’ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والے اسلامی ممالک کے دستوں کی شمولیت کو تسلیم کرنا اس کے لیئے ’اگر ناممکن نہیں تو مشکل‘ ضرور ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈان گلرمین نے یہ بات انڈونیشیا اور ملائشیا کی جانب سے لبنان میں مجوزہ امن فوج میں شمولیت کے لیئے اپنے دستے بھیجنے کے اعلان کے بعد کہی۔ اسرائیل کے اس بیان کے جواب میں ملائشیا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کی تشکیل میں اسرائیل کو کچھ کہنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔ دوسری جانب جہاں لبنانی فوج کے دستے ملک کے جنوب میں پہنچ رہے ہیں وہاں علاقے میں گزشتہ ایک ماہ کی لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی تدفین بھی ہو رہی ہے۔ طائر کے قریب ایک قبرستان میں سے ایک سو اڑتیس لاشیں نکالی گئی ہیں تاکہ ان افراد کو باقاعدہ دفنایا جا سکے۔ اسرائیلی حملوں کے دوران ان لوگوں کو ایک عارضی اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا تھا۔ ادھر قانا میں، جہاں اسرائیلی طیاروں کے ایک حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے، مارے جانے والوں کے عزیز ا اقارب ایک اجتماعی تدفین کے لیئے جمع ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنگ بندی کے فیصلے کے بعد جب لبنانی فوجی دستے اسرائیلی سرحد کے قریب خیام کے قصبے میں پہنچے تو مقامی لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور اسے ایک مثبت علامت قرار دیا۔ ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک دو تہائی پوزیشنوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں جن میں ساحلی شہر طائر کے علاوہ قانا، حدثہ اور بیت یاہون کے قصبے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ دو سے تین ہفتے کے اندر ابتدائی طور پر ساڑھے تین ہزار فوجی لبنان میں تعینات کرنا چاہتی ہے۔ اقوام متحدہ کے نائب سربراہ کہہ چکے ہیں کہ امن فوج کی تعیناتی میں تاخیر سے جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ فرانس جس نے امن کی فوج کی قیادت کی حامی بھری تھی ابتدائی طور پر توقع سے بہت کم دو سو فوجی بھیج رہا ہے۔ فرانس کی حکومت کا کہنا ہےکہ امن کے اختیارات اور مِشن پوری طرح واضح نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں وضاحت چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ میں امن فوج کی تعیناتی کے بارے میں منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق اس کی فوج لبنانی فوج کے ساتھ مِل کر ملک کے جنوبی حصے میں امن کے قیام کو یقینی بنائے گی۔ اس سے قبل بیروت کا ہوائی اڈہ ایک ماہ کے قریب بند رہنے کے بعد مسافر پروازوں کے لیئے دوبارہ کھول دیا گیا تھا جبکہ لبنانی فوج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں دریائے لیطانی کے پار پوزیشنیں سنبھالنا شروع کر دیں۔ لبنان کی فوج انیس سو ساٹھ کے عشرے کے بعد پہلی بار ملک کے کچھ جنوبی حصوں میں داخل ہوئی۔ پہلے مرحلے میں دو ہزار لبنانی فوجی جو ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر سوار تھے جمعرات کو علی الصبح دریائے لیطانی عبور کر کے علاقے میں داخل ہوئے۔ مقامی آبادی نے لبنانی فوج کی آمد کا خیرمقدم کیا اور نعرے لگائے۔ خدیجہ نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ’خدا تمہاری حفاظت کرے ہم اپنی فوج کے سوا کسی کے حامی نہیں‘۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نصف پوزیشنیں اقوام متحدہ کی فوج ’یونیفل‘ کے حوالے کر چکی ہے لیکن اس نے یہ کہا ہے کہ لبنان سے مکمل انخلاء میں کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مرجعیون کا علاقہ اور بنت جبیل کے کئی نواحی علاقے بھی یونیفل کے حوالے کر دیئے گئے ہیں لیکن بنت جبیل کے شہر پر تاحال اسرائیلی کنٹرول ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں بنت جبیل میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ علاقوں کی حوالگی کا عمل آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ جاری رہےگا تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اسرائیل مکمل طور پر لبنان خالی کر دے گا۔ لبنانی کابینہ نے بدھ کو جنوبی لبنان میں پندرہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ لبنان کے لیئے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم فواد سنئوریا نے کہا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا مقصد ملک کا دفاع کرنا ہے اور لبنانی حکومت کے حلقۂ اختیار کے باہر اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لبنانی حکومت کے مطابق اب ریاست کے اندر ریاست کی تشکیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اس بیان کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی یا پھر صرف یہ چاہتی ہے کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار اور اسلحہ کی نمائش نہ کرے۔ |
اسی بارے میں امن فوج کی قیادت فرانس کرے گا16 August, 2006 | آس پاس امن فوج کی تشکیل پر مذاکرات16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||