غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ لاکھوں یہودی جو اب سے پینسٹھ، ستر برس قبل نازی جرمنی کے کنسنٹریشن کیمپوں سے لے کر یوکرین کے کھلے میدانوں تک اجتماعی اور انفرادی طور پر ہلاک کیئے گئے اگر آج اچانک زندہ ہوجائیں تو ہوسکتا ہے کہ انہیں غزہ کے بارہ لاکھ سے زائد فلسطینی بچوں، عورتوں، جوانوں اور بوڑھوں کے گرمی اور پیاس سے جھلسے چہرے دیکھ کر وارسا کے وہ زرد رو یہودی محلے یاد آ جائیں جہاں نازیوں کے ظلم کے خلاف بندوق اٹھانے والے ایک گروہ کو سبق سکھانے کے لیئے ہزاروں یہودی عورتوں، مردوں اور بچوں کو بھوکا پیاسا مار ڈالا گیا اور بچ رہنے والوں کو مویشیوں کی طرح ریلوے کے مال بردار ڈبوں میں بھر کر موت کے کیمپوں کی جانب روانہ کردیا گیا۔ اگر نازیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مرنے والے یہودی کچھ دیر کے لیئے زندہ کرکے غربِ اردن کی سیر پر بھیج دیے جائیں تو عین ممکن ہے کہ جب وہ بچشم یروشلم، نابلس، الخلیل، بیت اللحم اور رملہ کے ناکوں پر اسرائیلی فوجی چیک پوسٹیں اور وہاں کسی بھی مشکوک فلسطینی کو ٹھڈے لگتے اور حاملہ عورت کی مکمل جامہ تلاشی کا نظارہ دیکھیں تو انہیں اب سے ستر برس پہلے کے برلن، وارسا، پراگ، وی آنا اور کیف کی وہ گلیاں یاد آجائیں جہاں وہ سینے پر زرد رنگ کا سٹار آف ڈیوڈ آویزاں کیئے بغیر نازیوں کی نظروں اور سنگینوں سے بچنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اگر سات دہائیوں پہلے موت کے کیمپوں میں جان دینے والے کچھ دیر کے لیئے بھی زندہ کردیے جائیں تو ہوسکتا ہے کہ انہیں صابرہ اور شتیلہ کی تصاویر دیکھ کر آشوٹز، بوخن والڈ اور ڈاشاؤ کے وہ مرکز یاد آ جائیں جہاں ان سے بڑے بڑے گڑھے کھدوائے جاتے تھے اور پھر انہیں گیس چیمبرز سے گزار کر لاشوں میں تبدیل کرکے بلڈوزروں سے اکھٹا کرکے ٹریکٹر ٹرالی پر لاد کر انہی گڑھوں میں دبا دیا جاتا تھا۔ اگر ان لاکھوں عام سے یہودیوں کو پھر سے زندہ ہونے کا موقع مل جائے تو انہیں یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ ایک انیس سالہ اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کے اغواء کے بدلے نصف سے زائد فلسطینی کابینہ یرغمال بن چکی ہے اور گیلاد کے اغواء سے بالکل لاتعلق چالیس سے زائد ایسے فلسطینیوں کو مارا جاچکا ہے جن کی لاشوں میں ایک چھ سالہ بچی کی لاش بھی شامل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان زندہ ہونے والے مظلوم یہودیوں کو اپنی ہی وہ بارہ سالہ این فرینک بھی یاد آ جائے جو کوئی دو برس تک ایمسٹرڈیم کے اپنے ہی گھر کے ایک گوشے میں چھپ چھپ کر ڈائری لکھتی رہی اور پھر ایک دن نازی موت کا سرد ہاتھ اس کے گلے پر پڑ گیا۔ این فرینک کو تو نازی قاتلوں کے نرغے میں بھی اتنی مہلت مل گئی کہ وہ خود بیتی لکھ پائی مگر آٹھ جولائی دوہزار چھ کوغزہ میں مرنے والی چھ سالہ بچی کو تو اتنا وقت بھی نہ ملا کہ وہ ڈائری کا مطلب ہی سمجھ سکے۔ ہوسکتا ہے کہ نازی جرمنی میں مرنے والے یہودی اگر زندہ ہوجائیں تو ان میں سے کوئی ایک غزہ کی اس این فرینک کا نوحہ لکھ دے۔ |
اسی بارے میں آزادی کا شکنجہ19 March, 2006 | قلم اور کالم نجکاری کا بدمست ہاتھی 16 April, 2006 | قلم اور کالم اگر یہی حسنِ انتظام ہے30 April, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم ایکٹو یا ریڈیو ایکٹو لوگ28 May, 2006 | قلم اور کالم بھیڑیوں کو مرنے دو11 June, 2006 | قلم اور کالم نصف شب کی دستک18 June, 2006 | قلم اور کالم دور اندیش ہٹ دھرمی25 June, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||