لبنان اسرائیل لڑائی: ناکامیوں کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹینٹ جنرل ڈین ہالوٹس نے عوامی سطح پر پہلی مرتبہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔ فوجی دستوں کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی نے فوج کے اندازوں، کارروائیوں اور احکامات میں پائی جانے والےعیب ظاہر کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ جنرل ہالوٹس پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل سٹاک مارکیٹ میں اپنےتمام شیئرز بیچنے کے حوالے سے بھی تنقید کی جا رہی ہے تاہم جنرل ہالوٹس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔ اپنے خط میں ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں کامیابیوں اور غلطیوں کے ایک اہم امتحان سے گزرنا ہے۔ ہمیں اس سے پیشہ وارانہ سبق حاصل کرنے ہیں کیونکہ ہمیں مزید چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ امتحان ہم سب سے تعلق رکھتا ہے، مجھ سے لے کر فوج کے آخری سپاہی تک‘۔ حزب اللہ کے چار ہزار سے زائد راکٹ حملوں میں اسرائیل فوج کے 116 فوجی اور 43 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں 1200 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر شہری ملک کے جنوبی حصے پر قبضے اور بمباری کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا آغاز حزب اللہ کے ایک حملے میں اسرائیل کے دو فوجیوں کو اپنے قبضے میں لیے جانے کے بعد شروع ہوا۔ اس حملے میں آٹھ دیگر فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ لبنان کے ساتھ جاری لڑائی میں اسرائیل کے دو ہی بنیادی مقاصد تھے ایک یہ کہ حزب اللہ کے قبضے سے دونوں فوجیوں کی بازیابی اور دوسرا لبنان کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کے اثر کو کم کرنا۔ تنقید نگاروں اور لڑائی کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو کسی ایک مقصد میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے لبنان میں لڑائی کے دوران اسرائیل کی فوجی کارروائی سے متعلق تحقیقات کے لیئے ’ڈیفنس منسٹری انکوائری‘ قائم کردی ہے۔ اس انکوائری کی سربراہی اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ لیپکن شاہاک کریں گے۔ انہوں نے تحقیقاتی کام کا آغاز کردیا ہے اور توقع ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایک عبوری رپورٹ پیش کریں گے۔ حزب مخالف کے رہنماؤں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیئے وزرات دفاع کے نہیں بلکہ ایک آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت چند دنوں میں اعلان کرنے والے ہیں کہ لڑائی کے بارے میں آیا کیا ریاستی کمیشن قائم کیا جائے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان میں امن فوج بڑھانے کی کوشش23 August, 2006 | آس پاس ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ اور لبنانی ردِ عمل 19 August, 2006 | آس پاس لبنانی حکام، حزب اللہ قرارداد سے ناخوش06 August, 2006 | آس پاس لبنان: قصبے پر قبضہ، پیش قدمی مؤخر10 August, 2006 | آس پاس لبنان کی تباہ حال معیشت کی بحالی16 August, 2006 | آس پاس لبنانی فوجیوں کی تعیناتی شروع17 August, 2006 | آس پاس لبنان کے لیئے فوج بھیجنے کا وعدہ18 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||