BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 August, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان اسرائیل لڑائی: ناکامیوں کا اعتراف
جنرل ہالوٹس پر لڑائی سے قبل اپنے شیئرز بیچنے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے
اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹینٹ جنرل ڈین ہالوٹس نے عوامی سطح پر پہلی مرتبہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔

فوجی دستوں کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی نے فوج کے اندازوں، کارروائیوں اور احکامات میں پائی جانے والےعیب ظاہر کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔

جنرل ہالوٹس پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل سٹاک مارکیٹ میں اپنےتمام شیئرز بیچنے کے حوالے سے بھی تنقید کی جا رہی ہے تاہم جنرل ہالوٹس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔

اپنے خط میں ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں کامیابیوں اور غلطیوں کے ایک اہم امتحان سے گزرنا ہے۔ ہمیں اس سے پیشہ وارانہ سبق حاصل کرنے ہیں کیونکہ ہمیں مزید چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ امتحان ہم سب سے تعلق رکھتا ہے، مجھ سے لے کر فوج کے آخری سپاہی تک‘۔

حزب اللہ کے چار ہزار سے زائد راکٹ حملوں میں اسرائیل فوج کے 116 فوجی اور 43 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں 1200 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر شہری ملک کے جنوبی حصے پر قبضے اور بمباری کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا آغاز حزب اللہ کے ایک حملے میں اسرائیل کے دو فوجیوں کو اپنے قبضے میں لیے جانے کے بعد شروع ہوا۔ اس حملے میں آٹھ دیگر فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

لبنان کے ساتھ جاری لڑائی میں اسرائیل کے دو ہی بنیادی مقاصد تھے ایک یہ کہ حزب اللہ کے قبضے سے دونوں فوجیوں کی بازیابی اور دوسرا لبنان کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کے اثر کو کم کرنا۔

تنقید نگاروں اور لڑائی کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو کسی ایک مقصد میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

 لبنان کے ساتھ جاری لڑائی میں اسرائیل کے دو ہی بنیادی مقاصد تھے ایک یہ کہ حزب اللہ کے قبضے سے دونوں فوجیوں کی بازیابی اور دوسرا لبنان کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کے اثر کو کم کرنا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے لبنان میں لڑائی کے دوران اسرائیل کی فوجی کارروائی سے متعلق تحقیقات کے لیئے ’ڈیفنس منسٹری انکوائری‘ قائم کردی ہے۔

اس انکوائری کی سربراہی اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ لیپکن شاہاک کریں گے۔ انہوں نے تحقیقاتی کام کا آغاز کردیا ہے اور توقع ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایک عبوری رپورٹ پیش کریں گے۔

حزب مخالف کے رہنماؤں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیئے وزرات دفاع کے نہیں بلکہ ایک آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت چند دنوں میں اعلان کرنے والے ہیں کہ لڑائی کے بارے میں آیا کیا ریاستی کمیشن قائم کیا جائے یا نہیں۔

اسرائیلی لابی کا اثر
امریکہ میں اسرائیل کے حق میں مظاہرے
مشرق وسطیٰ کا بحران
تباہی کے باوجود حزب اللہ کے جنگجو مضبوط
حزب اللہ: اگلا قدم ؟
آنے والے ہفتوں میں اہم ترین سوال یہی ہوگا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد