BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 March, 2004, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی

بھارتی سیاح
اسلام آباد میں جنوری کے شروع میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کے بعد ریل، جہاز اور بس رابطوں کی بحالی کے بعد بھی بہت سی ایسی باتیں ہوئی ہیں جن کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انیس سو پینسٹھ کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ حکومتوں کے رویے میں تبدیلی کا عمل نچلی عوامی سطح تک محسوس کیا جارہا ہے۔

بسوں اور پروازوں کی تعداد دوگنی کرنے کے علاوہ سرینگر- مظفرآباد اور کھوکراپار- موناباؤ روٹ کھولنے پر سنجیدگی سے پہلی مرتبہ کام ہو رہا ہے۔ ویزوں کا کوٹہ کئی گنا بڑھایا جا رہا ہے۔لائن آف کنٹرول پر ہندوستان نے جب بھی خاردار باڑھ لگانے کی کوشش کی پاکستان نے اسے گولہ باری کرکے ناکام بنادیا۔لیکن جب سے جنگ بندی ہوئی ہے ہندوستان کی جانب سے باڑھ لگانے پر اسلام آباد کی جانب سے صرف دوچار مرتبہ ہلکی پھلکی ناپسندیدگی ظاہر کی گئ ہے۔

اگر ڈاکٹر قدیرخان کا معاملہ اب سے چھ ماہ پہلے سامنے آ جاتا تو ہندوستان پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کے لئے آسمان سر پر اٹھالیتا۔ لیکن اس پورے اسکینڈل پر جس قدر تشویش امریکہ اور برطانیہ جیسے اتحادیوں اور ان کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ظاہر کی گئی۔ ہندوستان نے اسکے مقابلے میں صرف ڈیڑھ سرکاری بیان دینے پر اکتفا کیا۔بلکہ کوالالمپور میں آسیان تنظیم کے حالیہ اجلاس کے موقع پر ہندوستانی وزیرخارجہ یشونت سنہا نے یہ کہا کہ عالمی جوہری پھیلاؤ میں صرف پاکستان نہیں بہت سے ممالک ملوث ہیں۔ہندوستان نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ پاکستان کی دولتِ مشترکہ میں دوبارہ شمولیت کی بھی حمائت کرے گا۔

پہلے اگر ہندوستانی یا پاکستانی دانشوروں، اداکاروں یا تاجروں کی ایک دوسرے کے ہاں آمد ہوتی تھی تو اخبارات میں یہ خبر صفحہ اول کے اوپری حصے پر شائع کی جاتی تھی۔لیکن اب اس طرح کی خبریں معمول کی دیگر خبروں کی طرح صفحہ اول کے زیریں یا پھر پچھلے صفحے پر جگہ پاتی ہیں۔

پہلی دفعہ ہندوستان میں جاری انتخابی مہم میں کوئی بھی سرکردہ جماعت یا اتحاد پاکستان کو گالی دے کر ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ یہ فکر لگی ہوئی ہے کہ لوگ پاک و ہند کرکٹ سیریز میں زیادہ دلچسپی لیں گے یا جلسوں میں جاکر نیتاؤں کی بھاشن بازی سننے کی زحمت کریں گے۔

جس طرح پاکستان کے مقتدر سرکاری اور غیر سرکاری حلقے ان اندازوں سے مطمئن ہیں کہ واجپئی اپریل کے بعد بھی وزیرِاعظم رہیں گے ۔ اسی طرح پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ ہندوستانی حکومت پرویز مشرف کی ذاتی سلامتی کے بارے میں پریشان ہے۔

پہلی دفعہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوۓ فوجی تعاون پر کوئی خاص تشویش نہیں اور پہلی دفعہ یہ ہوا ہے کہ آئی ایس آئی کے کسی سابق سربراہ نے نام لے کر کہا ہے کہ جیشِ محمد دسمبر دوہزار ایک میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کی زمہ دار تھی۔

یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہیے کیا بات دھیان میں آئی

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد