’میں کیوں بچ گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات، تیرہ جولائی دلال انڈسٹریز مشرقی لبنان کی وادی بقاع میں ایک ہندوستانی گجراتی خاندان کی ملکیت ہے۔ اس فیکٹری میں عمارت سازی کا پری فیبریکیٹڈ میٹریل تیار ہوتا ہے۔ چار سو ورکر کام کرتے ہیں۔ فیکٹری کے مال کے خریداروں میں عراق اور افغانستان میں موجود امریکی فوج بھی شامل ہے۔ دلال انڈسٹریز سے چند میل دور چیونگم بنانے والی فیکٹری ہے۔ اس کے پاس اتنے آرڈرز ہیں کہ اس کے کارکن ہفتے کے سات دن، چوبیس گھنٹے تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ لیبان ڈیری ایک ایسا نام ہے جس سے لبنان کے ہر گھر کا کچن واقف ہے۔ دودھ، دہی، مکھن، ٹیٹرا پیک لسی، پنیر، غرض دودھ کی ایسی کونسی مصنوعات ہیں جو لیبان ڈیری کے چھ سو کارکن تیار نہیں کرتے۔ ملیبان گلاس ورکس یوگنڈا سے نکالے جانے والے ہندوستانی نژاد منو بھائی مدھوانی کی ملکیت ہے۔ ملیبان لبنان میں شیشے کی مصنوعات بنانے والا سب سے بڑا نام ہے۔
کوکا کولا کی بوتل کا آرڈر بھی ان کے پاس ہے۔ ملیبان کا مال شام، اردن، ترکی اور مصر تک جاتا ہے۔ تقریباً سو ملین ڈالر سالانہ کا بزنس کرنے والی اس فیکٹری کے چار سو کارکنوں میں لبنانی شیعہ، سنی اور عیسائی سب ہی شامل ہیں۔ کمپنی نے انہیں قریب ہی گھر بھی بنا کر دے رکھے ہیں۔ کئی ٹرک اور مال لادنے والے مزدور ہر وقت فیکٹری کے احاطے میں نظر آتے ہیں۔ ٹرانس میڈ لبنان کی سب سے بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے۔ اس کے گودام جنوبی بیروت میں ہیں۔ اس کے پاس پراکٹر اینڈ گیمبل سمیت کئی بین الاقوامی کمپنیوں کی مصنوعات کی ڈسٹری بیوشن کا بزنس ہے۔ ٹرانس میڈ کا سالانہ ٹرن اوور تیس ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اتوار، چھ اگست آپ نے ابھی ابھی جن صنعتی یونٹوں کا تعارف پڑھا یہ آج بھی اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ مگر ملبے، مڑے تڑے ڈھانچوں، بکھری ہوئی مشینری اور جلی ہوئی مصنوعات کی راکھ کے سلگتے ڈھیر کی شکل میں۔
اسرائیلی فضائیہ کے ریکارڈ میں یہ سب اور ان کے علاوہ فروٹ اور سبزیوں کی پیکنگ کے درجنوں صنعتی یونٹ حزب اللہ کا گڑھ تھے۔ ملیبان گلاس ورکس کا شفٹ مینجر صالح بارک اب بھی روزانہ فیکٹری کے ملبے کا ایک چکر ضرور لگاتا ہے۔اس کی سمجھ میں اب تک نہیں آیا کہ وہ ہنسے یا پھر روئے۔ ’میں کبھی کبھی ہنستا ہوں یہ سوچ سوچ کر کہ خدا نے زندگی بچالی۔ پھر میں یہ سوچ کر رونے لگتا ہوں کہ سب تباہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں بچ گیا‘۔ |
اسی بارے میں امریک خان کی سادہ سی کہانی05 March, 2006 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم کونڈولیزا رائس کو کون سمجھائے؟23 July, 2006 | قلم اور کالم گرو دکھشنا پیش کیجیئے30 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||