موجودہ قرار داد قبول نہیں: لبنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نے سکیورٹی کونسل سے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متعلق قرارداد کے مسودے میں ترمیم کرے۔ اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نوہاد محمود نے کہا ہے کہ انہوں نے قرارداد کے مسودے میں ترمیم سکیورٹی کونسل میں داخل کر دی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے لبنان سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس سے چند گھنٹے پہلے لبنانی پارلیمنٹ کے بااثر سپیکر نبیہہ بیری نے کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی کے لیئے اقوام متحدہ کی مجوزہ قرارداد مسترد کرتا ہے کیونکہ اس قرارداد میں اسرائیلی فوجوں کے انخلاء کی بات نہیں کی گئی۔ لبنانی سپیکر شیعہ گروپ امل کے ایک رہنما ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تمام لبنانی ایسی کسی بھی قرارداد کو مسترد کر دیں گے جس میں تنازعے کے خاتمے کے لیئے لبنانی حکومت کی تجویز شامل نہ ہو۔ ان کے مطابق یہ تجویز فوری فائر بندی، لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کا انخلاء اور جنگی قیدیوں کے تبادلہ کے اقدام پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اسرائیل کے حق میں ہے اور اس میں صرف جنگ بندی کی بات کی گئی ہے لیکن جب تک اسرائیلی فوجیں لبنان میں ہیں ان پر حملے جاری رہیں گے۔ ادھر اسرائیل نے بھی کہا کہ جب تک اقوام متحدہ کی قراداد رو بہ عمل نہیں آتی وہ حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوجیں اس وقت تک جنوبی لبنان میں رہیں گی جب تک کے ایک بین الاقوامی فوج علاقے میں متعین نہیں ہوتی۔ سلامتی کونسل اس مجوزہ قرارداد پر ابھی مزید مذاکرات کرنے والی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||