BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھانسی گھاٹ پہ گھاس

مرزا طاہر
اٹھارہ سالہ طاہر 1988 میں اپنے رشتے داروں سے ملنے پاکستان آئے تھے
وسطی برطانیہ کا شہر لیڈز ان دنوں اپنے ایشیائی باشندوں کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ حالیہ انتخابات میں یہاں سے پہلی بار ایک ایشیائی نژاد مسلم شہری میئر منتخب ہوئے ہیں دوسری طرف اسی شہر کا پاکستانی نژاد برطانوی باشندہ مرزا طاہر حسین یکم جون کو عین اپنی 36ویں سالگرہ کے دن سزائے موت کے انتظار کی کربناک کشمکش میں مبتلا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت پر غیر معینہ مدت تک عملدرآمد روک دیا ہے۔ اگرچہ سرکاری ذرائع سے اس خبر کی تصدیق ابھی باقی ہے۔

مرزا طاہر حسین کے معاملے میں غیر معمولی دلچسپی کی وجہ ان کی دوہری شہریت نہیں بلکہ مقدمے کے حیرت انگیز حقائق ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے اٹھارہ سالہ طاہر 15 دسمبر 1988 کو اپنے رشتے داروں سے ملنے پاکستان پہنچے۔ کراچی میں ایک رات قیام کے بعد 17 دسمبر کوراولپنڈی آئے جہاں سے انہوں نے اپنے گاؤں (ضلع چکوال) جانے کے لیے ٹیکسی کرائے پر لی۔ مرزا کے بیان کے مطابق راستے میں ٹیکسی ڈرائیور نے ان پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی۔ دونوں میں ہاتھا پائی کے دوران ٹیکسی ڈرائیور اپنے ہی پستول کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

طاہر حسین اسی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی پولیس سٹیشن پہنچے اور پستول سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس دوران ٹیکسی ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ طاہر حسین پر قتل اور رہزنی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور 1989 میں سیشن کورٹ نے انہیں موت کی سزا سنا دی۔ لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں شدید خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سزائے موت ختم کر دی اور مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے سیشن کورٹ میں بھیج دیا جہاں سے طاہر حسین کو 1994 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

کامران اور تنویر
ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی سربراہ تنویر جہاں

اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی۔ عدالت عالیہ نے 20 مئی 1996 کو مرزا طاہر کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ لیکن ایک ہفتے بعد اس فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت سے اس بنیاد پر رجوع کیا گیا کہ ابتدائی مقدمے میں عائد کردہ رہزنی کا الزام شرعی عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے۔ شرعی عدالت نے طاہر کو رہزنی کے الزام سے تو بری کر دیا مگر قتل کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔ شرعی عدالت کے تین منصفین میں سے ایک نے طاہر کو تمام الزامات سے بری کرنے کی رائے دی۔اس منقسم فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دو دفعہ اپیل کی گئی مگر دونوں اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔ صدر پرویز مشرف نے بھی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

پاکستان میں نظام عدل کی کشتی انگریزی قوانیں کی منہ زور لہروں اور کچے پکے مذہبی قوانین کی جس دلدل میں ہچکولے کھا رہی ہے، اس میں ایک خطرناک چٹان وفاقی شرعی عدالت ہے جسے جنرل ضیا الحق نے 1979 میں آئین کے 7 ویں حصے میں باب 3 الف کی صورت میں ایزاد کیا تھا۔ متوازی قانونی نظام کی حیثیت سے قطع نظر اس عدالت کی ساخت ہی میں امتیازی سلوک کے بیج پائے جاتے ہیں۔ مثلاً پاکستان کا کوئی غیر مسلم شہری اس عدالت کا منصف نہیں بن سکتا لیکن یہ عدالت غیر مسلم شہریوں پر مقدمے چلا سکتی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل کا مقصد نظام عدل میں مذہبی اختیار کو توسیع دینا تھا چنانچہ ابتدا ہی سے اس عدالت کے فیصلے انتظامی مصلحتوں، ریاستی تقاضوں اور معمول کے عدالتی نظام سے متصادم رہے ہیں۔ کبھی اس کے چیف جسٹس کو مطلوبہ فیصلے نہ دینے کی پاداش میں بر طرف کیا جاتا ہے تو کبھی ماورائے عدالت حیلوں سے اس پر کاٹھی ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی واضح مثالیں رجم کی سزا، حدود کے قوانین اور سود کے مسئلے پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے ہیں۔

ایسی قانون سازی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی جنون میں مبتلا گروہوں کو ریاست کو کچوکے لگانے کے لیئے ایک اور پلیٹ فارم میسر آ جاتا ہے جب کہ ریاست اپنے نطریاتی دعووں کا بھرم رکھنے کے لیے دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔

گذشتہ ربع صدی میں دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف مہم شروع ہوئی۔ اب تک 120 کے قریب ریاستیں سزائے موت منسوخ کرچکی ہیں۔ دنیا کے صرف ایک تہائی ممالک میں سزائے موت قانون کا حصہ ہے مگر اس پر عمل کرنےوالے ممالک کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔

مرزا طاہر کے بھائی
صدر پرویز مشرف نے بھی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے

سزائے موت معاشرے کی ذہنی سطح کا پیمانہ بھی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی زندگی اور بہبود کے بارے میں کتنی حساس ہے۔ سزائے موت ایسے نظام کی نشاندہی کرتی ہے جہاں ریاست طویل مگر مؤثر طریقہ کار کے بجائے فوری اور اندھا دھند کارروائی میں یقین رکھتی ہے۔ سزائے موت کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کو من مانی سزائیں دینے کے بجائے جرم کے اسباب سمجھ کر ان پر قابو پانے کی تدبیر کی جائے۔

قانون سازی کی جدید تاریخ میں پاکستان ایک طرفہ مثال ہے۔ دنیا بھر میں سزائے موت ختم کی جارہی ہے لیکن پاکستان میں پچھلے 25 برس میں ایسے جرائم کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے جن میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ جہاں معاشرتی ڈھانچہ زمیں بوس ہو رہا ہو، ریاست کی عملداری اور نظام عدل کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہوں، وہاں بات بات پر جلاد کی تلوار لہرانا سستی خطابت کا عامیانہ ہتھیار بن جاتا ہے۔

کیا پاکستان میں سزائے موت جیسی مفروضہ فطری سزاؤں سے جرائم پر قابو پانے میں کوئی مدد ملتی ہے۔ گزشتہ برس پاکستانی سینٹ میں پچھلے عشرے میں اہم جرائم کے اعدادوشمار پیش کیے گئے۔ سرکاری بیان کے مطابق 1994 سے 2004 کے دوران قتل، ڈکیتی، رہزنی اور اغواء کی کی وارداتوں میں قریب دو گنا اضافہ ہوا۔ان سب جرائم میں موت کی سزا رکھی گئی ہے۔

موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے بدترین ممالک مثلاً چین، سعودی عرب، ایران اور ویت نام میں نہیں گنا جاتا۔ پاکستان میں ہر سال اوسطًا سزائے موت کے 15 سے 25 فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔سنہ 2005 میں 241 افراد کو سزائے موت سنائی گئی جب کہ اس عرصے میں 31 افراد کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ۔

لیکن اس تصویر کا نہایت خوفناک پہلو پاکستانی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزموں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ سزائے موت پر متعدد تحقیقی منصوبوں میں شریک پشاور کے قانون دان کامران عارف کے مطابق اس وقت پاکستان میں 6000 کے قریب افراد موت کی کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔ سزائے موت اور اس پر عمل درآمد میں عدم تناسب بجائے خود پاکستان کے نظام عدل پر بہت بڑا تبصرہ ہے۔

سزائے موت سے متعلق مقدمات سننے والی سیشن عدالتوں کی کارکردگی کا اندازہ ان مقدمات کی بڑی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے جن میں ہائی کورٹ سیشن کورٹ کا فیصلہ بدل دیتی ہے۔ قابلِ ذکربات یہ ہے کہ پچھلے بیس برس میں نچلی عدالتوں میں ملزمان کے بری ہونے کی شرح بے حدکم رہ گئی ہے۔ لاہور میں انسانی حقوق کے کارکن ارشد محمود ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’نچلی عدالتیں مقدمات نبٹانے کی ذمہ داری سے کتراتی ہیں۔ مزید یہ کہ تحکم پسند معاشرے میں عدلیہ کو بھی سخت گیر ہونے کی شہرت مرغوب ہوتی ہے۔ نچلی عدالتیں سزائیں سنانے کی مشین بن جائیں تو غریب ملزمان خسارے میں رہتے ہیں۔ ہائی کورٹ کی سطح پر مقدمے کے طریقۂ کار پر تو بحث ہوسکتی ہے لیکن مقدمے کے حقائق کو زیرِ بحث نہیں لایا جاسکتا‘۔

پولیس کے ناقص طریقہ تفتیش سے بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ کم تنخواہ، ناکافی تربیت اور غیر معمولی اختیارات سے لیس پاکستانی پولیس محض تشدد اور اذیت رسانی کے ہنر میں مہارت رکھتی ہے۔زیادہ تر وارداتوں میں واقعاتی شہادتیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ تفتیش کا سارا زور اعتراف جرم پر ہوتا ہے، خواہ اعتراف جرم رضاکارانہ ہو یا زبردستی۔

اس ضمن میں مقصود کالیا کیس کی مثال قابل ذکر ہے۔ 1989 میں گرفتار ہونے والے مقصود کالیا نے پولیس تشدد سے مجبور ہو کر قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔ سیشن کورٹ نے اسے سزائے موت سنائی لیکن اس دوران دو زیر حراست افراد نے اس قتل کا اعتراف کر لیا جس کے الزام میں مقصود کالیا کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔ لاہور پولیس کے سربراہ میجر مبشر نے ہائی کورٹ میں گواہی دی کہ مقصود کالیا بے قصور تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے مقصود کالیا کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مقصود کالیا کو مارچ 1998 میں ایک ایسے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی جو اُس نے نہیں کیا تھا۔ جسٹس رستم کیانی نے شاید ایسی ہی صورت حال کو عدالت اور کچہری کا فرق قرار دیا تھا۔

پاکستان میں سزائے موت پر بحث دنیا بھر سے کچھ مختلف ہے کہ یہاں قتل کو ریاست کے خلاف جرم کی بجائے شخصی جرم قرار دیا گیا ہے۔قصاص اور دیت کے قانون 1990 کے تحت قتل کو قابلِ تصفیہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ دولت مند اور بارسوخ افراد پیسے کے بل پر قتل کے الزام سے بچ نکلتے ہیں۔ان حالات میں حیرت نہیں ہونی چاہیئے کہ سزائے موت پانے والوں میں سے اکثر اتنے غریب ہوتے ہیں کہ اپنے دفاع میں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے ۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مرزا طاہر حسین کے مقدمے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مختلف عدالتوں میں اختلاف رائے کی نشاندہی کے علاوہ توجہ دلائی ہے کہ اسلامی اصول قانون کے مطابق حد کی سزا کے لیئے معتبر عینی گواہ یا اعتراف جرم کی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔

