’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صبح کے چھ بج رہے ہیں۔ دور گرنے والے اسرائیلی توپوں کے گولوں کی دھمکے سے ہوٹل ساری رات گونجتا رہا ہے۔نیند نہ آنے کی وجہ سے میں وقت گزارنے کے لیئے ساحل پر چلا گیا۔ پندرہ بیس منٹ گزارنے کے بعد کمرے میں واپس جانے لگا تو ہوٹل کے کار پارک سے پنجابی بولنے کی آواز سنائی دی۔ ’بنت جبیل وچ اسیں ست بندے ساں، چھ ست دن بنا روٹی دے اندری گوڈاؤن وچ رہے آں۔ تے اوس توں بعد جدوں باہر نکلے آں تے اسیں آکھیا بئی ہن تے ایتھے کم زیادہ خراب ہون ڈیا اے۔ تے اوس توں بعد جدوں باہر نکلے آں تے اوتھے گولہ باری بہت ہو گئی‘ (بنت جبیل میں سات لوگ تھے۔ سات دن تک بغیر روٹی کے ہی اندر گودام میں رہے۔ جب باہر نکلے تو کہا کہ یہاں تو کام زیادہ خراب ہونے ہو رہا ہے۔ باہر نکلے تو وہاں گولہ باری شدید ہو گئی) تو آپ لوگ بنت جبیل میں کیا کر رہے تھے؟ ’ہمارا مالک بنت جبیل کا تھا۔ ہم کام بھی وہیں کرتے تھے (بلاک بناتے تھے، سیمنٹ کے) سیمنٹ کے بلاک بناتے تھے۔ ہم وہاں سے پیدل پہنچے رمیش بند میں ایک بجے رات پیدل چل کر، ایک ایک کر کے نکلے۔ یہاں پہنچنے کے بعد بھی روٹی اور پانی کے بغیر اٹھارہ دن کاٹے‘۔ اور اب کیا اردے ہیں؟ میں پوچھتا ہوں لیکن میرا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی جواب ملتا ہے۔ ’بیروت جانے کا پروگرام ہے۔ وہ کہتے ہیں بس آئے گی حریری والی، وہاں پہنچ جائیں پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے‘۔ کتنے لوگ ہیں آپ؟ میں نے پوچھا۔ ’چودہ‘فوراً جواب ملا۔ آپ کے نام؟ لیکن اس سے پہلے کہ میرے سوال کے بعد وقفہ آتا وہ ایک ایک کر کے بولنے لگے:
’سر جیت سنگھ، دسوندر سنگھ، بلوندر سنگھ ۔۔ ۔‘ کیا آپ سب لوگ ایک جگہ کے ہیں؟ میں نے پوچھا۔ ’پنجاب میں لدھیانے کے‘۔ یہاں اب کتنے انڈین رہ گئے ہیں؟ میں مزید پوچھا۔ ’اونہیر میں بڑا گردوارہ ہے وہاں جا کر ہی معلوم ہو گا کتنے لوگ ابھی اور ہیں یہاں، ان لوگوں سے بات چیت کر کے ہی پتا لگے گا‘۔ آپ لوگوں کا کوئی مارا گیا؟ میں نے پوچھا لیکن میرا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی ان میں سے کئی ایک ساتھ بولنے لگے، جس سے میں اتنا ہی سمجھ پایا کہ ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بنت جبیل سے پیدل طائر پہنچنے والے یہ ہندوستانی باشندے پتہ نہیں منگل کو ڈیڈ لائین ختم ہونے سے پہلے طائر سے نکل پائیں گے یا نہیں؟ ٭٭٭ کچھ دور ایک خاتون ایک منڈیر پر چار بچوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔ میں اس کے پاس جاتا ہوں اور اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس انتظار میں ہے؟ ’میں آسٹریلیا جا رہی ہوں؟ یہاں سے بیروت، بیروت سے قبرص اور قبرص سے آسٹریلیا‘وہ انگریزی میں جواب دیتی ہے۔ یہاں سے بیروت جانے کا کیا انتظام ہے؟ میں اپنی حیرت کو دبا کر پوچھتا ہوں۔ ’آسٹریلوی سفارتخانے والے لینے آئیں گے‘ خاتون اعتماد سے جواب دیتی ہے۔
میں نے طائر سے نکلتے ہوئے دیکھا آسٹریلوی سفارتخانے کی بس ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہے لیکن بس کو دیکھ کر یہ اطمینان ضرور ہوا کہ ہُدا اپنے چار بچوں کے ساتھ بیروت ضرور پہنچ جائے گی۔ ٭٭٭ ان کا جواب تھا، کوئی بیروت جانے والا مل جائے تو چلا جاؤں گا۔ ان کا جواب عربی میں تھا اور طویل تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ انہیں امید ہے کہ انہیں کوئی نہ کوئی مدد ضرور مل جائے گی۔ ٭٭٭
طائر سے قانا کے لیے ہم نے جیسے ہی شہر چھوڑا اردگرد کی ہیبتناک خاموشی سے گھبرا کر ڈرائیور محمد نے گنگنانا شروع کر دیا۔ قانا میں امن فوج کے چار فرانسیسی نظر آئے جوگودام سے رسد لے جانے والے ٹرک کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایک موٹر سائئکل سوار بھی نظر آیا جس نے پہلے تو ہمیں شک بھرے انداز سے دیکھا اور پھر بتایا کے یہاں سے نوے فیصد لوگ جا چکے ہیں باقی دس فیصد ہیں جو شیلٹرز میں دبکے پڑے ہیں۔ قانا سے واپس ہم دوبارہ طائر کی طرف جا رہے تھے لیکن وہاں رکے بغیر نباتیا جائیں گے جہاں گزشتہ دنوں خاصی بمباری ہو چکی ہے۔ راستے میں ایک خاندان گھر کے باہر بیٹھا نظر آیا۔ مرد کا نام نعمان اسیری ہے۔ میں اس سے پوچھتا ہوں: کیا کرو گے، یہیں رہو گے کیا؟ ’کہاں جاؤں؟ میں فلسطینی ہوں، بیروت تو جانے سے رہا، اب یہاں سے یا تو آگے جاؤں گا یا پھر یہیں رہوں گا‘ اس نے جواب دیا۔ ٭٭٭ نباتا شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہبوش کا گاؤں نظر آیا۔ ایک ورکشاپ کھلی ہوئی تھی۔ اس کے مالک احمد رومین نے بتایا کہ انہیں یا ان کے گاؤں میں رہنے والے ڈیڑھ سو خاندانوں کو خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انجیر، ٹماٹر اور سبزیاں وغیرہ سب وہ اگاتے ہیں بس گوشت، پنیر اور چینی کی کمی ہے۔ احمد رومین نے بتایا کہ نباتیا میں ہمیں سرکاری ہسپتال ضرور جانا چاہیے۔ ان کے مشورے پر حرف بہ حرف عمل بھی کیا گیا۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر حسن احمد سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں گزشتہ ہفتے کے دوران بتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جو شدید زخمی تھے۔ جب کہ ڈیڑھ سو کا علاج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں، آلات اور دواؤں کی شدید کمی ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ریڈ کراس کی ایمبولنسیں بھی دور دراز سے مریضوں کو یہاں تک لانے میں قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کے ہسپتال کے مردہ خانے میں پانچ لاشوں کی گنجائش ہے لیکن جو لوگ مر جاتے ہیں ان کے اہلِ خانہ انہیں یہاں سے لے جا نہیں پاتے، ان کی لاشیں سڑنے لگتی ہیں، اس لیے ہسپتال کے پیچھے ہی دفن کر دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر حسن سے بات کرتے ہوئے مجھے طائر میں ریڈ کراس کے ترجمان اولا ہیکن سے کی ہوئی وہ گفتگو یاد آ گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان کے دیہاتوں میں اب ایسی بہت سے لاشیں پڑی ہیں جن کی تدفین نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے اہلِ خانہ خود شیلٹرز میں ہیں۔ ان کے پاس پانی نہیں ہے کیونکہ بجلی نہیں ہے اور بجلی اس لیے نہیں ہے کہ بجلی گھر پر بم مارے جا چکے ہیں۔ نباتیا سے واپسی پر ہماری گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا۔ ایک جگہ ڈرائیور محمد نے ایک پٹرول پمپ مالک سے بات کی اور اس نے رحم کھاتے ہوئے ہمیں اپنی کار کے لیئے بچا کر رکھا ہوا دس لیٹر پیٹرول دے دیا۔ اس وقت پورے جنوب میں کوئی پٹرول پمپ کھلا ہوا نہیں ہے۔ لہذا وہ سینکڑوں گاڑیاں بیروت کی جانب رواں دواں ہیں ان میں سے کتنی منگل کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے علاقے سے نکل پائیں گی، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||