دور اندیش ہٹ دھرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل متحدہ مجلسِ عمل کے بعض رہنماؤں کی جانب سے روپوش سردار نواب اکبر بگٹی اور مشرف حکومت کے درمیان رابطے میں ناکامی کے بعد مرکزی وزیر برائے صوبائی رابطہ سلیم سیف اللہ خان نے کہا ہے کہ بلوچ سرداروں سے تب ہی مذاکرات ہوں گے جب انکی حامی مسلح ملیشیائیں ہتھیار ڈالیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی بدامنی پر نیم فوجی فرنٹیر کانسٹیبلری نے قابو پالیا ہے اور حالات تیزی سے نارمل ہورہے ہیں۔ بلوچستان میں مسلح بدامنی شروع ہونے کے قریباً ڈیڑھ برس بعد حکومت کا یہ تو اصرار ہے کہ مسلح افراد ہتھیار حوالے کردیں لیکن یہ جاننے سے اب بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہر چند برس بعد ہتھیار اٹھانے کی نوبت آخر کیوں آتی ہے۔ اگر تازہ جھگڑا ابتدائی طور پر صرف نواب اکبر بگٹی اور وفاقی حکومت کے مابین تھا تو ایسا کیا ہوا کہ سردار خیر بخش مری اور عطا اللہ مینگل بھی اس میں فریق بن گئے۔اگر ڈیرہ بگٹی اور گردونواح پر سرکاری دستوں کا پورا کنٹرول ہے اور علاقہ بدرہونے والی بگٹی قبیلے کی حکومتی وفادارشاخوں کو دوبارہ اس علاقے میں بسا دیا گیاہے تو پھر کیوں وہاں سوئی گیس کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر حملے ہورہے ہیں اور بارودی سرنگیں پھٹ رہی ہیں۔ اگر سردار خیر بخش مری کے علاقے کوہلو میں بھی حالات معمول پر آرہے ہیں تو پھر ان علاقوں میں صحافی اپنی مرضی سے کیوں آ جا نہیں سکتے؟ جب ان بلوچ سرداروں کے حامیوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے تھے اس وقت وفاق میں حکمراں مسلم لیگ کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کے اکبر بگٹی سے مذاکرات کیوں بے نتیجہ رہے؟ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو انکے نکات کہاں ہیں؟ ان پر عمل درآمد میں کون رکاوٹ بنا؟ حکومت بلوچستان لبریشن آرمی نامی ایک مسلح گروہ کو پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔اگر اس کے علاوہ بھی مسلح گروہ سرگرم ہیں تو ان کے نام کیا ہیں؟ وہ کیوں کالعدم نہیں ہوسکے؟ ان گروہوں کو کون اور کہاں سے اسلحہ پہنچا رہا ہے؟ حکومت اس بارے میں کیوں خاموش ہے؟ کیا وجہ ہے کہ حکومت اکبر بگتی کو روپوشی ختم کر کے بات چیت کی میز پر آنے کی پیشکش نہیں کررہی اور کیوں نواب خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل اور انکے صاحبزادے اختر مینگل کے خلاف سنگین مقدمات درج ہونے کے باوجود انہیں حراست میں لے کر عدالت کے روبرو نہیں لایا جارہا؟ ایسا کیوں ہے کہ بلوچستان میں بغاوت و اعانت کے شبہے میں نچلے درجے کے سیاسی کارکنوں کو مقدمہ درج کیئے بغیر خاموشی سے غائب کیا جارہا ہے اور انکے گھر والوں تک کو نہیں معلوم کہ وہ کس قانون کے تحت کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور ان کی گرفتاری کا کیوں قانوناً اعتراف نہیں کیا جارہا۔ وزیرستان میں فوجی طریقے کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر حکومت مصالحتی جرگہ تشکیل دے کر معاملات سلجھانے کے لیئے کوشاں ہے۔ بلوچستان میں آخر مصالحتی جرگہ تشکیل دینے میں کیا قباحت ہے؟ قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان کی وفاق پرست حکومت گزشتہ کئی برسوں کی طرح آج بھی اپنے مسلسل بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیئے مرکز کے سامنے کشکول لیئے کھڑی ہے۔اگر وفاق وسائل کی تقسیم کے تعلق سے اپنی وفادار حکومت کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتا تو بندوق بردار سرداروں کو کیسے مطمئن کرے گا۔ اگر بلوچ سردار مسلسل ہٹ دھرمی دکھا رہے ہیں تو حکومت آخر کون سی دور اندیشی برت رہی ہے۔ | اسی بارے میں خاندان والوں سے کیا پردہ14 May, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم ایکٹو یا ریڈیو ایکٹو لوگ28 May, 2006 | قلم اور کالم کچھ لو، کچھ دو کا سیاسی کھیل04 June, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||