BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 May, 2006, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایکٹو یا ریڈیو ایکٹو لوگ

بغلچور
بغلچور کا علاقہ جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہاں تابکاری کے اثرات ہیں
تین روز قبل جب میں ملتان سے ڈیرہ غازی خان پہنچا تو چند ہی گھنٹے بعد ایک ایسی وی آئی پی شخصیت میں تبدیل کردیا گیا جس کی حفاظت پر ایک ایس ایچ او، سپیشل برانچ کے کچھ سادہ کپڑے والے اور کاؤنٹر انٹیلی جینس کے ایک دو دوست مامور کردئیےگئے۔

ان سب کو میری حفاظت اتنی عزیز تھی کہ انہوں نے ہوٹل میں میرے کمرے کے سامنے والا کمرہ لے لیا۔ پولیس کی ایک گاڑی ہوٹل کے باہر کھڑی رہی اور ایک صاحب مستقل ریسیپشن پر بیٹھے رہے۔

یہ سب نہایت خوش اخلاقی سے پیش آئے اور بار بار اس طرح کے جملے کانوں میں رس گھولتے رہے کہ سر کہیں یہ نہ سمجھئے گا کہ ہم آپ کی نگرانی کررہے ہیں۔ آپ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ بس ہمیں چھوٹا بھائی سمجھ کر اپنے پروگرام کے بارے میں بتادیں۔آپ جس سے چاہیں ملیں ہم آپ کی حفاظت کریں گے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔اچھا تو سر آپ کا موبائل نمبر کیا ہے۔ کیا آپ پہلے بھی ڈیرہ غازی خان تشریف لاتے رہے ہیں۔ اس دفعہ کب تک قیام فرمائیں گے۔ یہاں سے اگلا پروگرام کیا ہے سر۔ کیا آپ کو اس بارے میں کوئی اطلاع ہے کہ عاصمہ جہانگیر بھی یہاں پہنچ رہی ہیں۔ کیا آپ کی ان سے آنے سے پہلے یا پھر اب ملاقات کا کوئی پروگرام ہے۔ کیا آپ یہاں ایٹمی فضلے کی ڈمپنگ کے کیس پر بات کرنے آئے ہیں۔ مائنڈ نہیں کیجئے گا سر یہ ہم صرف اور صرف اپنی ذاتی معلومات کے لیئے پوچھ رہے ہیں۔ ہم بی بی سی بڑے شوق سے سنتے ہیں۔

بغلچور میں ڈمپ کیا ہوا ایٹمی فضلہ

جس ہوٹل میں اڑتالیس گھنٹے میرا قیام رہا اس کا مینجر اتنی ٹینشن میں آ گیا کہ اس نےپوچھ ہی لیا کہ سر کمرے کا کرایہ تو مل جائے گا نا؟

سچی بات تو یہ ہے کہ اس مرتبہ میں ڈیرہ غازی خان محض پرانے دوستوں سے ملنے گیا تھا۔

میرا سٹوری ڈھونڈنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ کہانی خود چل کر میرے سامنے آگئی کہ حکومت اور ایجنسیاں یورنیم کی کانکنی کے علاقے بغلچور میں مناسب حفاظتی تدابیر اختیار اور مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر ایٹمی فضلے کو اس علاقے میں دفن کرنے کے معاملے پر پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اورذرائع ابلاغ میں مچنے والے شور سے کس قدر پریشان ہے۔

حکومت نے فی الحال اسکا یہ حل نکالا ہے کہ وہ علاقے میں ریڈیو اکٹوٹی یعنی تابکاری اثرات کی سائنسی چھان بین، متاثرہ آبادی کے جسمانی اور طبی تحفظ کی فکر کرنے کے بجائے علاقے کی ناکہ بندی کردے اور اس معاملے کو حساس نوعیت اور قومی سلامتی کے قالین تلے چھپادے۔

وہ سرنگ جہاں ایٹمی فضلہ پڑا ہے

مسئلہ ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا نہیں بلکہ محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا ہے تاکہ علاقے کی زمین، ہوا اور پانی آلودہ نہ ہو اور علاقے کے لوگ اسکے نتیجے میں پھیلنے والے ممکنہ سرطان اور جیناتی خرابیوں کا شکار نہ ہوں لیکن حکومت کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ اٹھانا دراصل قومی ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔

اگر حکومت ان سب باتوں کو بے بنیاد پروپیگنڈہ سمجھتی ہے تو پھر بغلچور اور رونگھن کے علاقے کی ناکہ بندی کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہاں مدت سے یورنیم کی کانکنی بھی نہیں ہورہی۔

ڈیرہ غازی خان کے ایک مقامی دانشور کے بقول جب لوگ اپنے حقوق کے لیئے ایکٹو نہیں ہوں گے تو پھر ریڈیو ایکٹو ہوں گے۔

اگر یہ حسنِ انتظام ہے
وزیرستان کا زخم ناسور بن چکا ہے: وسعت اللہ
پہلے دام پھر کام
پاکستان مصر سے کچھ تو سیکھے: وسعت اللہ خان
بات سے باتخاندان سے کیا پردہ
بی بی سی کے خاندان میں پڑھنے والے بھی شامل ہیں
بات سے باتسب جمہوریت ہے
لیکن الجھن ہے جو سلجھتے نہیں سلجھتی۔
اسی بارے میں
نجکاری کا بدمست ہاتھی
16 April, 2006 | قلم اور کالم
دو رخا ہونے کے فوائد
09 April, 2006 | قلم اور کالم
اگر یہی حسنِ انتظام ہے
30 April, 2006 | قلم اور کالم
پاکستان مِصر سے کچھ تو سیکھے
07 May, 2006 | قلم اور کالم
خاندان والوں سے کیا پردہ
14 May, 2006 | قلم اور کالم
سب جمہوریت ہے
21 May, 2006 | قلم اور کالم
پھانسی گھاٹ پہ گھاس
24 May, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد