شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور میں دفن ہونا پسند کیا۔ اس نے لاہور کے بارے میں جیتے جی لکھا تھا ’لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم‘۔ انبالے سے ناصر کاظمی لاہور آئے اور انہوں نے لاہور کی رونقوں کو دوام کی دعا دیتے ہوئے لکھا، ’ تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو‘۔ 1974 میں حیدرآباد ٹریبونل کے قیدی بھٹوصاحب کے زنداں میں سندھ کی زمین کو آسماں کر رہے تھے۔ حیدرآباد جیل کی ایک تاروں بھری رات میں حبیب جالب نے لکھا، ’ لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں‘۔ دیکھیے آپ کو لاہور کے اتنے شعری حوالے دے دیے مگر وجہ تسمیہ واضح نہیں ہوئی۔ بات یہ ہے کہ لاہور سے ایک اچھی خبر آئی ہے اور یہ خبر لاہور کی گلزار گلیوں ہی سے آ سکتی تھی۔ سیسل شیراز راج حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ حلقے کی 67 سالہ تاریخ میں پہلے غیر مسلم سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے228 میں سے 141 ووٹ لیئے ہیں۔ شیراز راج کے انتخاب پر بات کرنے سے پہلے حلقہ ارباب ذوق کا تعارف ہو جائے۔ آپ کو ایک تصویر دکھاتے ہیں۔ یہ جو بیچ میں دہرے بدن کے تراشیدہ مونچھوں والے صاحب کھڑے ہیں انہیں چراغ حسن حسرت کہتے تھے۔ 1955 میں ان کے انتقال کے بعد سے اردو نثر ماتم میں ہے۔
داہنے ہاتھ جو کوئی تیس برس کا تیکھے نقوش والا نوجوان نظر آ رہا ہے اس کا نام ثنااللہ ڈار تھا۔ اسے اردو ادب کی تاریخ میں میرا جی کے نام سے یاد رکھا جائےگا۔ یہ 1941ء میں حلقہ ارباب ذوق کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری کی تصویر ہے۔ حلقہ ارباب ذوق برصغیر پاک و ہند کا واحد ادبی ادارہ ہے جس کی ہفتہ وار تنقیدی نشستوں میں 1939 سے آج تک کبھی خلل نہیں آیا۔ 1947 کے خونچکاں اگست میں جب ہندوستان کے رہنے والے دھرم اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے، دہلی کے ساؤتھ بلاک میں حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس اس شان سے منعقد ہوا کہ غلام عباس نے افسانہ پڑھا اور دوسری کرسی پر صاحب صدر بدمزہ نہیں ہوئے کہ اجلاس کا واحد سامع غلام عباس کا کتا تھا جو میز پہ بیٹھا تھا۔ حلقے کا ادبی معیار ایسا ضرب المثل تھا کہ یہاں بیٹھنے والے قیوم نظر اور انجم رومانی 24، 25 سال کی عمر ہی میں استاد قرار پائے۔ حلقے کا ایک مستقل چہرہ زاہد ڈار ہے، مال روڈ کے فٹ پاتھ سے خرید کر پرانی کتابیں پڑھنے والا اور نامانوس لہجے میں اعلٰی پائے کی شاعری کرنے والا۔ یہاں سعادت سعید نے سوشلزم کا ڈنکا بھی بجایا اور بارہ آنے والی ٹوپی پہن کر اسلامی انقلاب کا چرچا بھی کیا۔ مرحوم حنیف رامے، انتظار حسین اور ناصر کاظمی کی میز ہی سے اٹھ کر پنجاب کے وزیراعلٰی بنے تھے۔ بنگال سے آنے والا خوش شکل سراج منیر حلقے سے ہو کر ہی 4 کلب روڈ پر ادارہ ثقافت اسلامیہ تک پہنچا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق پاکستان کا تہذیبی چہرہ ہے۔ اسے ٹائروں کی دکان میں بدلنے کی بہت سی کوششیں ناکام ہو چکیں۔ یہاں درویش فنکار امانت علی خان کی آواز گونجتی ہے، ’پیار نہیں ہے سُر سے جس کو، وہ مورکھ انسان نہیں ہے‘۔ اب کچھ بات شیراز راج کی ہو جائے۔ مئی کی 28 تاریخ تھی اور 1998 کا سال۔ بچوں کے حقوق کے لیے گلوبل مارچ اس روز سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن پہنچا تھا۔ لاہور فون کیا تو ارشد محمود نے ایٹمی دھماکوں کی اطلاع یوں دی جیسے کوئی وکیل قتل کے ملز م کو عمر قید کی خوش خبری سناتا ہے۔ موسم بہار کی خوشگوار دھوپ برن کے گلی کوچوں میں بکھر رہی تھی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وسیع چوراہے میں سینکڑوں چہرے ہنس رہے تھے، گا رہے تھے ۔ ہوا میں غبارے اڑ رہے تھے۔ موسیقی کی دھن تیز تھی۔ مگر بیر کا گلاس ہاتھ میں منجمد ہو کر رہ گیا۔ آنسو نکل آئے۔ قریب کھڑے دوست نے گلے لگا کر تسلی دی۔ دکھ یہ تھا کہ ایٹمی تباہی کی کنجی ان کے ہاتھ آ گئی تھی جو خیالی گھوڑوں پر سوار ہو کر غنیم کی بستیوں پر چڑھ دوڑنے کے خواب دیکھتے تھے۔ جو شہر کی کسی عمارت میں لگنے والی معمولی آگ پر قابو پانے کا سامان نہیں رکھتے تھے وہ تابکاری کے اہل ہو گئے تھے اور گویا اسے شب برات کا پٹاخہ سمجھتے تھے۔ گجرات کے ایک چوہدری صاحب نے کہا تھا، اگر چلانے نہیں تو بنائے کیوں تھے۔ تکلیف دہ منظر یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت میں بہت سے چہرے خوشی سے یوں تمتما رہے تھے گویا ترقی اور تہذیب کی معراج پا لی ہو۔ پاکستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابتدائی اطلاع سے کہیں زیادہ نقصان ہوا تھا۔ گوجرانوالہ کے قریب علی پور چٹھہ سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت نے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی سلب کر لیے تھے۔ یہ رستم کیانی کی وہی گالف کی چھڑیوں والی معروف کہانی تھی مگر وہ کہانی پھر سہی۔ دفتر پہنچے تو ایک صاحب میز پر سر رکھے گویا مراقبے میں تھے۔ سر اٹھایا تو آنکھیں شدت گریہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔ یہ شیراز راج تھا۔ میز پر لکھی نظم کا کاغذ اس کے آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔ یہ نظم تھی ’پوکھران سے چاغی تک’ ۔ آخری مصرعے تھے۔ یہ کیسی آگ ہے جس میں شیراز راج مسیحی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اس میں تو خبر کا کوئی پہلو نہیں کہ پاکستان کے سب شہریوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ خبر یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے کونے کونے میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑک رہی ہے، گرجے سلامت ہیں نہ مسجدیں محفوظ پیں۔ لاہور کے ادیبوں نے رواداری اور مساوات کے حق میں رائے دی ہے۔ کوئی دس برس پہلے حلقہ ارباب ذوق کے انتخاب میں آخری دفعہ ووٹ دینے کا تجربہ خوشگوار نہیں رہا تھا۔ شیعہ سنی کی غیر ادبی بنیاد پر ووٹ مانگے جا رہے تھے۔ اس برس بھی اطلاعات کے مطابق انتخابی مہم میں شیراز راج کے عیبوں میں اس کا مسیحی ہونا اور پاک بھارت دوستی کا حامی ہونا وغیرہ گنوائے گئے لیکن لاہور کے ادیبوں کو حرف تحسین کہ انہوں نے جمہوری اور روادار پاکستان کے حق میں رائے دی۔ انیسویں صدی کے قدامت پسند آسٹرین سیاستدان میٹرنخ نے یورپ میں ملکوں ملکوں بھڑکتے انقلابات پر بھنا کر کہا تھا کہ فرانس میں کسی کو چھینک آ جائے تو پورے یورپ کو زکام ہونے لگتا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق نے لاہور میں جو اعلان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور روشن خیالی کا زکام ابھی ختم نہیں ہوا۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) | اسی بارے میں ’یاالہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو‘04 April, 2006 | قلم اور کالم اک نا ممکن خواب کا خواب24 March, 2006 | قلم اور کالم بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم ’بلوچ احساس مسترد نہیں کیا جا سکتا‘09 January, 2006 | قلم اور کالم ’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘22 November, 2005 | قلم اور کالم حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں14 December, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||