BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 August, 2006, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی حملہ اور لبنانی ردِ عمل
اسرائیل کے فوجی دستے جنوبی لبنان میں
لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے فائر بندی کے محض پانچ ہی دن بعد اقوام متحدہ کے تحت کیئے گئے معاہدے کی ’صریحاً خلاف ورزی‘ کی ہے۔ اسرائیل کے فوجی کمانڈوز جمعہ کی شب لبنان میں آپریشن کیا ہے جس میں اس کا ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد حزب اللہ کو ایران اور شام سے اسلحہ کی مبینہ منتقلی روکنا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان لائن کے مطابق اسرائیلیوں کو توقع سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ایک مقام پر تو جھڑپ اور فائرنگ کا تبادلہ دو گھنٹوں سے زیادہ دیر تک جاری رہا۔

فواد سینیورا نے کہا ہے کہ انہوں نے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے نمائندوں سے اس واقعہ کی شکایت کی ہے۔ تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی۔

بیروت
حملے کے مقام سے اسرائیلی چھاپے کی ’باقیات‘ ملی ہیں

حزب اللہ اور لبنان سکیورٹی فورس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمانڈو آپریشن وادی بقا کے مشرقی حصے میں کیا گیا اور اس دوران اس کے تین کارکن ہلاک ہوئے۔ یہ آپریشن بعلبک شہر کے مغربی حصے بدائی میں کیا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے حالیہ کارروائی کو جنگ بندی کے بعد پیش آنے والا پہلا بڑا واقعہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کارروائی سے چند ہی گھنٹوں قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے صورتحال کو ’نازک‘ قرار دیا تھا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیئے فرانس کے پچاس فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ لبنان کے ساحل نقورا پر پہنچا ہے۔ فرانس نے مزید دو سو فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ جلد از جلد تین ہزار پانچ سو کے قریب امن فوجی لبنان میں تعینات کرنا چاہتا ہے اور بعد ازاں ان کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچانے کا خواہاں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فرانس کے فوجیوں کی تعداد سے اُسے مایوسی ہوئی ہے اور وہ چاہتا ہے یورپ کے دیگر ممالک بھی لبنان کے لیئے اپنے فوجی بھیجیں۔

 اقوام متحدہ جلد از جلد تین ہزار پانچ سو کے قریب امن فوجی لبنان میں تعینات کرنا چاہتا ہے اور بعد ازاں ان کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچانے کا خواہاں ہے

حزب اللہ کے ٹی وی کے مطابق کوئی سو کلو میٹر شمال میں اسرائیلی سرحد کی طرف سے اس کے کمانڈو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس علاقے میں داخل ہوئے تاہم انہیں حزب اللہ نے پیچھے دھکیلنے پر مجبور کردیا۔علاقے میں اسرائیل کی طرف سےمیزائل فائر کیئے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

اس سے قبل لبنان کے فوجی دستوں نے اسرائیل کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں کوئی چالیس ہزار لبنانی اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں۔ جنوبی لبنان لڑائی کا مرکز رہا ہے جہاں شدید بمباری کی گئی۔

لبنان کے شام نواز صدر نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں جنگ بندی کو اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی فتح سے تعبیر کیا اور کہا کہ وہ شیخ حسن نصراللہ کو سلام پیش کرتے ہیں ’جن کی بدولت نہ صرف لبنان بلکہ پوری عرب قوم کو کامیابی ملی‘۔

دوسری جانب امریکی صدر جارج بش نے ایک بار پھر حزب اللہ کو ایک ’عدم استحکامی قوت‘ کا نام دیتے ہوئےاس کی مذمت کی ہے۔

کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
اسرائیلی آپشنز
حزب اللہ کے میزائیل، اسرائیل کی شرمندگی
جنگ اور بچے
لبنان جنگ: متاثرین میں بچے آگے آگے
امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
ایہود اولمرتلبنان جنگ کے بعد
اسرائیلی وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد