BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 March, 2004, 15:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرانا کارڈ بورڈ

کرکٹ شائقین
سال میں بہت کم دن ایسے آتے ہیں جو صرف چند لوگوں کے لئے نہیں بلکہ کروڑوں اربوں افراد کے لئے جوش، امنگ اور خوشی کا سبب بن جائیں۔

جس طرح شدید بھوک کے بعد لذیذ کھانا ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد تک مزہ دیتا رہتا ہے اور پھر اس کی یاد اس ذائقے کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیتی ہے۔اسی طرح گذرا سنیچر بہت دنوں تک ذہن و دل کے لئے ذائقہ بنا رہےگا۔

یہاں لندن میں متعدد ہندوستانی اور پاکستانی کنبے سنیچر کا انتظار اس لئے بھی کرتے ہیں تاکہ ضروری کام کاج نمٹانے کے بعد اگر کوئی اچھی ہندی فلم ریلیزہوجائے تو دیکھ لی جائے۔

لیکن گزرے سنیچر کسی فلمی شائق نے شائد ہی اس بات کا نوٹس لیا ہو یا اسے ذراسا بھی ملال گذرا ہو کہ اس ہفتے کوئی ہندی فلم ہندوستان یا لندن میں ریلیز نہیں ہوئی۔ کیونکہ گرگِ باراں دیدہ قسم کے فلم ڈسٹری بیوٹرز کو خوب خوب اندازہ تھا کہ جس طرح کا سنیچر آ رہا ہے اس کے پیشِ نظر اچھی سے اچھی شاہکار فلم ریلیز کرنا بھی مالیاتی خودکشی کے برابر ہوگا۔

پاکستان اور لندن کے وقت میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے۔میرا بیٹا جو جمعہ کی شام تک بخار میں پھکنے کے سبب ایک ہفتے سے اسکول نہیں جا پا رہا تھا۔اس نے کسی کو بتائے بغیر گھڑی کا الارم لگا کر اپنے سرہانے رکھ لیا اور پھر سنیچر کی صبح ساڑھے چار بجے سے لے کر اگلے آٹھ گھنٹے تک ٹی وی کے سامنے بغیر پلک جھپکائے بیٹھا رہا۔

ان آٹھ یادگار گھنٹوں کے اختتام پر اسکا بخار ٹوٹ چکا تھا اور اس نے دوبارہ سے چہکنا شروع کر دیا تھا۔

میری دس سالہ بیٹی جو ٹی وی چینلز پر گانوں، بچوں کی فلموں اور کارٹونوں کے علاوہ کچھ برداشت نہیں کرتی۔اسے خبریں اور تبصرے دیکھنے اور سننے سے دور کا واسطہ نہیں۔چنانچہ اسے نہیں معلوم کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں ان دنوں کس نہج پر سوچ رہی ہیں اور کس نوعیت کے اقدامات اور فیصلے کر رہی ہیں۔

لیکن اس نے یہ کیا کہ کچن کے کسی کونے کھدرے میں پڑا ایک پرانا کارڈ بورڈ اٹھایا اور رنگین پینسلوں سے کارڈ بورڈ کے آدھے حصے پر پاکستانی پرچم اور آدھے پر ہندوستانی ترنگا بنا دیا اور اس کارڈ بورڈ کے پیچھے کرسی کا دستہ ٹیپ سے چپکا کر اسے پلے کارڈ کی شکل دی اور پھر اسے تھامے ٹیلی ویژن کے سامنے تب تک بیٹھی رہی جب تک اسکی ماں نے ٹی وی بند نہیں کر دیا۔

میں نے بعد میں اس سے پوچھا کہ ایک کارڈبورڈ کے آدھے حصے پر ترنگا اور آدھے پر سبز پرچم بنانے کا خیال کیسے آیا۔ کہنے لگی مجھے کیا پتہ؟ بس میں نے سوچا کہ جھنڈا ایسے بھی تو بن سکتا ہے۔ اور میں نے بنادیا....کیوں کیا اچھا نہیں بنا کیا؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد