اسرائیلی حملہ اور لبنانی ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے فائر بندی کے محض پانچ ہی دن بعد اقوام متحدہ کے تحت کیئے گئے معاہدے کی ’صریحاً خلاف ورزی‘ کی ہے۔ اسرائیل کے فوجی کمانڈوز جمعہ کی شب لبنان میں آپریشن کیا ہے جس میں اس کا ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد حزب اللہ کو ایران اور شام سے اسلحہ کی مبینہ منتقلی روکنا تھا۔بی بی سی کے نامہ نگار جان لائن کے مطابق اسرائیلیوں کو توقع سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ایک مقام پر تو جھڑپ اور فائرنگ کا تبادلہ دو گھنٹوں سے زیادہ دیر تک جاری رہا۔ فواد سینیورا نے کہا ہے کہ انہوں نے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے نمائندوں سے اس واقعہ کی شکایت کی ہے۔ تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی۔
حزب اللہ اور لبنان سکیورٹی فورس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمانڈو آپریشن وادی بقا کے مشرقی حصے میں کیا گیا اور اس دوران اس کے تین کارکن ہلاک ہوئے۔ یہ آپریشن بعلبک شہر کے مغربی حصے بدائی میں کیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ کارروائی کو جنگ بندی کے بعد پیش آنے والا پہلا بڑا واقعہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کارروائی سے چند ہی گھنٹوں قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے صورتحال کو ’نازک‘ قرار دیا تھا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیئے فرانس کے پچاس فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ لبنان کے ساحل نقورا پر پہنچا ہے۔ فرانس نے مزید دو سو فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ جلد از جلد تین ہزار پانچ سو کے قریب امن فوجی لبنان میں تعینات کرنا چاہتا ہے اور بعد ازاں ان کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچانے کا خواہاں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فرانس کے فوجیوں کی تعداد سے اُسے مایوسی ہوئی ہے اور وہ چاہتا ہے یورپ کے دیگر ممالک بھی لبنان کے لیئے اپنے فوجی بھیجیں۔ حزب اللہ کے ٹی وی کے مطابق کوئی سو کلو میٹر شمال میں اسرائیلی سرحد کی طرف سے اس کے کمانڈو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس علاقے میں داخل ہوئے تاہم انہیں حزب اللہ نے پیچھے دھکیلنے پر مجبور کردیا۔علاقے میں اسرائیل کی طرف سےمیزائل فائر کیئے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ اس سے قبل لبنان کے فوجی دستوں نے اسرائیل کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں کوئی چالیس ہزار لبنانی اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں۔ جنوبی لبنان لڑائی کا مرکز رہا ہے جہاں شدید بمباری کی گئی۔ لبنان کے شام نواز صدر نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں جنگ بندی کو اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی فتح سے تعبیر کیا اور کہا کہ وہ شیخ حسن نصراللہ کو سلام پیش کرتے ہیں ’جن کی بدولت نہ صرف لبنان بلکہ پوری عرب قوم کو کامیابی ملی‘۔ دوسری جانب امریکی صدر جارج بش نے ایک بار پھر حزب اللہ کو ایک ’عدم استحکامی قوت‘ کا نام دیتے ہوئےاس کی مذمت کی ہے۔ |
اسی بارے میں موجودہ قرار داد قبول نہیں: لبنان06 August, 2006 | آس پاس لبنان: تین روزہ جنگ بندی کی تجویز10 August, 2006 | آس پاس لبنان میں جنگ بندی پیر سے: عنان13 August, 2006 | آس پاس لبنان کی تباہ حال معیشت کی بحالی16 August, 2006 | آس پاس لبنانی فوجیوں کی تعیناتی شروع17 August, 2006 | آس پاس شام، لبنان: ماحولیاتی بحران 17 August, 2006 | آس پاس لبنان کے لیئے فوج بھیجنے کا وعدہ18 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||