کونڈولیزا رائس کو کون سمجھائے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معارون الراس نامی یہ گاؤں عین اس پہاڑی پر ہے جہاں سے نیچے اسرائیل اور لبنان کو جدا کرنے والی خاردار تار لگی ہوئی ہے۔ انیس سو بیاسی کے کسی ایک دن اس گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا۔اس کا نام حسن الصادق رکھا گیا۔ حسن کی پیدائش کے کچھ دن بعد لندن میں کسی نے اسرائیلی سفیر کے سر میں گولی مار دی۔اسرائیلی سفیر کے سر میں گولی لگنے کے دو ہفتے بعد اسرائیلی فضائیہ نے بیروت سمیت پورے لبنان میں پی ایل او کے ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے۔ اسرائیلی توپ خانے نے سرحدی باڑ کے دوسری جانب سے گولے پھینکنے شروع کر دیئے۔ حسن کا باپ اس وقت اپنے گھر کے چھوٹے سے باغیچے میں کام کر رہا تھا جب گولے کا ایک ٹکڑا اسے لگا اور پھر وہ نہ اٹھ سکا۔ حسن کی ماں جنوبی لبنان کے لاکھوں شہریوں کی طرح اپنے بچے کو لے کر سرپٹ بھاگی۔ بےشمار مرد، عورتیں اور بچے پیدل یا گاڑیوں میں شمال کی جانب دریائے لتانی عبور کرنے لگے۔ حسن کی ماں پناہ گزینوں کے ایک قافلے کے ساتھ دو تین روز سیدون میں ایک زیرِ تعمیر عمارت کے سائے میں پڑی رہی اور پھر سمندر، فضا اور جنوب کی جانب سے سیدون پر آگ برسنے لگی۔ سارا شہر خالی ہوگیا اور ایک بار پھر حسن کی ماں بےشمار لوگوں کے درمیان ایک نقطہ بن گئی۔ کئی گھنٹے چلنے کے بعد پیچھے سے آنے والی ایک کار میں بیٹھے لوگوں نے اس پر ترس کھایا اور ڈگی میں بٹھا لیا۔اس کار میں سوار فیملی نے وادی بقاع کے راستے سرحد عبور کی اور شام میں داخل ہوگئی۔ حسن کی ماں بھی اگلے ایک ہفتے تک شام کے ایک سرحدی گاؤں میں رہی۔اس دوران اس کا بھائی بھی اپنی فیملی کے ساتھ آن ملا اور پھر اگلے اٹھارہ برس تک یہ سب دمشق میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے رہے۔ سن دو ہزار ایک میں حسن انیس برس کا ہوگیا اور وہ اپنی ماں اور ماموں کے خاندان کے ساتھ دوبارہ معارون الراس کے سرحدی گاؤں میں آن بسا۔اس نے اپنے دو تین ہم عمروں کی دیکھا دیکھی حزب اللہ کے لئے رضاکارانہ طور پر کام شروع کر دیا۔ اب سے تین روز قبل حسن اور اس کے مسلح ساتھیوں کی ایک اسرائیلی دستے سے جھڑپ ہوئی۔دو اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ حسن سمیت حزب اللہ کے چھ چھاپہ مار بھی مارے گئے۔ اب سے تین دن پہلے جب حسن زندہ ہوگا یا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا یا مرگیا ہوگا۔ میں نے ٹی وی اسکرین پر یہ منظر دیکھا کہ معارون الراس کے گاؤں سے لوگ کاروں، ٹرکوں، بسوں پر اور پیدل پھر شمال کی جانب جارہے ہیں اور وہ ان پانچ لاکھ لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے فوری طور پر علاقے سے نکل جانے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ گرد سے اٹی روڈ پر لدی پھندی کاریں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کررہی ہیں۔ٹی وی کیمرے نے ایسی ہی ایک کار پر فوکس کیا۔ڈرائیونگ سیٹ پر ایک عورت ہے اور پچھلی نشتوں پر مختلف عمروں کے چار بچے ہیں۔ان میں سے ایک دس بارہ مہینے کا بچہ ہے اور بار بار کیمرے پر ہاتھ مار کر مسکرا رہا ہے۔ اس کی ماں مڑ مڑ کر دیکھ رہی ہے اور کیمرے کو بتا رہی ہے کہ اس بچے کو گردے کا انفیکشن ہے اور صرف دو وقت کی دوا بچی ہے۔معلوم نہیں آگے کہیں دوا ملے گی بھی یا نہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر اب تک سوچ رہا ہوں کہ اگر حالات یہی رہے اور یہ بچہ بھی سلامت رہا تو سن دوہزار بائیس میں یہ بچہ سولہ برس کا ہو جائے گا اور یہ بھی حسن الصادق کی طرح ہتھیار اٹھا لے گا۔ کونڈولیزا رائس کو کون سمجھائے کہ حماس ہو یا حزبِ اللہ ۔یہ اپنے سامنے مرنے والوں کو دیکھنے اور بےگھر ہونے والے بچوں کا ہی دوسرا نام ہے اور یہ تنطیمیں لیزرگائیڈڈ بموں سے نہیں کامن سنس کے ہتھیار سے ہی ختم ہوسکتی ہیں۔ |
اسی بارے میں غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم دور اندیش ہٹ دھرمی25 June, 2006 | قلم اور کالم ایکٹو یا ریڈیو ایکٹو لوگ28 May, 2006 | قلم اور کالم آئینی بنتوستان07 May, 2006 | قلم اور کالم اگر یہی حسنِ انتظام ہے30 April, 2006 | قلم اور کالم نجکاری کا بدمست ہاتھی 16 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||