ارکان پارلیمنٹ جان بیٹل، لارڈ نذیر احمد اور گریگ مل ہالینڈ کی تحریک پر برطانوی حکومت نے گزشتہ ہفتے صدر جنرل پرویز مشرف سے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو قید میں تبدیل کرنے کی باضابطہ اپیل کی تھی۔ یورپی پارلیمنٹ کے صدر جوزف بورل فونتیل نے18 مئی کو صدر مشرف کے نام اپنے مکتوب میں لکھا کہ اس سزا پر عملدرآمد سے پاکستان کی شہرت پر حرف آئے گا کیونکہ یہ مقدمہ غیر معمولی بے رحمی اور گہری ناانصافی کی علامت بن گیا ہے۔ پاکستانی دفترِخارجہ کی ترجمان کے مطابق برطانوی حکومت کی اپیل پر پاکستان کے قوانین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔اس میں قانونی نکتہ یہ ہے کہ قصاص اور دیت قانون کے تحت صدر پاکستان کو مقتول کے ورثاء کی اجازت کے بغیر مجرم کی سزا میں کمی کا اختیار ہی نہیں رہا۔

مرزا طاہر حسین کے معاملے میں ایک بات واضح ہے کہ ان کی ممکنہ رہائی بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہو گی۔ گویا انصاف کے موجودہ نظام میں پاکستان کے عام شہریوں کو یہ سہولت میسر نہیں آ سکتی جو غیر ملکی شہریت یا 18 برس تک عدالتی لڑائی لڑنے کے وسائل نہیں رکھتے۔ ذرائع ابلاغ بھی ہزاروں زیر سماعت مقدمات پر توجہ دینے کا یارا نہیں رکھتے۔

قصاص اور دیت کے قانون کی رو سے صدر پاکستان قتل کے سزا یافتہ کو معافی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ غالب امکان یہ ہے کہ اس مقدمے میں بھی ضلع گجرات کا شہرہ آفاق مٹی پاؤ فارمولا بروئے کار لایا جائے گا۔ یہ ماورائے عدالت طریقۂ کار تب استعمال کیا جاتا ہے جب ریاست جدید معاشرتی تقاضوں اور مذہبی قوانین کے تصادم میں باضابطہ حل تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

1986 میں توہین رسالت کا قانون نافذ ہونے کے کے بعد سے شاید ہی کسی ٹرائل کورٹ نے دفعہ 295 کے کسی ملزم کو بری کیا ہو دوسری طرف اس قسم کے مقدمات میں ہائی کورٹس نے کسی اپیل کو مسترد نہیں کیا۔ تاہم اس دوران میں مذہبی درجہ حرارت اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ پاکستان کا کوئی ادارہ بری ہونے والے ملزمان کو جان کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ چنانچہ رحمت مسیح سے لے کر ڈاکٹر یونس شیخ تک ایسے ملزمان کو کسی یورپی سفارت خانے کے تعاون سے چپکے سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ اسی طرح صائمہ روپڑی سے لے کر شازیہ خالد تک ریاست حدود کے مقدمات کی گرہ کھولنے میں ناکام رہے اور ذرائع ابلاغ میں شور و غوغا بڑھ جائے تو ایسی خواتین کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

غالب امکان یہی ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد مرزا طاہر حسین واپس اپنے وطن لوٹ جائیں گے کیونکہ غیر سرکاری ذرائع سے مقتول کے ورثاء کو دیت کی رقم قبول کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ خرابی بسیار کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مذہبی قوانین جدید ریاست اور معاشرت کے جملہ تقاضوں پر پورے نہیں اترتے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن2003 سے ایک غیر سرکاری ادارہ ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے تعاون سے سزائے موت کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ اس ادارے کی سربراہ تنویر جہاں قصاص اور دیت کے تحت صدر مملکت کے معافی کے اختیارات میں تخفیف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مذہب کے نام پر قانون سازی کا نتیجہ یہ ہے کہ عدالتوں میں انصاف کا چشمہ نہیں ، قانون کا پرنالہ بہہ رہا ہے۔

سیسل شیراز راجلاہوری ادباء کو سلام
پاکستان میں روشن خیالی کا زکام ختم نہیں ہوا
یومِ مرگ یوسف
لوتھر کنگ اور بھٹو کی ذات میں مشترک کیا؟
فی سبیل اللہ فساد
شفقت کے ایف ایم پر سو مرتبہ پولیس ہلا کیوں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد