لبنانی فوجیوں کی تعیناتی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنانی فوج جمعرات سے ملک کے جنوبی علاقوں میں دریائے لیطانی کے قریب اپنی پوزیشنیں سنبھالنا شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی فوج کئی پوزیشنیں اقوام متحدہ کی فوج ’یونیفل‘ کے حوالے کر چکی ہے لیکن اس نے یہ کہا ہے کہ لبنان سے مکمل انخلاء میں کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مرجایون کا علاقہ اور بنت جبیل کے کئی نواحی علاقے بھی یونیفل کے حوالے کر دیئے گئے ہیں لیکن بنت جبیل کے شہر پر تاحال اسرائیلی کنٹرول ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں بنت جبیل میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ لبنان کے 15 ہزار فوجی جمعرات سے ملک کے جنوبی علاقوں میں تعینات ہونے شروع ہوں گے۔ لبنانی کابینہ نے اس سلسلے میں ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ لبنان کے لیئے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم فواد سنئوریا نے کہا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا مقصد ملک کا دفاع کرنا ہے اور لبنانی حکومت کے حلقۂ اختیار کے باہر اسلحہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم اس بیان کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی یا پھر صرف یہ چاہتی ہے کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار اور اسلحہ کی نمائش نہ کرے۔ ادھر فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ فرانس لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی قیادت کرنے کے لیئے تیار ہے بشرطیکہ اس کا مینڈیٹ واضح ہو اور اس فوجیوں کی تعداد مناسب۔ |
اسی بارے میں امن فوج کی قیادت فرانس کرے گا16 August, 2006 | آس پاس امن فوج کی تشکیل پر مذاکرات16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||