شام، لبنان: ماحولیاتی بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے حکام لبنان اور شام کے 140 کلومیٹر کے ساحلی علاقے کو تیل کی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جعمرات کو یونان میں ہونے والے اجلاس میں یہ منصوبہ زیر غور لایا جائےگا کہ ساحلی علاقے پر تیل کو پھیلنے سے کیسے روکا جائے اور اسے صاف کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ اس اجلاس میں لبنان، شام، یونان، ترکی، اور یورپی یونین کے نمائنداگان کی آمد متوقع ہے۔ جولائی کے مہینے میں اسرائیلی فوج نے ایک پاؤر سٹیشن کو بمباری کا نشانہ بنایا تھا جس سے بحیرہ روم میں پندرہ ہزار ٹن تیل کا اخراج ہوا تھا۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث سمندری ماہرین تیل سے متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کر سکے تھے لیکن پیر کو ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کے بعد انہوں نے ساحلی علاقوں کا دورہ کرکے آلودگی کا اندازہ لگانا شروع کیا ہے۔ مقامی ماحولیاتی تحفظ کے گروپوں کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑی مقدار سمندر کی سطح تک پہنچ گئی ہے جس سے سمندر میں موجود ٹیونا مچھلی کی افزائشِ نسل خطرے میں ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ساحلوں پر موجود چکناہٹ کے باعث چھوٹے سبز کچھوؤں کا انڈوں سے نکلنے کے بعد سمندر تک پہنچنا مشکِل ہو گا۔ یونان کے شہر پیرائس میں ہونے والے اس اجلاس کی میزبان یونانی سمندر کے وزیر مانولس کیفالیونس ہوں گے اور اس میں لبنان اور شام کے ساحلی علاقوں میں آلودگی ختم کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی وضع کی جائے گی۔ اس ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ اس عافت کو ہمسایہ ملکوں کے ساحلوں تک پہنچنے سے کیسے روکا جائے۔
اجلاس کی صدارت اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ایگزیکٹر ڈائریکٹراکہم سٹینر اور بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل ایفتھمیوس مٹروپولس کریں گے۔ میٹروپولس کا کہنا ہے کہ ’ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہمیں اس آلودگی کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ علاقے میں موجود باقی ملکوں کی مدد کی جائے ’ تاکہ وہ اپنے ساحلی علاقوں کے پانیوں تک اس اخراج کو پہنچنے سے بچا سکیں۔‘ بین الاقوامی بحری تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق ان علاقوں کو آلودگی سے پاک کرنے کی حکمتِ عملی وضع ہونے کے بعد اس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں جنگ بندی قرارداد منظور: حملے شدید 13 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی پر عمل درآمد شروع14 August, 2006 | آس پاس لو ساحل بھی چلا02 August, 2006 | آس پاس لبنان میں’ماحولیاتی بحران‘01 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||