مچھیرے اب کیا کریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے علاقے طائر کی موجودہ زبوں حالی سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔بس یوں سمجھ لیجئے کہ اب سے ڈھائی ہزار برس پہلے جب بابل کی سلطنت فوجی قوت کے لحاظ سے اپنے دور کا امریکہ تھی تو بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر طائر کی فونیقی سلطنت اس دور کا جاپان تھی۔ یہ سلطنت اتنی خوشحال اور فارغ البال تھی کہ طائر کے تاجر اور ملاح سمندر کے شہزادے کہلاتے تھے۔جب حضرت سلیمان علیہ سلام یروشلم کے بادشاہ تھے تو طائر کے بادشاہ جیروم نے ہیکلً سلیمانی کی تعمیر کے لیئے عمارتی کاریگروں کی ایک جماعت اور سیدار کی لکڑی کی بھاری مقدار یروشلم روانہ کی تھی اور حضرت سلیمان کے وارثوں نے اس کے بدلے ڈھائی ہزار سال بعد طائر کے لیئے کئی مرتبہ فضا سے کلسٹر بموں اور سمندر کے راستے میزائیلوں کی سوغات بھیجی۔ بائیبل میں دو جگہ کے مچھیروں کا تذکرہ آیا ہے۔گلیلی اور طائر کے مچھیرے۔ گلیلی تو میں جا نہیں سکا لیکن طائر کے مچھیروں سے ملاقات خوب رہی۔سمندر کے یہ شہزادے پچھلے چالیس دن سے اسرائیلی بحری ناکہ بندی کے سبب بالکل فارغ ہیں۔ سارا سارا دن تاش کھیلتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں اور کچھ لوگ کوک کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل میں ٹھرا بھر کے سمندر کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ماہی گیر ابراہیم کے بقول ناکہ بندی نہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ صرف اسکی بحری حدود ہیں۔لبنان کی کوئی بحری حدود نہیں ہیں۔وہ بات بے بات ماہی گیروں کو پکڑ کے لے جاتے ہیں۔پیٹتے ہیں۔بھوکا رکھتے ہیں۔بند کردیتے ہیں۔کچھ کو خود ہی چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ کو اقوامِ متحدہ یا ریڈ کراس والے بھاگ دوڑ کرکے چھڑوا لیتے ہیں۔
ایک اور ابراہیم نے بتایا کہ اسکے بازو پر انیس سو اکانوے میں اسرائیلی بحریہ کی ایک کشتی والوں نے اس لیئے گولی ماردی کیونکہ اس نے ان سے یہ پوچھ لیا تھا کہ وہ لبنانی سمندر میں کیا کررہے ہیں۔ابراہیم سال بھر تک اپنے بازو کا علاج کرتا رہا۔ چوبیس سالہ غسان نے یہ کہانی سنائی کہ کوئی پندرہ برس پہلے جب میں بچہ تھا اپنے باپ کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے گیا۔اچانک ایک اسرائیلی گن بوٹ نمودار ہوئی۔ دو تین فوجی ہماری کشتی میں کود گئے۔ہاتھ اوپر اٹھاؤ، ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔ہم دونوں نے اپنے ہاتھ سر پر رکھ لیئے۔انہوں نے ہماری کشتی کی تلاشی لی۔سوائے چند مچھلیوں کے کچھ نہیں تھا۔ایک فوجی نے جاتے جاتے کہا۔میں تم پر تھوک بھی سکتا ہوں اور اجابت بھی کرسکتا ہوں۔یہ واقعہ میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔یہاں ہر آدمی کی یہی کہانی ہے۔ہر آدمی کی۔۔۔۔۔۔ عادل فراس کا بیٹا محمد دس ماہ سے لاپتہ ہے ۔وہ ایک روز اپنی کشتی لے کر سمندر میں گیا تھا اور غائب ہوگیا۔چار پانچ روز بعد اسرائیلی کوسٹ گارڈز اس کی خالی کشتی لے کر آئے جس پر گولیوں کے سوراخ تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ کشتی ہماری حدود میں داخل ہوئی تھی۔ہم نے فائرنگ کی مگر اس میں کوئی نہیں تھا۔میں نے ان سے پوچھا تو کیا جنات بھی اب ماہی گیری کرنے لگے ہیں۔ اسرائیلی بغیر جواب دئیے واپس چلے گئے۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ محمد انکی قید میں ہے۔میں نے اقوامِ متحدہ کے نمائندے، انسانی حقوق کی تنظیموں اور لبنانی صدر لاہود تک سے اپیل کی ہے کہ میرے بیٹے کی بازیابی میں مدد کریں لیکن اب تک کچھ نہیں ہوسکا۔سئید حسن نصراللہ نے البتہ محمد کا نام ان قیدیوں کی فہرست میں ڈال دیا ہے جو وہ اسرائیل سے چھڑوانا چاہتے ہیں۔ مجھے طائر کے مچھیروں کی داستان سنتے سنتے ہندوستان اور پاکستان کے مچھیرے یاد آگئے جنہیں دونوں ملک سینکڑوں کی تعداد میں پکڑتے رہتے ہیں تاکہ بعد میں ایک دوسرے کے لیئے خیرسگالی کا جذبہ ظاہر کرنے کی خاطر ان مچھیروں کو فاختاؤں کی طرح چھوڑ سکیں۔ اگر طائر کے مچھیرے اسرائیلیوں کی پکڑ دھکڑ سے تنگ ہیں تو جنوبی بیروت کی ماہی بندر اوزے کے مچھیرے اپنی کشتیوں کی تباہی اور سمندر میں تیل کی آلودگی کے سبب نوحہ خواں ہیں۔اوزے کی ماہی بندر پر کھڑی ہر کشتی کو اسرائیلی طیاروں نے جنگ کے دوسرے ہفتے میں بمباری کرکے تباہ کردیا۔
میں جب اوزے کی فشنگ پورٹ پر پہنچا تو لبنیز یونین آف پروفیشنل ڈائیورز کے چھ غوطہ خور رضا کارانہ طور پر پانی میں سے ٹوٹے ہوئے ڈھانچے، انجن اور دیگر الا بلا نکال رہے تھے۔اور وہ بھی اس پانی سے جو ہزاروں ٹن آلودہ تیل سے سیاہ ہوچکا ہے۔اسرائیل نے پندرہ جولائی کو سیدون کے قریب جئیہ کے بجلی گھر پر حملہ کیا تھا اور تیل کے زخیرے کو تباہ کردیا تھا۔اب تک تیس ہزار ٹن تیل سمندر میں پھیل چکا ہے اور لہریں اسکی آلودگی کو قبرص ، شام اور جنوبی ترکی کے ساحل تک لے گئی ہیں۔خود لبنان کے سوا دو سو کیلومیٹر طویل ساحل میں سے کوئی ڈیڑھ سو کیلومیٹر چکنا سیاہ ہوچکا ہے۔ ایک غوطہ خور علی مقداد نے بتایا کہ وہ سنیچر کی دوپہر تک پانی میں سے چودہ بڑی اور ستائیس چھوٹی کشتیوں کے ڈھانچے نکال چکے ہیں۔جبکہ کوئی چارسو کے لگ بھگ چھوٹی بڑی کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہی میں سے ایک کشتی بسام کی بھی تھی۔جس نے انگلیوں پر حساب کتاب لگا کر بتایا کہ معمولی کشتی پر بھی کم ازکم سات ہزار ڈالر کی لکڑی لگتی ہے۔تین ہزار کا انجن آتا ہے۔تین ہزار کا جال اور مچھلی پکڑنے کا سامان آتا ہے اور پانچ سو ڈالر صرف رنگ پر خرچ ہوتے ہیں۔ہم سب کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔باقی کسر اب بینک اور قرضہ دینے والے دیگر لوگ نکالیں گے۔ سمیر ال زین بڑی حسرت سے اس کرین کو دیکھ رھا تھا جو اسکی کشتی کا لاشہ پانی میں سے نکال رہی تھی۔اس نے کمر پر ہاتھ رکھے رکھے بتایا کہ تیل نے ان سب مچھلیوں کا صفایا کردیا جو ہمیں پکڑنی تھیں۔اب اگر ماہی گیری کی اجازت مل بھی جائے تو کم از کم پانچ، چھ مہینے سے پہلے کوئی مچھلی ہاتھ نہ آئے گی۔تیل نے پانی کا وہ ستیا ناس کیا ہے کہ میں ایک دفعہ پانی میں اترا ہوں اور پورے جسم پر آبلے پڑ گئے۔یہ دیکھو۔سمیر نے پیچھے سے اپنی قمیض اٹھا دی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ لبنانی ساحل کی صفائی پر ڈیڑھ سو سے دو سو ملین ڈالر تک اخراجات آئیں گے۔ماحولیات کے لبنانی ماہرین کی انجمن نے کہا ہے کہ حکومت کو اقوامِ متحدہ کے توسط سے صفائی کا بل اسرائیل کو بھجوا دینا چاہئیے۔ |
اسی بارے میں جنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی 17 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے مارٹر فائر کیئے ہیں: اسرائیل 15 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی قرارداد منظور: حملے شدید 13 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||