی۔روسیوں کے خلاف جہاد، مجاہدین کی امداد اور پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کے سلسلے میں صوبہ سرحد کے قبائلی اور غیر قبائیلی پٹھانوں کے زریں کردار پر سرکاری و غیر سرکاری میڈیا واری صدقے جا رہا تھا۔ اس زمانے میں یہ بات بھی پھیلی ہوئی تھی کہ قبائلی علاقوں میں پوست کی کاشت بلاروک ٹوک ہو رہی ہے اور ہیروئن تیار کرنے کی فیکٹریاں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن روسیوں کے خلاف جہاد چونکہ زیادہ ترجیحاتی معاملہ ہے اس لئے حکومت نے منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کو نظرانداز کیا ہوا ہے تاکہ مجاہدین کے لئے اسلحے کی رسد اور پناہ گزینوں کی مہمان نوازی میں کوئی غیر ضروری خلل نہ پڑے۔ بیچ بیچ میں یہ خبریں بھی آنے لگیں کہ عرب ممالک سے سینکڑوں کی تعداد میں مہمان رضاکار افغان جہاد میں حصہ لینے کے لئے نہ صرف پہنچ رہے ہیں بلکہ پشاور اور کوئٹہ میں درجنوں عرب فلاحی تنظییموں نے مراکز کھول لئے ہیں اور ان تنظیموں کو سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے امیر ممالک سے جہاد اور پناہ گزینوں کی امداد کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مادی وسائل بھی مہیا کئے جا رہے ہیں۔ پھر یہ خبریں آنے لگیں کہ روسی فوجیں افغانستان سے نکل رہی ہیں لیکن جہادی جزبے سے سرشار عرب رضاکاروں اور مقامی لوگوں میں اس طرح کا برادرانہ تعلق قائم ہو گیا ہے کہ رشتے ناطے ہونے لگے ہیں اور متعدد مہمان مجاہدین اپنے اپنے ممالک لوٹنے کے بجائے افغانستان اور صوبہ سرحد میں بسنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
کئی برس اور گزر جاتے ہیں اور ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرب مجاہدین نہیں ہیں بلکہ جہاد کے لبادے میں ایسے دہشت گرد ہیں جو باقی دنیا کو اپنی سوچ کا یرغمال بنا کر اسے تاریک دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ایک پاکستانی حکومت نے ان لوگوں کو مقامی معاشرے میں بسنے اور رشتے ناطے کی اجازت دی تاکہ اسلامی بھائی چارہ مضبوط ہو جبکہ ایک اور پاکستانی حکومت نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور مقامی رشتے داروں کو لے کر یا چھوڑ کر اس سرزمین سے فوراً نکل جائیں یا بطور دہشت گرد مرنے کے لئے تیار رہیں۔جو انہیں پناہ دے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو گا۔ پانچویں کلاس کی معاشرتی علوم میں جس جفاکش، غیور، تلوار کے دھنی، سیدھے سادھے، وعدے کے پکے، آزاد مزاج اور مہمان نواز پٹھان کے بارے میں تعریفی انداز میں ہم بچوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ اگر کوئی اس کے گھر میں پناہ لے لے تو وہ اس کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کرتا ہے۔آج اس پٹھان کا یہ وصف ریاست دشمنی گردانا جا رہا ہے۔ تو کیا غیرت اور مہمان نوازی کے اوصاف بھی سرکاری پالیسیوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہر حکومت کے ساتھ تبدیل ہو جانا چاہئے ؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||