اسرائیلی وزیراعظم مشکل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کا لبنان جنگ کے بعد پوسٹ مارٹم عوامی سطح پر جاری ہے۔ اس وقت ایک انتہائی آسان اصول ہے: اگر آپ کے پاس کوئی بھی سرکاری عہدہ ہے امکان ہے کہ آپ اس جنگ کا آپ پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا ہے۔ یہ اصول اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت پر پوری طرح بیٹھتا ہے۔ ان کو جنگ کے دوران وزیراعظم کے طور پر اس کا وہ فائدہ نہیں ہوا جس کی وہ امید کر رہے تھے۔ یروشلم پوسٹ اخبار کے کالم نگار اموٹز آسایل کا کہنا تھا کہ ایہود اولمرت نے شاید یہ جنگ اس لیئے شروع کی کہ وہ فاک لینڈ وار میں مارگریٹ تھیچر کی طرح کامیاب ہونا چاہتے تھے۔ تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ اسرائیلی فوجی مہم وہ اہداف حاصل نہیں کر سکی ہے جس کے لیئے یہ جنگ شروع کی گئی تھی: ناتو اغوا فوجی برآمد ہوسکے اور نہ ہی حزب اللہ کو غیرمسلح کیا جا سکا۔ لبنان کے ساتھ سرحد پر واقعے کئی اسرائیلی قصبے جنگ کے دوران خالی ہوگئے تھے۔ لیکن اب لوگ واپس آئے ہیں لیکن وہ وزیراعظم سے خوش نہیں۔ سرحدی قصبے یرون کے رہائشی ادا سریمی کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں وہ جنگ میں پوری تیاری کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ ہم حق پر تھے مگر جب آپ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے لیئے پوری تیاری ضروری ہے‘۔ یہ وسیع ناراضگی ایہود اولمرت کے لیئے ایک دردِ سر ہے۔ وہ اس سال کے اوائل میں صرف ایل وعدے کی بنیاد پر منتخب ہوئے تھے کہ وہ ائریل شرون کے اس مشن کو پورا کریں گے جس کے تحت اسرائیل کی سرحدوں کا مستقل طور پر تعین کیا جانا تھا۔ شرون نے یہ عمل گزشتہ موسم گرما میں یکطرفہ طور پر غزہ کی پٹی سے انخلاء سے شروع کیا تھا۔ توقع تھی کہ اولمرت یہ کام آئندہ چند برسوں میں فلسطینی غرب اردن سے نخلاء کی صورت میں مکمل کریں گے۔ اب اسرائیلی مزید یکطرفہ انخلاء کے بارے میں کچھ ذیادہ پرامید نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کو پیر کے روز پارلیمان میں اراکین کو یہ باور کرانے میں دقت پیش آ رہی تھی کہ وہ درست سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ اس بابت اپنے حلیفوں سے بھی کچھ زیادہ حمایت کی توقع نہیں کر پا رہے۔ اب ظاہر ہو رہا ہے کہ اس پالیسی سے سیاستدان کیسے پیچھا چھڑا رہے ہیں جس کی بنیاد پر وہ منتخب ہوئے تھے۔ ایہود اولمرت کے قدیمہ پارٹی میں حلیف بھی اب کہہ رہے ہیں کہ ان کا اب مزید انخلاء کے تصور سے کچھ لینا دینا نہیں اور جو اس بارے میں سوچ رہا ہے وہ کافی پاگل ہے۔ اب ایک سوال جواب طلب ہے۔ ایہود اولمرت کو بطور وزیراعظم صرف تین ماہ ہوئے ہیں اور اس وقت اگر وہ اسرائیلی کی سرحدوں کا تعین نہیں کرسکتے تو باقی ماندہ دورے حکومت میں وہ کیا کریں گے۔ | اسی بارے میں ’ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور‘18 August, 2006 | آس پاس لبنان کے لیئے فوج بھیجنے کا وعدہ18 August, 2006 | آس پاس آنکھوں کا سفر18 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||