BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 March, 2004, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مطمئن بکری

پرانے راجاؤں کا طریقہ یہ تھا کہ جس مصاحب سے وہ بے حد خوش ہو جاتے تو انعام میں کبھی کبھی ہاتھی بخش دیتے تھے۔اب یہ مصاحب کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ اس شاہی انعام کا پورا پورا خیال رکھے۔بھلے خود بھوکا رہے مگر ہاتھی کو نہ صرف پوری غذا دے بلکہ اس کی صحت کا بھی خیال رکھے۔بصورتِ دیگر راجہ کی مہربانی عتاب میں بھی بدل سکتی تھی۔

انگریز جب ہندوستان آئے تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہاتھی بخشنے کے طریقے کی جگہ ایک اور طریقہ متعارف کرایا۔یعنی جو ریاست کمپنی بہادر کو پسند آ جاتی اسکی حفاظت کے نام پر انگریزی فوج کا ایک دستہ وہاں مستقل قیام کے لئے بجھوا دیا جاتا۔اس دستے کے طعام و قیام، تنخواہ اور تفریحات کی ذمہ دار میزبان ریاست ہوتی۔کچھ عرصے میں ہی ریاست اس دستے کی مہمان نوازی کے نتیجے میں کنگال ہو جاتی۔چنانچہ انگریزی دستے کے اخراجات کے لئے یا تو کمپنی ریاستی حکمران سے اپنے نام بڑی بڑی زمینیں لکھوا لیتی یا پھر ریاست کا محصولات جمع کرنے کا نظام خود سنبھال لیتی ۔ اور ایک دن پوری ریاست کمپنی سرکار کی تحویل میں آ جاتی۔

زمانہ بدلا اور امریکہ نے مصاحبین کو ہاتھی بخشنے یا کمزور ریاستوں میں حفاظتی دستے مستقل رکھنے کی نوآبادیاتی روائت کی جگہ معاہدوں اور اتحادوں کی روائت کو آگے بڑھایا۔ناٹو جیسے فوجی اتحاد کو چھوڑ کر امریکہ نے جنوبی امریکہ اور ایشیا میں جتنے بھی فوجی اتحاد بنوائے یا دوطرفہ فوجی معاہدے کئے ان میں شامل ممالک اور امریکہ میں اتنی ہی برابری تھی جتنی کہ شیر اور بکری کے اتحاد میں ہو سکتی ہے۔

مثلاً انیس سو پچاس کے عشرے میں سیٹو اور سینٹو جیسے فوجی اتحادوں اور دوطرفہ فوجی معاہدے کے نتیجے میں امریکہ اور پاکستان اس بات پر متفق ہوئے کہ کسی ایک اتحادی پر کسی کیمونسٹ ریاست کے حملے کی صورت میں تمام اتحادی ایک دوسرے کی فوجی مدد کے پابند ہوں گے۔ان معاہدوں کے تحت امریکہ نے سوویت یونین کی جاسوسی کے لئے پاکستان کی سرزمین اور سہولتیں استعمال کرنی شروع کر دیں۔حالانکہ پاکستان کو کبھی بھی ان معاہدوں کے تحت فلوریڈا، کیلی فورنیا یا نیو میکسیکو میں موجود فوجی سہولتیں یا فضائی اڈے استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔یہ فوجی اتحاد اور سمجھوتے چین اور سوویت یونین جیسے کیمونسٹ ممالک سے تو پاکستان کا تحفظ کرتے تھے لیکن ہندوستان سے جنگ کی صورت میں سیٹو، سینٹو اور انیس سو ستاون کا پاک امریکہ فوجی تعاون کا سمجھوتہ غیر موثر تھا۔کیونکہ ہندوستان کوئی کیمونسٹ ملک نہیں تھا۔اس کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ان معاہدات پر خوب بغلیں بجائیں۔

سوال یہ ہے کہ معاہدوں کے تحت یا معاہدوں کے بغیر جنگِ کوریا میں پاکستان کی علامتی فوجی شمولیت سے لے کر وزیرستان ایجنسی میں القاعدہ کے خلاف آپریشن تک، امریکہ کی ایسی کونسی توقع یا فرمائش ہے جسے پاکستان نے پورا کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ان تعلقات میں ایسی کونسی کمی ہے جو پاکستان کو غیر ناٹو اتحادی کا خطاب ملے بغیر پوری نہیں ہو گی۔

شیر اور بکری اگر ایک گھاٹ پر پانی پئیں تو شیر کو کم ازکم یہ اطمینان ضرور رہتا ہے کہ وہ بکری کے قریب ہے۔تو کیا بکری کو بھی یہی اطمینان ہوتا ہے؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد