لبنان پر بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کو چار ہفتے ہونے والے ہیں۔ بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان لبنان میں ہیں جہاں سے وہ اس جنگ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کررہے ہیں اور ان کے مراسلے سیربین میں سنے اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر پڑھے جاسکتے ہیں۔ نیچے انہوں نے ہمارے پڑھنے اور سننے والوں کے سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔
کیا اسرائیل اس بار لبنانیوں کی روح کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ وسعت: ایک مقامی شہری سے میری بات ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ اس بار اسرائیل چڑھا چڑھا سا لگ رہا ہے اور غصے میں بھی ہے تو اس نے کہا ’دیکھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو قوم سولہ سال کی خانہ جنگی میں دو لاکھ آدمی مروا کے زندہ رہ سکتی ہے، جو انیس سو بیاسی کا محاصرہ جھیل سکتی ہے، وہ بار بار زخمی تو ہوسکتی ہے لیکن اسے کوئی مار نہیں سکتا۔
کیا اس جنگ کے شروع ہونے سے عربوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھی ہے؟وسعت: اسرائیل کے بارے میں تو عرببوں کی اکثریت کے جذبات تقریباً یکساں ہی رہے ہیں۔ اصل میں تو امریکہ سے نفرت اور کم نفرت کے گراف میں تبدیلی آتی ہے۔ عرب اب جب اسرائیل سے زیادہ جب ردًِعمل کا اظہار ہو تو امریکہ کی بات کرتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ جو کچھ کرتا ہے، امریکہ کرتا ہے۔ ہر اس طرح کے واقعے کے بعد امریکہ سے نفرت بڑھ جاتی ہے۔
لبنان میں تو بہت سے مذاہب ہیں، تو کیا یہ جنگ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جنگ تصور کی جا رہی ہے؟وسعت: نہیں، جب خانہ جنگی ہوئی تھی تو اس میں تو ہم سنتے تھے کہ شیعہ ملیشیا، سنی ملیشیا، دروز ملیشیا، عیسائی ملیشیا اور عیسائی ملیشیا میں فلانجسٹ ملیشیا (کے نام)۔ اس میں تھا کہ لبنان فرقوں اور گروہوں میں بٹا ہوا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ ان حملوں کے بعد صورتِ حال ایک طرح کی قوم پرستی میں بدل گئی ہے۔ لبنان کی حکومت حزب اللہ کی حمایت کررہی ہے اور اس کی ایک وجہ بھی ہے کہ لبنان کی نہ تو اپنی ائیرپورٹس ہیں، نہ نیوی ہے اور جو فوج ہے، وہ تقرباً پولیس کے کام کرتی ہے، لڑائی کا اس کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ جو واحد گروہ مدافعت کررہا ہے، وہ حزب اللہ ہے۔ تو حزباللہ اب قوم پرستی کا آیینہ بن گئی ہے۔ اس لیے میں نے جن جن سے بھی بات کی، ان میں سے کوئی بھی حزب اللہ کے خلاف نہیں تھا۔
| کامران تھاور، لاہور، گلبرگ: |
کیا یہ جنگ دراصل لبنان کی سرزمین پر ایران اور امریکہ کے درمیان لڑی جارہی ہے؟وسعت: دیکھیے یہاں بیٹھ کر تو یہ بالکل احساس نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ ہر لڑائی میں بیرونی عوامل تو اثرات رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے تو حزب اللہ کے پیچھے ایران ہے اور شام بھی لیکن لڑائی تو یہیں کے لوگوں کو ہی لڑنی پڑتی ہے۔ پھر یہاں کے لوگوں کے اپنے اپنے بھی قوم پرستی کے کچھ مسائل ہیں۔ اس میں اگر ایران اور شام نہ بھی شامل ہوں تو بھی یہ مسئلے رہیں گے۔ مثلاً اسرائیل کا ہمسایہ ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے یہاں کے لوگوں کے لیے، ایک ایسے ملک کے لیے جہاں فوج نہ ہو۔ یا ہر دس سال بعد اس ملک کا کسی نئے چکر میں پھنس جانا ایک شدید مسئلہ ہے۔ تو پیرونی محرکات ایک حد تک تو اثرانداز ہوسکتے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف ایران یا شام کی جنگ یہاں لڑی جارہی ہے۔
| شاہد خان لودھی، قاسم بیلہ، ملتان: |
کیا حزب اللہ میں اتنی طاقت بچی ہے کہ اسرائیل سے لڑ سکے؟وسعت: دیکھئے حزب اللہ اور اسرائیل میں کوئی مقابلہ نہیں، ایک روایتی طاقت ہے اور دوسری چھاپہ مار۔ ہاں یوں مقابلہ ہوسکتا ہے جیسے ویت کانگ تھے اور امریکہ تھا۔ اگر بظاہر دیکھا جائے تو امریکہ کے آگے ویت کانگ کیا چیز ہے۔ تقریباً اسی طرح کی (ویت کانگ جیسی) حکمتِ عملی حزب اللہ نے بھی وضع کررکھی ہے۔ اسرائیل کا یہ دعویٰ اپنی جگہ کہ تقرباً سات سو راکٹ لانچرز تباہ کردیئے گئے ہیں اور اگر حزب اللہ کے صرف دو ہزار لوگ ہیں ابھی اور کتنے راکٹ لانچرز حزب اللہ کے پاس ہیں کہ جن روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو راکٹ فائر ہورہے ہیں؟ باقی اگر آمنے سامنے آجائیں تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے حزب اللہ اور اسرائیل کا۔
لبنان کا کیا حال ہے اور لبنانیوں کا مورال کیسا ہے؟ حزب اللہ کی طاقت کیا ہے اور لبنانیوں میں اس کی کتنی حمایت موجود ہے؟ کیا آپ کے کوئی ایسے سوالات ہیں جو آپ وسعت اللہ خان کو بھیجنا چاہیں تو ہمیں بائیں طرف لگے ای میل فارم کے ذریعے لکھ بھیجیں۔ |